دلت شخص سے مار پیٹ، زبردستی گوبر کھلانے کا الزام؛ چھ ’گئو رکشکوں‘ پر معاملہ درج

1787932524 Cow Vigilante


مہاراشٹر کے جالنہ میں ایک دلت شخص کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے اور  زبردستی گوبر کھلانے کے الزام میں چھ نام نہاد ’گئو رکشکوں‘ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے متاثرہ شخص پر خریدے گئے بیل کو ایک مسلم قصاب کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا نے کا الزام لگایا تھا۔ معاملے میں اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

Cow Vigilante

السٹریشن: پری پلب چکرورتی

نئی دہلی: مہاراشٹر کے جالنہ میں پولیس نے ایک دلت شخص کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے اور ان کے منہ میں زبردستی گوبر ٹھونسنے کے الزام میں چھ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، ملزمین نے متاثرہ شخص پر خریدے گئے بیل کو ایک مسلم قصاب کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے حملہ کیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ مئی کے مہینے میں پیش آیا تھا، لیکن متاثرہ شخص نے اس وقت شکایت درج کرائی، جب مبینہ حملے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگا۔

تاہم، اس معاملے میں اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں شکایت کرنے والے پرمیشور سہاس ہوالے نے پولیس کو بتایا کہ وہ 23 مئی کو اپنے 11 سالہ بیٹے اور ایک واقف کار نارائن ماروتی کامبلے کے ساتھ دیول گاؤں راجا کی ہفتہ وار مویشی منڈی سے ایک بیل خرید کر جالنہ واپس آ رہے تھے۔

الزام ہے کہ کنہیا نگر علاقے میں ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ اس کے بعد اس گروہ نے خود کو بجرنگ دل کا رکن اور گئو رکشک بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ ہوالے اس بیل کو ایک مسلم قصاب کو فروخت کرنے جا رہے ہیں۔

ہوالے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس الزام کی تردید کی اور بیل کی خریداری سے متعلق دستاویزبھی دکھائے۔ اس کے باوجود ملزمین نے ان کا نام اور ذات پوچھی، مبینہ طور پر ذات پر مبنی گالیاں دیں، ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور زبردستی ان کے منہ میں گوبر بھر دیا۔

ہوالے نے پولیس کو بتایا کہ ملزمین نے ان کے نابالغ بیٹے کے منہ میں بھی زبردستی گوبر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان کے ساتھ موجود نارائن ماروتی کامبلے کے ساتھ بھی مبینہ طور پر گالی گلوچ اور مارپیٹ کی گئی، جبکہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

شکایت کے مطابق، ملزمین میں سے ایک نے موبائل فون پر پورے واقعہ کا ویڈیو ریکارڈ کیا اور پولیس میں شکایت کرنے کی صورت میں ہوالے اور ان کے خاندان کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔

غور طلب  ہے کہ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر نشر ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد ہوالے نے گزشتہ 21 اگست کو جالنہ تحصیل پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

اس معاملے پر پولیس انسپکٹر سنتوش سابلے نے بتایا کہ شناخت کیے گئے چھ ملزمین کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 126(2) کے تحت غیر قانونی طور پر راستہ روکنے، دفعہ 115(2) کے تحت جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانے اور دفعہ 189(2) کے تحت غیر قانونی اجتماع کے علاوہ ایس سی ایس ٹی  ایکٹ کے تحت معاملہ  درج کیا گیا ہے۔

وہیں، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکرم سالی نے پی ٹی آئی سے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات ایک سب ڈویژنل پولیس افسر کر رہے ہیں اور اب تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں  نہیں آئی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ