غزہ — محصور فلسطینی علاقے غزہ میں ایک بے گھر خیمے کے اندر اپنی گڑیا کے پاس بیٹھی چار سالہ جملات دبان اپنے لئے ایک مصنوعی ٹانگ کی منتظر ہے، جو اسے دوبارہ چلنے، کھیلنے اور دوڑنے کے قابل بنا سکے۔ رواں سال مئی میں ایک قریبی خیمے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں اسے اپنی بائیں ٹانگ گنوانی پڑی، جس کے بعد اسے ایک ایسی زندگی گزارنی پڑ رہی ہے جہاں معمولی حرکت کیلئے بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
شمالی غزہ کے علاقے بیت لہیا میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والا یہ خاندان تب سے خیمے میں مقیم ہے۔ جملات کی والدہ رشا اسے گود میں اٹھاتی ہیں اور حرکت کرنے میں اس کی مدد کرتی ہیں۔ جملات نے ہاتھوں کے سہارے ریت پر خود کو گھسیٹنا سیکھ لیا ہے۔ رشا کے مطابق زخمی ہونے سے پہلے جملات "انتہائی متحرک بچی تھی جسے کھیلنا کودنا بے حد پسند تھا لیکن اب اس کے بچپن کے کئی حصے چھن چکے ہیں۔” رشا نے ۱۱ مئی کے حملے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ناشتے کے بعد خیمے میں بیٹھے تھے کہ اچانک پڑوسی خیمے پر براہ راست اسرائیلی حملہ ہوا اور جملات کی ٹانگ چلی گئی۔
خیمے میں وقت گزارنے پر مجبور جملات اکثر اپنے والد کے فون پر پرانی تصاویر دیکھتی ہے اور اس تصویر پر رُک جاتی ہے جس میں زخمی ہونے سے پہلے اس کی دونوں ٹانگیں صحیح سلامت تھیں۔ اس نے بار بار اپنی والدہ سے کہا ہے کہ وہ "اس کی ٹانگ واپس دلائیں” تاکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کھیل سکے، اور وہ ابھی تک پوری طرح یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ نقصان مستقل ہے۔ رشا نے کہا: "اس بچی نے ایسا کیا کِیا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہوا؟ اس کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ غزہ میں رہنے والی ایک بچی ہے۔”
غزہ کے ‘مصنوعی اعضاء اور فالج بحالی مرکز’ کے مطابق، وزارتِ صحت نے کٹاؤ کے۶۰۰۰؍سے زائد کیسز ریکارڈ کیے ہیں، جن میں تقریباً۲۵؍فیصد بچے ہیں۔ ناکہ بندی کے باعث مصنوعی اعضاء کی دستیابی شدید محدود ہے، اور اقوام متحدہ کے مطابق دسمبر۲۰۲۵ء سے اب تک غزہ میں صرف تقریباً۳۰۰؍مصنوعی اعضاء پہنچائے جا سکے ہیں۔

