تبت میں گلیشئیر گرنے سے بنی جھیل کا رقبہ سکڑ گیا نیا فلیش فلڈ آنے کا خطرہ ٹل گیا

news 1788022019 6423


(ویب ڈیسک) تبدت کے بلند ترین علاقہ میں گلیشئیر  کولیپس کے بعد بننے والی جھیل از خود سکڑ رہی ہے۔  اس امر کی تصدیق  ٹیکنیکل جائزہ سے ہوئی ہے۔  اس جھیل کے سکڑنے سے ایک اور فلیش فلڈ کا خطرہ ٹل رہا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے وزارت آبی وسائل کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی رکاوٹی جھیل (Barrier Lake)سائز میں کم ہو رہی ہے۔ تاہم، چینی حکومت کے جیوہیزرڈز کے ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ جھیل غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور پورے علاقے میں پھیلی ہوئی 100 سے زیادہ برفانی جھیلوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

چین کے ماہرین نے تبت میں حالیہ ڈیزاسٹر کے بعد جھیلوں کی صورتحال کا ٹیکنیکل سروے کیا ہے اس سے  یہ صرف ایک عمومی زمینی معائنہ نہیں تھا۔

حالیہ تبت-نیپال ڈیزاسٹر کے بعد سب سے اہم خطرہ برفانی تودے/گلیشیئر کے انہدام سے بننے والی نئی رکاوٹی جھیل barrier lake کا تھا۔اس جھیل سے ایک اور سیلاب جنم لے سکتا تھا۔  چینی حکام نے سیٹلائٹ تصاویر سے جھیل کے رقبے اور تبدیلی کو مانیٹر کیا۔ فضائی سروے اور تھری ڈی ماڈلنگ 3D modelling کی مدد سے اس  نئی بنی جھیل کا جائزہ لیا۔ ڈرون اور ریڈار سے مسلسل نگرانی جاری رکھی۔
جمعہ کو  اس جھیل کے ٹوٹ جانے سے سیلاب کا خطرہ بڑھنے پر ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیے گئے تھے، پھر فضائی جائزے اور تھری ڈی ماڈلنگ سے صورتحال نسبتاً مستحکم قرار دی گئی تو آپریشن دوبارہ شروع ہوا۔

آج کی سب سے اہم اپ ڈیٹ
آج چینی حکام کے مطابق وہ نئی جھیل خود  بخود کم ہو رہی ہے۔ جمعرات سے ہفتہ صبح تک اس کا  رقبہ تقریباً 21,000 مربع میٹر کم ہو کر 99,000 مربع میٹر رہ گیا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں جھیل کی تہہ کا کچھ حصہ بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا ہے۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ ابتدائی طور پر خدشہ تھا کہ جھیل کے سامنے بنا ملبے کا  قدرتی بند ٹوٹ گیا تو ایک دوسرا فلیش فلڈ  flash flood آ سکتا ہے۔

لیکن ایک اہم احتیاط ابھی باقی ہے: اوپر کی طرف ایک دوسری اور بڑی جھیل بھی دریافت  ہوئی ہے، جس کی گہرائی ابھی معلوم نہیں۔ چینی ماہرین اس پورے اَپ سٹریم upstream علاقے کی نگرانی کر رہے ہیں۔

news 1788022023 2369

ایک دلچسپ سائنسی پس منظر بھی ہے
یہ علاقہ پہلے ہی چینی ماہرین کے لیے گلیشئیل ہیزرڈ زون  glacial-lake hazard zone  (گلیشئیرز کے ٹوٹنے کے خطرات سے دوچار زون) کی حیثیت سے زیرِ مطالعہ تھا۔ مئی 2026 میں شائع ہونے والی ایک چینی تحقیقی سٹڈی نے جنوب مغربی تبت کی کوئینگ زونگ کی ک و Qiangzongke Co  جھیل کا تفصیلی سروے  کیا تھا، جس میں سیٹلائت امیج  اور انیس ہزار انڈر واٹر سائنڈنگ پوائنٹس  استعمال کیے گئے۔ اس تحقیق میں جھیل کا حجم تقریباً 38.6 ملین کیوبک میٹر  اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 80 میٹر  نکالی گئی تھی۔

 اب  چین کے پاس اس خطے میں جھیلوں کی میپنگ اور رسک اسیسمنٹ (گلیشئیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) کا باقاعدہ ٹیکنیکل انفراسٹرکچر موجود ہے تاہم صرف جانکاری کو کافی تصور نہیں کیا جا رہا کیونکہ کلائمیٹ چینج کے شدید اثرات سے پہلے اندازوں سے آگے بھی  اچانک کچھ بھی ہونا ممکن ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  نیپال ڈیزاسٹر میں فوت ہونے والوں کی تعداد مزید لاشیں ملنے کے بعد   676ہو گئی, +3000 لاپتہ 





Source link

متعلقہ پوسٹ