’میرے پاس جو تھا سب دے دیا‘: لیونل میسی انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائر

398137 1827046541


جولائی میں ورلڈ کپ کے فائنل میں ناکامی کے بعد، لیونل میسی نے انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے اور یوں ارجنٹائن کے لیے ان کا کیریئر اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔

شاید تاریخ کے سب سے عظیم کھلاڑی، میسی کو امید تھی کہ وہ اپنی ٹیم کو مسلسل دوسری بار ٹورنامنٹ جتائیں گے لیکن انہیں ایکسٹرا ٹائم میں سپین کے ہاتھوں ایک صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

39 سالہ کھلاڑی نے اپنے ملک کے لیے 207 میچ کھیلے، جو کسی بھی مرد انٹرنیشنل فٹ بولر کی جانب سے کھیلے گئے دوسرے سب سے زیادہ میچ ہیں۔ انہوں نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے کیریئر کے دوران 125 گول کیے۔

لیونل میسی نے بتایا کہ انہوں نے 19 جولائی کو ورلڈ کپ فائنل میں سپین کے خلاف ارجنٹائن کی شکست کے دو دن بعد ہی ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن پھر اپنے فیصلے کے اعلان میں تاخیر کی۔

پھر اگست میں لیونل میسی کے والد، خورخے میسی، ایک طویل علالت کے بعد 68 سال کی عمر میں اس وقت انتقال کر گئے جب ان کے بیٹے ورلڈ کپ کے بعد اپنے کلب انٹر میامی کے ساتھ میدان میں واپس آ چکے تھے۔

لیونل میسی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’فائنل کے بعد گزرنے والے وقت اور بہت سوچ بچار کے بعد، میں سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں قومی ٹیم سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس سے مجھے تکلیف ہوئی اور دل کی گہرائیوں میں اب بھی تکلیف ہوتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میرے پاس جو کچھ تھا میں نے دے دیا ہے۔ اب میرے پاس دینے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا، اور اس کے علاوہ، کچھ بہترین نوجوان کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں جو یہاں ہونے کے حقدار ہیں۔‘

ارجنٹائن کے ساتھ لیونل میسی کی کامیابی کا سب سے شاندار لمحہ 2022 میں آیا جب انہوں نے قطر میں فرانس کے خلاف ایک سنسنی خیز فتح کے بعد اپنی کپتانی میں اپنے ملک کو تیسرا ورلڈ کپ جتایا۔

2005 میں 18 سال کی عمر میں ارجنٹائن کے لیے اپنا سینیئر ڈیبیو کرنے کے بعد، میسی نے 2014 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی ارجنٹائن کی قیادت کی، جہاں برازیل میں ایکسٹرا ٹائم کے دوران انہیں جرمنی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میسی اس سے قبل 2016 میں 29 سال کی عمر میں ارجنٹائن سے ریٹائر ہو گئے تھے، جب کوپا امریکہ کے فائنل میں چلی سے شکست کے بعد انہیں اپنے ملک کے ساتھ مسلسل چوتھے بڑے فائنل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم لیونل میسی نے واپسی کی اور بالآخر 2021 کے کوپا امریکہ میں ارجنٹائن کے ساتھ ایک بڑا سینیئر ٹائٹل جیتا، جس کے بعد انہوں نے ورلڈ کپ اور پھر 2024 میں ایک اور کوپا امریکہ اپنے نام کیا۔

کیلیئن ایم باپے کے بعد یہ فارورڈ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دوسرے کھلاڑی کے طور پر اپنے کیریئر کا اختتام کر رہے ہیں، کیوں کہ اس ٹورنامنٹ کے دوران ان دونوں کھلاڑیوں نے میروسلاو کلوزے کے گولز کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

آٹھ بار بیلن ڈی اور جیتنے والے اور بارسلونا کے مایہ ناز کھلاڑی میسی نے میجر لیگ سوکر میں انٹر میامی کے لیے کھیلنا جاری رکھا ہوا ہے، اور انہوں نے ہفتہ کو مونٹریال کے خلاف 7-1 کی فتح میں چار گول کیے۔

لیکن لیونل میسی نے کہا کہ اپنے والد خورخے کی موت کے بعد انہیں ’یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے آگے بڑھیں۔‘

میسی اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے تھے کہ سپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی شکست سے انہیں ’شدید تکلیف‘ پہنچی ہے۔

ارجنٹائن کی ٹیم نے ایکس پر پوسٹ کیا: ’ہمیشہ کے لیے شکریہ، لیو۔ ہم اپنی زندگی کے آخری دن تک تم سے پیار کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انٹرنیشنل ریٹائرمنٹ پر لیونل میسی کا مکمل بیان

’فائنل کے بعد گزرنے والے وقت اور اس پر بہت سوچ بچار کے بعد، میں سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں قومی ٹیم سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔

’یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس سے مجھے تکلیف ہوئی اور دل کی گہرائیوں میں اب بھی تکلیف ہوتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے۔ میں آپ کو قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ اپنی پوری کوشش کی، نہ صرف گذشتہ چند سال میں جب ہم نے سب کچھ جیتا، بلکہ اس سے پہلے بھی؛ میں نے ہمیشہ اس جرسی کے لیے جدوجہد کی اور میدان میں اپنا سب کچھ پیش کر دیا، تاکہ میں آپ کو خوشیاں دے سکوں اور فٹ بال کے ذریعے آپ کو ارجنٹائنی ہونے پر فخر محسوس کرا سکوں۔

’وقت تیزی سے گزر رہا ہے، باب اپنے اختتام کو پہنچتے ہیں، اور یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس سے مجھے شدید تکلیف پہنچی ہے۔ مجھے قومی ٹیم کا حصہ رہنے سے پیار ہے، پیار تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ میرے پاس جو کچھ تھا میں نے دے دیا ہے۔ اب میرے پاس دینے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا، اور اس کے علاوہ، کچھ بہترین نوجوان کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں جو یہاں ہونے کے حقدار ہیں۔‘

’گذشتہ 20 سالوں میں اس تمام تر محبت کا شکریہ۔ میدان سے آپ کی آوازیں سننا مجھے بہت یاد آئے گا۔ اب میں بھی بس آپ میں سے ہی ایک ہوں گا، جو باہر سے حوصلہ افزائی اور حمایت کرے گا (اچھے اور برے حالات میں، خاص طور پر برے حالات میں۔)

’میرے خاندان کا شکریہ جو ہمیشہ میرے ساتھ کھڑا رہا، اور اس سفر میں میرا ساتھ دیا، جو جتنا خوبصورت تھا، اتنا ہی مشکل بھی۔ ہر اس کوچ، ساتھی کھلاڑی اور عہدیدار کا شکریہ جس کے ساتھ میں نے یہ سفر طے کیا۔ میں اپنے ساتھ ناقابل فراموش یادیں اور لمحات لے کر جا رہا ہوں۔

’میں اس ذہنی سکون اور فخر کے ساتھ جا رہا ہوں کہ میں نے، اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر، آپ کو وہ لمحات دیے جن کا ہم کبھی صرف خواب دیکھا کرتے تھے۔ آپ سب کے ساتھ ان لمحات کو جینا ایک شاندار تجربہ تھا۔ میں آپ سے پیار کرتا ہوں! خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ارجنٹائنی بنایا۔ آگے بڑھو، ارجنٹائن۔

’نوٹ کرلیں کہ میں نے یہ الفاظ فائنل کے دو دن بعد، 21 جولائی کو لکھے تھے۔ آج، میرے والد کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے بعد میرا یہ ارادہ پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہو گیا ہے۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ