راجیہ سبھا ممبراور بی جے پی لیڈر راگھو چڈھا کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے ایس آئی آر کے تحت پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ان کا نام نہیں ہے۔ چڈھا نے اس معاملے پر پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت پر ’سیاسی انتقام‘ کا الزام لگایا ہے۔ وہیں، پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن انجام دیتا ہے اور اس میں ریاستی حکومت کا کوئی رول نہیں ہوتا۔
راجیہ سبھا ممبر راگھو چڈھا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے ایس آئی آرکے تحت تیار کی گئی پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں راجیہ سبھا ممبرراگھو چڈھا کا نام شامل نہیں ہے۔
چڈھا 2022 میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے امیدوار کے طور پر راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے اور اس سال اپریل میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔
فہرست میں ان کا نام نہ ہونے کے معاملے پر سیاسی تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ چڈھا نے پنجاب کی عآپ حکومت پر ’سیاسی انتقام‘ کا الزام لگایا ہے۔ وہیں پنجاب حکومت کے ایک سینئر افسر اورعآپ نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن چلاتا ہے اور ریاستی حکومت کا اس میں ’کوئی رول نہیں‘ ہے۔
The AAP government in Punjab has now taken its politics of revenge to the Draft Electoral Rolls.
I am a sitting Rajya Sabha MP from Punjab, with my voter ID registered in Mohali, Punjab. Yet my name has been classified as “shifted” in the draft electoral rolls.
Thankfully,… pic.twitter.com/laAFAAWYiQ
— Raghav Chadha (@raghav_chadha) September 3, 2026
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 13 اگست کو شائع ہونے والی پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں چڈھا کا نام حذف کیے گئے لوگوں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ اے ایس ڈی ڈی لسٹ ہے، یعنی ایسے ووٹروں کی فہرست جنہیں ’غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ چڈھا کے نام کے سامنے وجہ ’مستقل طور پر منتقل‘لکھی گئی ہے۔
ایس آئی آر سے قبل پنجاب کے کل ووٹروں میں سے 20.66 لاکھ، یعنی 9.7 فیصد ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ چڈھا بھی ان میں شامل ہیں۔
پنجاب کی حتمی ایس آئی آر ووٹر لسٹ 12 اکتوبر کو شائع ہونے والی ہے۔ ڈرافٹ مرحلے میں جن افراد کے نام حذف کیے گئے ہیں، انہیں دوبارہ فہرست میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس کے لیے 13 اگست سے 12 ستمبر تک ایک ماہ کی مدت میں دعویٰ اور اعتراض درج کرتے ہوئے متعلقہ فارم جمع کرایا جا سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق، جب چڈھا سے پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے ان کا نام حذف کیے جانے اور اسے درست کرانے کے لیے ان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا،’پنجاب کی عآپ حکومت اب بدلے کی سیاست کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ تک لے آئی ہے۔ شکر ہے کہ یہ صرف ڈرافٹ ووٹر لسٹ ہیں، حتمی ووٹر لسٹ نہیں۔ ان کی نوعیت عارضی ہے اور ان پر دعوے اور اعتراضات کا عمل لاگو ہوتا ہے۔ میں پہلے ہی ایس آئی آر کے رہنما اصولوں کے تحت دستیاب طریقہ کار استعمال کرنے کے عمل میں ہوں۔ میں یقینی بناؤں گا کہ اکتوبر 2026 میں شائع ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں اس غلط درجہ بندی کو درست کر دیا جائے۔‘
چڈھا نے بتایا کہ گزشتہ سال جون میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی ایس آئی آر رہنما اصولوں میں کہا گیا تھا کہ عوامی نمائندوں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ 24 جون 2025 کو جاری کیے گئے تفصیلی رہنما اصولوں کے پیراگراف 4(ڈی) میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ڈیٹا بیس میں پہلے سے نشان زد عدلیہ کے ارکان، عوامی نمائندوں، اعلان کردہ عہدوں پر فائز افراد اور فن، ثقافت، صحافت، کھیل اور عوامی خدمت وغیرہ کے شعبوں سے وابستہ شخصیات کے تمام نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے چاہیے، تاکہ دعوے اور اعتراضات کی مدت کے دوران ضروری دستاویز بھی جمع کیے جا سکیں۔
چڈھا نے کہا،’میں پنجاب سے موجودہ ایم پی ہوں۔ اگر کسی وجہ سے میرے نام کو نشان زد کیا گیا تھا تو پیراگراف 4(ڈی) کے تحت میرا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کیا جانا ضروری تھا۔ اس ہدایت کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، بلکہ میرے معاملے میں جان بوجھ کر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ عآپ پنجاب کی حکومت چلا سکتی ہے، لیکن پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔‘
یہ کہتے ہوئے کہ پنجاب سے رکن پارلیامنٹ ہونے کے باوجود انہیں ’منتقل شدہ‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا، چڈھا نے کہا،’یہ محض دفتری غلطی معلوم نہیں ہوتی۔ یہ سیاسی انتقام کا واضح معاملہ ہے۔‘
پنجاب حکومت اور عآپ نے الزامات خارج کیے
چڈھا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے ایک سینئر افسر نے انڈین ایکسپریس سے کہا،’یہ الزامات پوری طرح جھوٹے ہیں۔ اس عمل میں پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای و) وہ افسر ہوتے ہیں جنہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا مقرر کرتا ہے۔‘
Raghav Chadha has been caught by a National Daily English Newspaper, trying to get his voter registration made in Delhi through a backdated process, and is now attempting to put the entire blame on the Aam Aadmi Party (AAP) and Punjab government.
SIR is conducted by the Election… https://t.co/gUpkSiDEbd
— AAP Punjab (@AAPPunjab) September 3, 2026
عآپ کے ایک ترجمان نے کہا،’ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن چلاتا ہے، ریاستی حکومت نہیں۔ لہٰذا یہ فیصلہ کرنے میں پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں کہ ووٹر لسٹ میں کس کا نام شامل کیا جائے یا کس کا نام حذف کیا جائے۔ عوامی ریکارڈ میں ہے کہ راگھو چڈھا دہلی میں رہ رہے ہیں، پنجاب میں نہیں۔ اگر وہ اب پنجاب میں نہیں رہتے تو اپنا ووٹر رجسٹریشن برقرار رکھنا یا اسے منتقل کرانا ان کی اپنی ذمہ داری تھی۔ اب وہ کسی ووٹر کا اندراج حذف کیے جانے کے لیے عآپ یا پنجاب حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔‘
پارٹی کے میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے ایک بیان میں کہا کہ چڈھا کو معلوم کرنا چاہیے کہ بی جے پی میں سے کون ان کا نام حذف کروانا چاہتا ہے۔’الیکشن کمیشن تو بی جے پی کے کہنے پر چلتا ہے۔ اگر ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایس آئی آر میں ووٹ کٹوا سکتی ہے تو بیس ریاستوں میں تو بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دہلی، اتر پردیش اور بہار میں جو لاکھوں ووٹ کٹ گئے، وہ بی جے پی کی حکومت کٹوا رہی ہے۔‘
#WATCH | Chandigarh | On BJP MP Raghav Chadha’s name marked as ‘Shifted’ in Punjab SIR draft rolls, AAP National Media In-charge Anurag Dhanda says, “… He should find out exactly which individual within the BJP orchestrated the deletion of his vote since the Election… pic.twitter.com/Pw9p8w8XWs
— ANI (@ANI) September 3, 2026
سال 2022 میں دہلی میں ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھے چڈھا
سال 2022 کے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں چڈھا نے اعلان کیا تھا کہ ان کا نام دہلی کے راجندر نگر کے بوتھ نمبر 52 میں ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھا۔
تاہم پنجاب سے راجیہ سبھا رکن بننے کے بعد چڈھا نے اپنا ووٹر رجسٹریشن پنجاب منتقل کرا لیا تھا۔ 1 جون 2024 کو ہوئے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے پنجاب کے ایس اے ایس نگر یعنی موہالی کے ایک پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈالا تھا۔
عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کی دفعہ 3 کے مطابق، راجیہ سبھا کا رکن بننے کے لیے امیدوار کا ملک کے کسی بھی پارلیامانی حلقے میں ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔
بدھ کو الیکشن کمیشن کے ووٹر سروسز پورٹل پر چڈھا کے ووٹر شناختی کارڈ سے متعلق تفصیلات کے ذریعے کی گئی تلاش میں دہلی اور پنجاب، دونوں مقامات پر ’کوئی نتیجہ نہیں ملا‘ دکھائی دیا۔
دہلی کی ڈرافٹ ایس آئی آر ووٹر لسٹ 31 اگست کو شائع کی گئی تھی۔ اس میں ایس آئی آر سے پہلے موجود ووٹروں کے 33 فیصد نام حذف کر دیے گئے ہیں۔
طریقہ کار پر سوال
واضح ہوکہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں غیر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں ایس آئی آر کے عمل میں ریاستی مداخلت کا الزام لگا چکی ہیں۔ اس سے قبل کرناٹک میں بی جے پی اور اس کی اتحادی ایچ ڈی کمارسوامی کی جماعت جنتا دل (سیکولر) (جے ڈی ایس) نے بھی ایس آئی آر کے عمل پر اعتراض کیے تھے۔
کانگریس کے کرناٹک انچارج اور راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے اس مخالفت کو بی جے پی اور این ڈی اے کا دوہرا رویہ بتایاتھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو سامنے آ کر کہیں کہ ایس آئی آر کا عمل غلط اور جمہوریت مخالف ہے، اور یہ بھی کہیں کہ یہ جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے اور پورے ہندوستان میں ایس آئی آر کو فوراً ختم کر دیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں جاری ایس آئی آر کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے ایس آئی آر کے تحت تیار کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹوں سے ملک بھر میں اندازاً 13.37 کروڑ نام حذف کیے گئے ہیں۔
مغربی بنگال اور بہار، دونوں ہی جگہوں پر ایس آئی آر کا عمل تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ مغربی بنگال میں 27 لاکھ ووٹر انتظار کرتے رہ گئے کیونکہ ووٹنگ سے محض دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے 19 عدالتی ٹریبونل نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے صرف 139 افراد کے ووٹ دینے کے حقوق بحال کیے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔

