کمزور اور سمجھوتہ شدہ نظام انصاف سے بدعنوانی، آمریت اور طاقتور طبقے کی حکمرانی کو فروغ ملتا ہے مالی لحاظ سے کمزور افراد انصاف میں تاخیر کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، فوجداری نظام انصاف طاقتور اور بااثرافراد کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوجاتا ہے، 34 سال پرانے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کا اہم فیصلہ

pic b8aec 1751569146.jpg. 2


کمزور اور سمجھوتہ شدہ نظام انصاف سے بدعنوانی، آمریت اور طاقتور طبقے کی حکمرانی کو فروغ ملتا ہے مالی لحاظ سے کمزور افراد انصاف میں تاخیر کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، فوجداری نظام انصاف طاقتور اور بااثرافراد کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوجاتا ہے، 34 سال پرانے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کا اہم فیصلہ































Source link

متعلقہ پوسٹ