جکارتہ
انڈونیشیا نے اناک کراکاٹوا آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل کے باعث اتوار کو پانچ ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کردیا، جن میں جکارتہ کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں۔
ہفتے کے روز آتش فشاں میں زوردار دھماکے کے دوران لاوا بھی نکلا، جس کی آواز تقریباً ۷۰۰ کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ اتوار کو مزید دو بار آتش فشاں پھٹنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ راکھ کے باعث بعض اسکولوں کی سرگرمیاں اور ماہی گیری بھی متاثر ہوئی۔
جکارتہ کے قریب سوئیکارنو-ہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف فضائی حدود میں راکھ کی موجودگی کا پتہ چلنے کے بعد حکام نے پروازوں کا آپریشن معطل کردیا۔ ہوائی اڈے کے آپریٹر انگکاسا پورا کے مطابق اس فیصلے سے ۳۰۱ پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں ۵۸ بین الاقوامی پروازیں شامل ہیں۔ سنگاپور ایئرلائنز نے اتوار کو جکارتہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس نے بھی متعدد پروازوں میں خلل اور منسوخی کی اطلاع دی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق تازہ ترین جانچ میں سوئیکارنو-ہٹا ہوائی اڈے کے علاقے میں آتش فشانی راکھ کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ جاوا کی جانب ۶ ہزار میٹر اور سماترا کی جانب ۱۵ ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچی، جبکہ صوبہ بنتن کے بعض علاقوں میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا۔
راکھ کے باعث ہفتے کو کئی اسکولوں نے سرگرمیاں منسوخ کردیں، کیونکہ طلبہ اور مقامی باشندوں کو آنکھوں میں جلن کی شکایت ہوئی۔ ماہی گیروں نے بھی سمندر میں جانے کے پروگرام منسوخ کردیے۔ قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی بی این پی بی نے بارش کرانے کے لیے اتوار کو موسم میں تبدیلی کی کارروائی، جس میں بادلوں پر مصنوعی بارش بھی شامل ہوسکتی ہے، شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ طیاروں کے لیے خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ جیٹ انجن کے گرم اندرونی حصوں پر جم کر ٹربائن بلیڈ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ایندھن و ہوا کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے، اور پائلٹوں کی ونڈ اسکرین کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

