مکہ معاہدے سے عام پاکستانی کیسے خوشحال ہوگا؟

311236 309332054


عام آدمی کے نقطۂ نظر سے مکہ معاہدے سے جڑا ایک سوال اہم ہے کہ ایک عام پاکستانی کے گھر، روزگار، کاروبار، تعلیم، علاج، سفر اور معاشی مستقبل میں کیا تبدیلی آئے گی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سلامتی کو مضبوط بنانے کا عزم کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔

عوام کو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ دفاع اور معیشت الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ جس ملک کو اپنی سرحدوں، شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر اعتماد ہو وہاں کاروبار بھی آتا ہے، صنعت بھی لگتی ہے اور روزگار بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر مکہ معاہدہ خطے میں جنگ کے امکانات کم کرنے اور پاکستان کے خلاف کسی ممکنہ جارحیت کو روکنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کا بالواسطہ فائدہ پاکستانی معیشت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ فائدہ خود بخود عوام کی جیب تک نہیں پہنچے گا اس کے لیے حکومت کو معاشی حکمت عملی بنانا ہوگی۔

روزگار کے حوالے سے سب سے بڑا موقع پاکستانی نوجوانوں کے لیے ہے۔ سعودی عرب کو تعمیرات، ٹیکنالوجی، صحت، انجینئرنگ، زراعت، توانائی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ترکی کے ساتھ صنعتی اور تکنیکی تعاون اس انسانی سرمائے کو مزید تربیت دے سکتا ہے۔ اگر تینوں ممالک مشترکہ تربیتی مراکز اور ہنرمندی کی تصدیق کا نظام قائم کریں تو پاکستانی نوجوان صرف مزدور کے طور پر نہیں بلکہ انجینئر، ٹیکنیشن، آئی ٹی ماہر، نرس، مینیجر اور کاروباری ماہر کے طور پر عالمی منڈی میں جا سکتے ہیں ابھی تک پاکستان دنیا بھر کو اپنے باصلاحیت نوجوان مزدور کی صورت میں فراہم کرتا ہے۔

یہاں حکومت کو ایک بنیادی غلطی سے بچنا ہوگا۔ پاکستانی نوجوانوں کو صرف بیرون ملک بھیجنا کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ان کی مہارت اور آمدنی میں اضافہ ہو، انہیں قانونی تحفظ حاصل ہو، ان کے روزگار کے معاہدے شفاف ہوں اور ان کی ترسیلات زر محفوظ اور کم لاگت کے ذریعے پاکستان پہنچیں۔ مکہ معاہدے کے تحت اگر باقاعدہ افرادی قوت اور ہنرمندی کا فریم ورک بن جائے تو پاکستان کے لیے یہ دفاعی معاہدے سے کہیں بڑا معاشی فائدہ ثابت ہوسکتا ہے۔

زرعی شعبہ بھی اس معاہدے سے غیر معمولی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت، پانی، غذائی تحفظ، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے تعاون پر بات ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی زرعی ماہرین کے سعودی عرب جانے اور ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بات بھی کی ہے۔ اگر اس تعاون کو عملی شکل دی جائے تو پاکستان اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ، پانی کے بہتر استعمال اور سعودی مارکیٹ میں پھل، سبزیاں، گوشت، چاول اور دیگر مصنوعات کی برآمد بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان کے دیہات کے لیے اس کا مطلب صرف برآمدات نہیں بلکہ نئی معیشت بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سعودی سرمایہ کاری پاکستان میں جدید کولڈ سٹوریج، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، آبپاشی اور زرعی ٹیکنالوجی میں آئے تو کسان کو اپنی پیداوار بہتر قیمت پر فروخت کرنے کا موقع ملے گا۔ آج ہمارا کسان اکثر فصل پیدا کرنے کے باوجود منافع کا بڑا حصہ درمیانی افراد کے ہاتھوں کھو دیتا ہے۔ ایک مربوط پاکستان سعودی زرعی منصوبہ اس سلسلے کو تبدیل کرسکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چھوٹے کاروبار اور متوسط طبقہ بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ تصور عام ہے کہ بڑے بین الاقوامی معاہدوں کا فائدہ صرف بڑے سرمایہ کاروں کو ہوتا ہے۔ مکہ معاہدے کو اس سوچ کو بدلنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ حکومت کو سعودی اور ترک کمپنیوں کے ساتھ ایسے پروگرام بنانے چاہیں جن میں پاکستانی چھوٹی اور درمیانی صنعتیں سپلائی چین کا حصہ بن سکیں۔ ٹیکسٹائل، چمڑے، کھیلوں کا سامان، آئی ٹی خدمات، ادویات، خوراک، تعمیراتی سامان اور حلال مصنوعات کے چھوٹے کاروبار اس تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

دفاعی صنعت میں پاکستان کے لیے ایک اور بڑا موقع موجود ہے۔ ترکی پہلے ہی ڈرونز، انسداد ڈرون نظام، الیکٹرانک جنگ، سینسرز، محفوظ مواصلات اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز میں اہم صلاحیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے بھی اس امکان کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کا تعاون مزید بڑھ سکتا ہے۔ اگر سعودی سرمایہ، ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی دفاعی پیداوار ایک مشترکہ صنعتی ماڈل میں آجائیں تو پاکستان صرف ہتھیار خریدنے والا ملک نہیں بلکہ دفاعی مصنوعات بنانے اور برآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔

لیکن عوامی فائدہ اسی وقت ہوگا جب دفاعی صنعت کے ساتھ سول ٹیکنالوجی بھی ترقی کرے۔ ڈرون ٹیکنالوجی زراعت میں استعمال ہوسکتی ہے، مصنوعی ذہانت صحت اور تعلیم میں، جدید سینسرز پانی اور توانائی کے انتظام میں، جبکہ سائبر سیکیورٹی کی ٹیکنالوجی بینکنگ اور سرکاری نظام کو محفوظ بنانے میں استعمال ہوسکتی ہے۔ دفاعی تحقیق سے پیدا ہونے والی غیر حساس ٹیکنالوجی کو یونیورسٹیوں اور نجی صنعت تک منتقل کرنا پاکستان کے لیے ایک نئی صنعتی معیشت پیدا کرسکتا ہے۔

پاکستانی طلبہ کے لیے بھی مکہ معاہدے کو موقع بنایا جاسکتا ہے۔ تینوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، وظائف، طلبہ کے تبادلے اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن پروگرام شروع کیے جاسکتے ہیں۔ اگر پاکستانی نوجوانوں کو ترکی کی انجینئرنگ، سعودی عرب کی سرمایہ کاری اور پاکستان کی انسانی صلاحیت کو ایک ہی فریم ورک میں جوڑنے کا موقع مل جائے تو یہ معاہدہ آنے والی نسل کے لیے زیادہ اہم ہوجائے گا۔

خواتین کے لیے بھی ایک مخصوص معاشی پروگرام بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی خواتین گھر بیٹھے آئی ٹی، ڈیزائن، دست کاری، فیشن، کھانے کی مصنوعات، تعلیم اور آن لائن خدمات کے ذریعے سعودی اور ترک مارکیٹ تک پہنچ سکتی ہیں۔ تینوں ممالک خواتین کاروباری افراد کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارم اور چھوٹے کاروباری قرضوں کا نظام بنا سکتے ہیں۔ اس طرح مکہ معاہدے کا فائدہ صرف ریاستی اداروں تک نہیں بلکہ پاکستانی گھروں تک پہنچ سکتا ہے۔

عوامی صحت بھی اس شراکت داری کا ایک اہم میدان بن سکتی ہے۔ سعودی عرب اور ترکی کی طبی سہولیات، پاکستان کے طبی ماہرین اور تینوں ممالک کی سرمایہ کاری کو ملا کر طبی تحقیق، نرسنگ، ٹیلی میڈیسن، ہسپتال مینجمنٹ اور طبی تعلیم کے مشترکہ منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ بغیر کسی اوورسیز رجسٹریشن امتحان کے پاکستانی ڈاکٹر اور نرسیں ان ممالک میں روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرسکتے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی جدید طبی مراکز اور تربیتی ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں اور ان ممالک کے لیے پاکستانی ڈگری کی قبولیت ہوگی ۔

سیاحت اور مذہبی سفر کا پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں پاکستانی شہریوں کے لیے اہم مقامات ہیں۔ اگر ویزا سہولت، فضائی رابطوں، سیاحتی پیکجز اور کاروباری سفر کے نظام کو بہتر بنایا جائے تو عوامی اور کاروباری روابط میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے مذہبی سیاحوں، طلبہ، تاجروں اور خاندانوں کے لیے آسان سفری انتظامات اس شراکت داری کو عوامی سطح پر محسوس ہونے والا فائدہ بنا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کامرس چیمبرز کو ویزہ فری داخلہ بھی ملنا چاہیے۔

پارلیمنٹ کا کردار بہت اہم ہے۔ قومی سلامتی کے حساس معاملات اپنی جگہ، لیکن جب کسی معاہدے کے معاشی اثرات، دفاعی اخراجات اور قومی ذمہ داریوں کی بات ہو تو پارلیمانی نگرانی ضروری ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ بڑے قومی فیصلے ان سے مکمل طور پر دور بند کمروں میں کیے جارہے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اور اہم موقع سفارتی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ سامنے آچکا ہے اور ابتدائی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل کی سربراہی کا اعلان ہوا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک سفارتی موقع ہے۔ اس لیے اس کا معاشی ترقی اور عام عوام کو کیا فائدہ ہوگا کیسے ہوگا اس پر عوام کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے اگر پاکستان اس ادارے کو محض دفاعی اجلاسوں کا دفتر بنانے کی بجائے امن، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل اور بحرانوں کے حل کا مرکز بناتا ہے تو اس کا عالمی اثر کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔

اگر حکومت یہ سب کچھ ایک مربوط قومی منصوبے میں تبدیل کرتی ہے تو مکہ معاہدہ صرف تین ریاستوں کا دفاعی سمجھوتہ نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے لیے معاشی اور انسانی ترقی کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ شاید یہ ہی اس معاہدے کا سب سے بڑا عوامی امتحان ہوگا کہ کیا یہ صرف ریاست کو زیادہ محفوظ بناتا ہے یا پاکستانی شہری کو بھی زیادہ محفوظ، زیادہ خوشحال، زیادہ بااختیار اور اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُرامید بناتا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ