وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں حالیہ آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کی اموات کے بعد عہدے سے الگ ہونے کے عوامی مطالبات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’استعفی میرے اور وزیراعظم کے درمیان کا معاملہ ہے۔‘
گذشتہ ماہ 26 اگست کو اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں مدر اینڈ چائلڈ ڈیپارٹمنٹ میں بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جان سے چلے گئے تھے۔
واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کیا تھا۔ دوسری جانب پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ عہدیداروں کو بھی معطل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ کے ساتھ ساتھ وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اسی سلسلے میں مصطفیٰ کمال سے خصوصی گفتگو کی، جن کا کہنا تھا: ’لوگ جو اخلاقی جرات کی بات کر رہے ہیں، اس سے متعلق میں نے بہت پہلے اقدامات کر لیے ہوں گے، لیکن یہ معاملہ میرے اور وزیراعظم کے درمیان ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کسی بھی دباؤ کے بغیر آزادانہ کام کر رہی ہے تاکہ واقعے کے اصل اسباب سامنے آ سکیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تحقیقات میں پیش رفت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کی آٹھ ابتدائی سفارشات پر 48 گھنٹوں میں 100 فیصد عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: ’آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم اس سلسلے میں فرانزک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا کسی مشینری میں خرابی کے باعث لگی۔‘
وزیر صحت نے بتایا کہ ذمہ دار عہدیداروں کو معطل کرنے کے بعد ان کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کے لیے وزارت داخلہ کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے اور اب پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے واقعے کے بعد لیے گئے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پمز کی عمارت 40 سال پرانی ہو چکی ہے، اس لیے سی ڈی اے اور ایک نجی فرم سے ہسپتال کا مکمل فائر سیفٹی اور سٹرکچرل آڈٹ کروایا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پمز میں گذشتہ 40 سالوں سے ہونے والی سیاسی بھرتیاں اور عدالتی حکم امتناعی اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔‘
انہوں نے تجویز دی کہ ہسپتال کو پیشہ ورانہ انداز میں چلانے کے لیے ایک خودمختار بورڈ بنایا جائے اور ملازمین کو سرکاری پے رول کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر کنٹریکٹ پر رکھا جائے۔
بقول مصطفیٰ کمال: ’صرف افسران کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پورے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک 20 رکنی اصلاحاتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔‘
وفاقی وزیر صحت نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) کی تعیناتی کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پمز کے ایکٹ کے مطابق ای ڈی اسی ہسپتال سے بنے گا۔
اس سوال کے جواب میں کہ آخری مرتبہ پمز کا فائر سیفٹی آڈٹ کب ہوا تھا؟ مصطفیٰ کمال نے کہا: ’مجھے علم نہیں، ای ڈی کو معلوم ہوگا۔ ہمارے پاس اس کی تفصیلات نہیں آتی۔ میرے پاس اس کی تفصیلات نہیں آتیں، جوائنٹ سیکرٹری کے پاس آتی ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ایک ماہ قبل پمز میں لگنے والی آگ کی خبر ہسپتال سے باہر نہیں آئی، ہمیں آگ لگنے تک کی اطلاع نہیں دی جا رہی۔ حال ہی میں لگنے والی آگ کے بعد معلوم ہوا کہ اس سے پہلے بھی پمز کے اندر آگ لگی تھی۔‘

