سگریٹ کا دھواں بھی جان لیوا، ہرسال کتنی زندگیوں کا خاتمہ کرتا ہے؟
مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ سگریٹ کے دھوئیں کی کوئی بھی مقدار محفوظ نہیں
سگریٹ نوشی ایک مضر صحت اور جان لیوا عادت ہے تاہم اس کا دھواں بھی ساتھ بیٹھنے والوں کو اتنا ہی نقصان پہنچاتا ہے جتنا کہ خود شگریٹ پینے والے کو۔
دنیا بھر میں دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں، یعنی بالواسطہ تمباکو نوشی، کے باعث 2023 میں تقریباً 17 لاکھ افراد جان کی بازی ہار بیٹھے جبکہ 2 ارب 71 کروڑ سے زائد افراد مضر دھوئیں سے متاثر ہوئے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
برطانوی طبی جریدے ’دی لینسٹ پبلک ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں 16 لاکھ 60 ہزار اموات ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر 4 کروڑ 48 لاکھ صحت مند زندگی کے سال ضائع ہوئے۔
تحقیق میں 1990 سے 2023 تک 204 ممالک اور خطوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بالواسطہ تمباکو نوشی سے متاثر ہونے والی عالمی آبادی کے تناسب میں 22 فیصد کمی آئی، تاہم دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد تقریباً برقرار رہی۔
رپورٹ کے مطابق سب صحارا افریقہ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تحقیق کے مطابق 76 کروڑ 70 لاکھ کے قریب بچے، جن کی عمریں صفر سے 14 سال کے درمیان تھیں، بھی بالواسطہ تمباکو نوشی سے متاثر ہوئے۔
بچوں میں بالواسطہ تمباکو نوشی کے باعث سانس کی نالی کے نچلے حصے کے تقریباً 52 لاکھ انفیکشنز کا تعلق سامنے آیا، جبکہ بالغ افراد میں دل کی شریانوں کی بیماری اس مضر دھوئیں سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار پائی۔
تحقیق میں خواتین اور مردوں کے درمیان بھی واضح فرق سامنے آیا۔ جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے بعض علاقوں میں خواتین کے دوسروں کے دھوئیں سے متاثر ہونے کا امکان مردوں کے مقابلے میں 59 فیصد زیادہ پایا گیا۔
محققین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ گھروں میں مردوں کی نسبتاً زیادہ سگریٹ نوشی اور خواتین میں سگریٹ نوشی کی کم شرح ہے، جس کے باعث خواتین بالواسطہ تمباکو نوشی کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔
تحقیق کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ سگریٹ کے دھوئیں کی کوئی بھی مقدار محفوظ نہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ گھروں اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ بالواسطہ تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات اور بیماریوں میں کمی لائی جا سکے۔

