پاکستان بدھ کو ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز صرف 133 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا، جس کے بعد میزبان ٹیم نے دن کے اختتام تک چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا لیے۔
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پہلے ہی دو صفر سے پیچھے پاکستان کی انگلینڈ کے دورے میں خراب بیٹنگ کا سلسلہ تیسرے ٹیسٹ میں بھی جاری رہا۔
لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو باہر کیا جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
برمنگھم میں پاکستان نے ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں، جن میں تین کھلاڑیوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا، تاہم اس ردوبدل کا بیٹنگ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر ابر آلود موسم اور باؤلنگ کے لیے سازگار حالات میں پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پاکستانی بلے باز ایک مرتبہ پھر نئی گیند سے انگلینڈ کے باؤلرز اولی رابن سن اور جوفرا آرچر کے سامنے مشکلات کا شکار رہے۔ اولی رابنسن نے تین جبکہ جوفرا آرچر نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
فاسٹ باؤلر جاش ٹنگ نے بھی جارحانہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی پوری ٹیم صرف 33.5 اوورز میں 133 رنز پر آؤٹ ہو گئی، جو اس سیریز میں پاکستان کی اب تک کی مختصر ترین اننگز ہے۔
پاکستان کی جانب سے صرف سعود شکیل نے مزاحمت کی اور 43 رنز بنائے۔ لارڈز ٹیسٹ میں 97 رنز بنانے والے سعود شکیل نے 47 گیندوں کا سامنا کیا اور سات چوکے لگائے۔
اوپنر صائم ایوب کی واپسی بھی پاکستان کے لیے سودمند ثابت نہ ہوئی اور وہ صفر پر رابن سن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس وکٹ کے ساتھ 32 سالہ رابنسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 ویں وکٹ حاصل کی۔
اذان اویس اور عبداللہ شفیق بھی جلد آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد پاکستان 10 اوورز کے اندر چار وکٹوں کے نقصان پر 26 رنز بنا چکا تھا۔
تجربہ کار بلے باز شان مسعود بھی جوفرا آرچر کی گیند پر پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔
پاکستان کے کپتان بابر اعظم، جو تقریباً چار سال سے ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری نہیں بنا سکے، صرف سات رنز پر جوش ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔
پاکستان کی چھٹی وکٹ 64 رنز پر گری جب ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر غازی غوری ٹنگ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
غازی غوری کے علاوہ محمد عمران اور رضاللہ نے بھی اس میچ میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لنچ سے قبل پاکستان سات وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا جب جاش ٹنگ نے محمد عمران کو شاندار یارکر پر بولڈ کر دیا۔
رضاللہ لنچ کے کچھ دیر بعد آؤٹ ہوئے جبکہ سعود شکیل کی مزاحمت بھی 107 کے مجموعی سکور پر ختم ہو گئی، جب وہ ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
آخری بلے باز محمد عباس نے 21 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، تاہم وہ آرچر کی گیند پر سلپ میں کیچ دے کر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی اننگز
پاکستان کے 133 رنز کے جواب میں انگلینڈ کی اننگز کا آغاز بھی مثالی نہ رہا اور اسے ابتدائی طور پر 24 رنز پر دو وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
محمد علی نے بین ڈکٹ کو سلپ میں کیچ کرایا جبکہ محمد عباس نے جارڈن کاکس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔
اس کے بعد انگلینڈ کے کپتان جو روٹ ایک مرتبہ پھر اس وقت کریز پر آئے جب ٹیم مشکل صورت حال سے دوچار تھی۔
پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے رضااللہ نے دو اور محمد عباس اور محمد علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان تین میچوں کی سیریز پہلے ہی دو صفر سے ہار چکا ہے جبکہ اس نے اپنے گذشتہ 20 ٹیسٹ میچوں میں سے 15 میں شکست کا سامنا کیا ہے۔

