سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس چیئرپرسن فریال تالپور کی زیر صدارت ہوا جس میں صوبے بھر میں منشیات کے خلاف جاری آپریشنز، علاقہ وار ایکشن پلان پر عملدرآمد، تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشی کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں منشیات کے خلاف تیار کیے گئے علاقہ وار ایکشن پلان پر پیش رفت اور تعلیمی اداروں کے اندر اور اطراف منشیات کی فروخت کے خلاف اب تک کی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔ .
اجلاس میں مصنوعی منشیات، کوکین اور آن لائن ڈرگ ڈیلیوری نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات اور متعلقہ اداروں کے درمیان مزید مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا۔
فریال تالپور نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔
تعلیمی اداروں کے اندر یا اطراف منشیات کی فروخت اور استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے محفوظ رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے مصنوعی منشیات، کوکین اور آن لائن ڈرگ ڈیلیوری نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے علاقہ وار ایکشن پلان پر عملدرآمد اور اس کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا حکم دیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی۔
فریال تالپور نے سندھ پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیوں کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام سے اب تک درج مقدمات، گرفتار ملزمان، منشیات کے مقدمات میں سزا کی شرح اور محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کی کارکردگی کی تفصیلات طلب کرلیں۔
صوبائی وزیر برائے نارکوٹکس مکیش کمار چاولہ نے اجلاس کو بتایا کہ نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ میں اضافی افرادی قوت کی بھرتی پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ کی سطح پر منشیات کے خلاف جامع کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق منشیات کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی جبکہ مصنوعی منشیات، کوکین اور آن لائن ڈرگ ڈیلیوری میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کارروائی ناگزیر ہے۔
وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو قائمہ کمیٹی کو منشیات کے خلاف آپریشنز کی پیش رفت اور نتائج سے مکمل طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے سندھ پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس اور دیگر اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام ڈویژنز میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا جائے۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ نئے انسدادِ منشیات قانون کے تحت نئی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے طریقہ کار بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ نئی عدالتوں کے قیام کا مقصد منشیات سے متعلق مقدمات کو تیزی سے نمٹانا اور قانون کے مطابق ملزمان کو سزائیں دلوانا ہے۔
اجلاس میں ٹاسک فورس کے سربراہ ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے جاری انسدادِ منشیات آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 105 کلوگرام چرس اور تقریباً 7 ٹن گٹکا ماوا پکڑ کر تلف کیا گیا جبکہ پولیس نے 40 کلوگرام آئس یعنی کرسٹل میتھ بھی برآمد کی۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق اب تک منشیات کے خلاف 57 آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن کے دوران 132 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تعلیمی اداروں کے اطراف کیے گئے آپریشنز میں 78 ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ 41 ملزمان اس وقت جیلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ تعلیم سندھ، سندھ پولیس کے تعاون سے اسکولوں کے اطراف منشیات کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔
بعد ازاں اینٹی نارکوٹکس فورس کے بریگیڈیئر عمر نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اے این ایف حکام نے بتایا کہ سندھ بھر میں سندھ پولیس کے تعاون سے منشیات کے خلاف جامع کریک ڈاؤن جاری ہے اور مختلف علاقوں میں منشیات کے خاتمے کے لیے مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
بریگیڈیئر عمر نے بتایا کہ وزیر داخلہ سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس مشترکہ اور بھرپور آپریشنز کر رہی ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور رابطے کے ذریعے منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں ارکان سندھ اسمبلی سائمہ آغا، سہیل انور سیال، خرم کریم سومرو، محمد قاسم سومرو، محمد فاروق، سجاد علی، عبد الواحد وسیم، شارق جمال، سید سردار علی شاہ، مکیش کمار چاولہ اور میر طارق علی تالپور نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ، سیکریٹری ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس، سیکریٹری قانون، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، سیکریٹری سوشل ویلفیئر، سیکریٹری کالج ایجوکیشن، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، کراچی، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جیز، ہیڈکوارٹرز، سی آئی اے، اسپیشل برانچ اور کرائم برانچ کراچی کے ڈی آئی جیز، ساؤتھ، ایسٹ اور ویسٹ کے ڈی آئی جیز اور متعلقہ ایس ایس پیز نے شرکت کی۔
شہید بینظیرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد کے ڈی آئی جیز اور متعلقہ ایس ایس پیز بھی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
چیف سی پی ایل سی سندھ، ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس، ڈائریکٹر جنرل نارکوٹکس، ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس اور ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ بھی اجلاس میں موجود تھے۔

