واشنگٹن،
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ تہران اب زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکتا۔ ری پبلکن پارٹی کے مڈ ٹرم کنونشن کے لیے ڈلاس روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران "انتخابات پر اثرانداز ہونے کی مایوس کن کوشش” کر رہا ہے۔ انہوں نے فی الحال جوہری مذاکرات کی بحالی کو مسترد کیا، تاہم مستقبل میں بات چیت کا امکان باقی رکھا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی "کنٹرول” کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا نام بدل کر "ٹرمپ اسٹریٹ” رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا، اور کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔ انہوں نے ایران کو "51 برس تک خطے کا غنڈہ” رہنے کے بعد اب "بکھرتا ہوا” قرار دیا، اور خبردار کیا کہ امریکہ ایران کی "پِک ایکس ماؤنٹین” تنصیب پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی کارروائیوں میں 9 ایرانی ٹینکر ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔
دریں اثنا وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ان دعووں کو مسترد کیا کہ کوئی بیرونی طاقت ایران کو تنازع میں مدد دے رہی ہے، اور کہا کہ امریکی بحری جہازوں پر حملوں کا خمیازہ ایران کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے پانچ ٹینکروں کو پہنچنے والے نقصان کو جوابی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ایران پر معاشی دباؤ جاری رہے گا۔

