جرمنی میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ملک گیر ہڑتال، نقل و حمل کا نظام

INQ 20260227 152720 0000 l

یونین ورڈی کا کام کے اوقات میں کمی اور بہتر تنخواہوں کا مطالبہ، لاکھوں مسافر متاثر
برلن،
جرمنی میں تجارتی یونین ورڈی کی قیادت میں ٹرانسپورٹ ملازمین نے ملک گیر ہڑتال شروع کر دی جس کے باعث ملک بھر میں نقل و حمل کا نظام بری طرح درہم برہم ہو گیا ہے۔ بسیں، ٹرامیں اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ سروسز بڑے پیمانے پر معطل ہو گئی ہیں جب کہ لاکھوں مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
یونین ورڈی کے لیڈران نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ ملازمین کے ہفتہ وار کام کے اوقات میں کمی لائی جائے، روزانہ شفٹوں کا دورانیہ گھٹایا جائے، شفٹوں کے درمیان آرام کا وقفہ بڑھایا جائے اور رات کے اوقات کے ساتھ ساتھ ہفتے اور اتوار کو کام کرنے پر اضافی معاوضہ فراہم کیا جائے۔
یونین کے ترجمان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ شعبے کے ملازمین برسوں سے انتھک محنت کرتے آ رہے ہیں لیکن ان کی صحت، آرام اور خاندانی زندگی کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم کام کے منصفانہ حالات کے لیے لڑ رہے ہیں، یہ ہڑتال کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ہمارا جائز حق ہے۔”
آجر تنظیموں اور حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مثبت پیشکش سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے ہڑتال طول پکڑنے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد مذاکرات کی پہل نہ کی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ