جدہ میں وزرائے خارجہ کی سطح پر اعلیٰ سطحی مشاورت، فلسطینی حقوق کے دفاع پر اتفاقِ رائے
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل کی مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کی تازہ کوششوں کے خلاف جمعرات کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
اجلاس کا محور اسرائیل کی حکومت کا وہ اقدام تھا جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو ”ریاستی جائیداد” قرار دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ناقدین اس اقدام کو عملاً ناجائز الحاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے 8 فروری کو متعدد فیصلے منظور کیے تھے جن کا مقصد مغربی کنارے کی صورتحال کو غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حق میں تبدیل کرنا اور فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنا تھا۔
اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، سفراء اور سفارتی وفود نے شرکت کی۔ شرکاء نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی طے کرنے پر غور و خوض کیا اور بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور سعودی عرب مغربی کنارے میں تمام غیرقانونی بستیوں کے قیام کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کو بھی اجاگر کیا۔
او آئی سی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی ہدف عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور طریقے سے متحرک کرنا ہے۔

