سعودی عرب کی وزارت توانائی نے جمعے کو بتایا ہے کہ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کی صبح ہونے والے ان حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
وزارت نے مزید کہا کہ حملوں کے فوراً بعد متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی حفاظت کا جائزہ لینے کے لیے ایمرجنسی اور خصوصی تکنیکی ٹیمیں تعینات کر دی گئیں۔
بیان کے مطابق یہ بندش ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر کی گئی ہے اور کسی بھی مزید پیش رفت کے سامنے آنے پر اس کا اعلان کیا جائے گا۔
سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پائپ لائن پر عراق سے داغے گئے ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کی درخواست پر مملکت اس مرحلے پر کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت نے عراق کی کوششوں کی حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت ’برادر عراقی حکومت کو مملکت اور پڑوسی ممالک کے خلاف عراقی سرزمین سے کیے جانے والے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا موقع دے گی۔‘
تاہم اس نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری، سکیورٹی، تنصیبات، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
اس کے جواب میں عراق نے کہا کہ وہ جوابی کارروائی مؤخر کرنے کے سعودی عرب کے فیصلے کو سراہتا ہے، جبکہ وزیراعظم نے حملوں کے پیچھے موجود ملیشیا اور ان کی حمایت کرنے والے فریقوں کے خلاف فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
بغداد نے سعودی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی حملے کی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہیں ہوں گی۔
سرکاری ترجمان نے کہا کہ ’ریاست ایسی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی جو عراق یا برادر اور دوست ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو خطرے میں ڈالے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
’عراقی حکومت مملکت کے مؤقف اور صورت حال پر قابو پانے کی عراقی کوششوں پر اس کے ردعمل کی قدر کرتی ہے۔‘
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اس ہفتے کے شروع میں سعودی عرب کے علاقوں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہداف کو نشانہ بنایا۔
وزارت توانائی نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے جنوبی علاقے میں تیل کی تنصیبات میں کئی مقامات پر آگ لگ گئی جس کے باعث بعض آپریشنز میں عارضی تعطل آیا۔
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے سعودی عرب پر ان حملوں کی مذمت کی جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے، اور اس خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

