اسلام آباد:
حکومت کی جانب سے وزیراعظم کی سربراہی میں ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کا فیصلہ پاکستان میں برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کیلیے اہم قدم قراردیا گیا ہے۔
بورڈسے توقع ہے کہ وہ سرحد پار تجارت سے متعلق ریگولیٹری مسائل کے حل، تجارتی سپلائی چین میں بہتری اور اصلاحات پر پیش رفت کی نگرانی کیلیے مؤثر نظام وضع کرے گا۔
پاکستان دنیاکی کم تجارت کرنیوالی معیشتوں میں شامل ہے، جہاں اشیا اور خدمات کی تجارت مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 27 فیصد ہے،جبکہ عالمی اوسط 56 فیصد سے زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدی ترقی کے ماڈل کو کامیاب بنانے کیلیے پاکستان کو عالمی معیشت کے ساتھ اپنا انضمام نمایاں طور پر بڑھاناہوگا۔
تجارت کی راہ میں طویل عرصے سے دو بڑی پالیسی رکاوٹیں موجود رہی ہیں،جن میں ایک تحفظ پسندانہ ٹیرف نظام ہے۔
حکومت نے جون 2025 میں پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی پروگرام منظورکرکے اس رکاوٹ کودورکرنے کی جانب اہم پیش رفت کی، تاہم اصلاحات کو مکمل نافذکرنے میں مختلف مفاداتی گروہوں کی جانب سے مزاحمت چیلنج ہے۔
دوسری اہم رکاوٹ سرحد پرسامان کی نقل وحرکت کی لاگت اور پیچیدگی ہے۔ ٹیرف میں کمی کے باوجوددرآمدکنندگان اوربرآمدکنندگان کو مختلف ضوابط، اداروں،معائنوں، دستاویزات اور منظوریوں کے پیچیدہ نظام کاسامناہے،جس کے باعث غیر ٹیرف اقدامات اور انتظامی رکاوٹیں تجارت کومتاثرکررہی ہیں۔
پاکستان سنگل ونڈو اور بندرگاہوں کی جدیدکاری کے ذریعے سرخ فیتے میں کمی کے باوجودکنٹینرزکے ڈویل ٹائم میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور یہ اب بھی تقریباً 10روز ہے، بھارت میں کنٹینرڈویل ٹائم 6 روز سے کم ہوکر 2 روز اورکینیامیں 6 سے 3 روز تک آچکاہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو تین اہم مسائل پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ پہلا مسئلہ کسٹمزکا روایتی کنٹرول پر مبنی نظام ہے۔
پاکستان میں 50 فیصدسے بھی کم کنٹینرزگرین چینل کے ذریعے کلیئر ہوتے ہیں، جبکہ جدیدکسٹمز انتظامیہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مددسے جہاز کی آمد سے قبل ہی خطرات کاجائزہ لے کر زیادہ ترکم خطرے والی کھیپ کوکم سے کم مداخلت کے ساتھ کلیئرکرتی ہے۔
عرب امارات میں مبینہ طور پر 80 فیصد سے زیادہ کھیپ کو آمدسے قبل کلیئرنس حاصل ہوجاتی ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔
دوسرامسئلہ پرانے قوانین اور ضوابط کا تسلسل ہے۔ پاکستان کادعویٰ ہے کہ اس نے عالمی تجارتی تنظیم کے ٹریڈفسیلیٹیشن معاہدے کے 97 فیصدسے زیادہ وعدے پورے کردیے ہیں، تاہم عملی طور پر ان اقدامات کابڑاحصہ صرف کاغذی تعمیل تک محدوددکھائی دیتاہے۔
کسٹمزویلیوایشن کانظام بھی ایک اہم مسئلہ قراردیاگیا، نتیجتاًکسٹمز ویلیوایشن تنازعات اور مقدمات کااہم سبب بن گئی ہے،جس سے سامان کی کلیئرنس میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔
تیسرامسئلہ کلیٔرنس کے عمل میں شامل متعددسرکاری ادارے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف اداروں کو ڈیجیٹل بناناکافی نہیں، داخلی طریقہ کار اورکنٹرولزکو بھی سنگل ونڈوکے ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرناہوگا۔

