افغان میڈیکل طلبہ کی ملک بدری: بلوچستان میں درخواست خارج، سندھ ہائی کورٹ کا 31 طلبہ کو تحفظ

398468 1205371159


بلوچستان ہائی کورٹ نے منگل کو پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے کے افغان شہریوں کے حق سے متعلق آئینی درخواست خارج کر دی ہے جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے 31 افغان میڈیکل طلبہ کو ملک سے بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔

پاکستان میں بعض میڈیکل اور ڈینٹل کالجز نے رواں ماہ کے آغاز پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ایک مراسلے پر عمل کرتے ہوئے زیر تعلیم افغان طلبہ کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو جاری مراسلے میں 31 جولائی کو جاری کی گئی ہدایات کو دوبارہ واضح کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مراسلے میں لکھا گیا ہے ’پالیسی کے مطابق تمام ادارے اس ضمن میں انتظامی طریقہ کار اور اجازت نامہ دیں اور طلبہ کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی جائے۔ ‘

پی ایم ڈی سی نے اپنے خط میں یہ نہیں بتایا کہ اس وقت پاکستانی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں کتنے افغان طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے قریب پہنچنے والے طلبہ کو اس فیصلے سے استثنیٰ دیا جائے گا یا نہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے درخواست خارج کر دی

بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1334 آف 2026 کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیر ملکی شہری پاکستان میں قیام، تعلیم یا تربیت کا ایسا مستقل حق نہیں رکھتے جو ریاستی پالیسی کے خلاف ہو۔

عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے افغان شہریوں کے میڈیکل اداروں میں داخلے، منتقلی اور سہولت کاری سے متعلق جاری ہدایات میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن، غیر ملکی شہریوں کی واپسی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات بنیادی طور پر انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک لازم ہے، تاہم اس بنیاد پر پاکستان میں قیام یا تعلیم جاری رکھنے کا مستقل حق پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت نے درخواست کو ابتدائی مرحلے پر خارج کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو اپنی شکایت کے ازالے کے لیے افغانستان کے سفارتخانے سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

سندھ ہائی کورٹ کا 31 افغان طلبہ کو تحفظ

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے افغان میڈیکل طلبہ کی بے دخلی کے معاملے پر 31 طلبہ کو ملک سے بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے تین افغان طلبہ کی درخواست پر فوری سماعت کی اجازت دی۔ درخواست گزاروں میں ہانیا، عارفہ اور بنارس شامل ہیں اور تینوں میڈیکل کے فائنل ایئر کے طالب علم ہیں۔

وکیل افتخار شاہ کے مطابق پی ایم ڈی سی نے افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار افغان طلبہ نے سری لنکا اور افغان طلبہ کے لیے مختص علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لیا تھا۔

وکیل کے مطابق ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ان تین طلبہ سمیت مزید افغان میڈیکل طلبہ بھی ملک بدری کے احکامات سے متاثر ہیں، تاہم تاحال صرف تین طلبہ نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں حکومت پاکستان نے افغان شہریوں کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت افغان میڈیکل طلبہ کو بھی پاکستان چھوڑنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں افغان سفارت خانے نے آٹھ ستمبر کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو ملک بدر کرنے سے متعلق فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس اقدام سے ان افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر نمایاں اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم شروع کی اور کئی سال کی محنت، وقت اور خاطر خواہ مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنی متعلقہ تعلیمی پروگرامز مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ