طالبان کا پاکستان کو انتباہ: افغان سرزمین پر کارروائی کی گئی تو "منہ توڑ جواب” دیں گے

images 17 5


ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا سعودی عرب سے ثالثی کی درخواست، انٹیلی جنس شیئرنگ پر زور
کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد "حقِ دفاع” کے نام پر افغان علاقے میں کوئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو افغانستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے "منہ توڑ” جواب دے گا۔
ایک انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: "اگر پاکستان افغان سرزمین کی حرمت کو توڑنے کے لیے آرٹیکل 51 کا سہارا لیتا ہے، تو افغانستان کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور ہم ایسا کریں گے۔” آرٹیکل 51 اقوام متحدہ کے چارٹر کی وہ شق ہے جو رکن ممالک کو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کا حق دیتی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہ، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی پالیسی یہ ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
طالبان ترجمان نے سعودی عرب سے درخواست کی کہ وہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور باہمی تعاون کے مضبوط طریقہ کار پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے جواب میں طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحدی کشیدگی، ڈرون نگرانی اور فضائی حملوں سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ