آخرکار دال بھی حکومتی پالیسی کا حصہ بن گئی۔ انگلینڈ میں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد سکولوں کے کھانے کے معیار میں سب سے بڑی تبدیلی کے تحت، ستمبر 2027 سے نئے قواعد نافذ ہونے پر سکولوں میں مکمل اناج، سبزیوں اور دالوں کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنا متوقع ہے۔
دالوں میں خاص طور پر مسور اور چنے کو شامل کیا گیا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق دالیں ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ کھانے کے مینو میں یا اس کے ساتھ شامل کرنا لازمی ہوگا، جبکہ سیکنڈری سکولوں کے لیے بعض شرائط مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
حسب توقع، تلی ہوئی غذاؤں کو سکولوں کے کھانوں سے کم کیا جا رہا ہے، میٹھے ڈیزرٹس پر بھی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، اور ہر مرکزی کھانے کے ساتھ سبزیاں شامل کی جائیں گی۔ لیکن دال کو اتنی اہمیت دیا جانا خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
کئی دہائیوں سے برطانیہ میں دال ایک طرف سبزی خور ریسٹورنٹس کی ایک عام اور اچھی غذا سمجھی جاتی رہی، جبکہ دوسری طرف اسے گھر کے کچن میں مشکل وقت کے لیے رکھی جانے والی سادہ غذا کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ لیکن اب یہی کم مقبول سمجھے جانے والے اجزا میں سے ایک اچانک خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اور دال کے حق میں بھی کافی مضبوط دلائل موجود ہیں۔
’سپر فوڈ‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جسے ماہرینِ غذائیت عموماً اسی جوش و خروش سے لیتے ہیں، جیسے کسی ریستوران کے نقاد کے سامنے ایسا مینو پیش کیا جائے جس میں ’روایتی کھانے سے ہٹ کر منفرد ذائقے‘ کا وعدہ کیا گیا ہو۔
کوئی ایک غذائی جزو خراب خوراک کو مکمل طور پر متوازن نہیں بنا سکتا۔ تاہم اگر کوئی چیز ’سپر فوڈ‘ کہلانے کے باوجود اپنی اہمیت ثابت کر سکتی ہے تو دالیں اس کی اہل ہیں۔
یہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں، نباتاتی پروٹین فراہم کرتی ہیں اور ان میں آئرن سمیت کئی اہم غذائی اجزا مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سیر شدہ چکنائی کم ہوتی ہے، یہ سستی ہوتی ہیں، کئی ماہ تک محفوظ رکھی جا سکتی ہیں اور پروٹین فوڈ کے طور پر فروخت کی جانے والی بہت سی مصنوعات کے برعکس، دالیں اپنی شہرت کے مطابق واقعی فائدہ مند ہیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان میں اس غذائی جزو، یعنی فائبر، کی وافر مقدار ہوتی ہے جسے ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی خوراک میں شامل کرنے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں، حالانکہ یہ ہماری آنتوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تازہ ترین نیشنل ڈائٹ اینڈ نیوٹریشن سروے میں بھی اس حوالے سے صورت حال خاصی تشویش ناک سامنے آئی ہے۔ 4 سے 10 سال کی عمر کے بچوں میں روزانہ فائبر کا اوسط استعمال صرف 14.5 گرام ہے، جبکہ 86 فیصد بچے اپنی عمر کے لیے تجویز کردہ مقدار پوری نہیں کرتے۔ 11 سے 18 سال کے بچوں میں یہ اوسط 15.4 گرام روزانہ ہے اور حیرت انگیز طور پر 96 فیصد بچے تجویز کردہ مقدار سے کم فائبر استعمال کرتے ہیں۔
اور اگر کوئی اپنے بچے کے لنچ باکس کے بارے میں مطمئن ہو کر بیٹھا ہے تو بالغ افراد کی صورت حال بھی اس سے کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ روزانہ 30 گرام فائبر استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، لیکن 19 سے 64 سال کی عمر کے بالغ افراد اوسطاً صرف 16.4 گرام فائبر لیتے ہیں۔ صرف 4 فیصد افراد ہی مطلوبہ مقدار پوری کر پاتے ہیں۔
غذائی ماہر، رائٹریشن کی بانی اور دی فائبر فارمولا کی مصنفہ ریانن لیمبرٹ کہتی ہیں: پروٹین کو اس وقت بہت زیادہ توجہ مل رہی ہے، جبکہ فائبر کو اس کے مقابلے میں تقریباً اتنی توجہ نہیں ملتی۔ اچھی بات یہ ہے کہ فائبر حاصل کرنے کے لیے مہنگے پاؤڈرز یا خصوصی مصنوعات کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
وہ پروٹین کی بہترین تشہیر کے حوالے سے بالکل درست کہتی ہیں۔ کسی بھی سپر مارکیٹ میں جائیں تو آپ کو پروٹین والے دہی، پروٹین سیریلز، پروٹین بارز اور پروٹین پڈنگز نظر آئیں گی۔ اس کے برعکس فائبر، اس حقیقت کے باوجود کہ ہم میں سے تقریباً کوئی بھی اسے مناسب مقدار میں استعمال نہیں کرتا، اب بھی اتنا مقبول نہیں۔
فائبر پر توجہ دینے کی اچھی وجوہات موجود ہیں۔ غذائی فائبر سے مراد وہ کاربوہائیڈریٹس ہیں جو قدرتی طور پر پودوں میں پائے جاتے ہیں اور جنہیں ہمارا جسم مکمل طور پر ہضم نہیں کر سکتا۔ یہ چھوٹی آنت میں جذب ہونے کے بجائے بڑی آنت تک پہنچتا ہے، جہاں مختلف اقسام کے فائبر مختلف کام انجام دیتے ہیں۔
کچھ فائبر نظامِ ہاضمہ کو متحرک رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ کچھ کو آنتوں میں موجود بیکٹیریا خمیر کرتے ہیں اور یوں مائیکرو بایوم کے کچھ حصوں کے لیے غذا فراہم کرتے ہیں۔ زیادہ فائبر والی غذاؤں کا تعلق دل کی بیماری، ٹائپ 2 ذیابیطس اور بڑی آنت کے کینسر کے کم خطرے سے بھی پایا گیا ہے۔
دالیں خاص طور پر مفید ہیں کیونکہ ان میں ایسے قابل تخمیر فائبر موجود ہوتے ہیں جنہیں مفید آنتوں کے بیکٹیریا استعمال کر سکتے ہیں۔ برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن کے مطابق 120 گرام پکی ہوئی دال میں تقریباً 8.1 گرام فائبر ہوتا ہے۔ اتنی ہی مقدار میں چنوں میں تقریباً 6.2 گرام جبکہ راجما (لال لوبیا) میں 9.4 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں، بہت کم قیمت والی چیز سے کافی غذائی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
حکومت یہ تجویز بھی نہیں دے رہی کہ بچوں کو کھانے کے ہال میں لے جایا جائے اور ان کے سامنے بغیر مصالحے کے بھوری دال کا ڈھیر رکھ دیا جائے۔
2015 کے بعد سے ہمارے کھانے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے، اور مکمل اناج، فائبر سے بھرپور بریڈز، زیادہ پھلیوں اور دالوں کو ترجیح دے کر مجوزہ معیارات بچوں کی خوراک میں موجود ایک اہم کمی، یعنی فائبر، کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں: میگ ہیوز، چارٹ ویلز
سکولوں میں کھانا فراہم کرنے والے ادارے پہلے ہی بچوں کو دالیں اور پھلیاں کھلانے کے زیادہ عملی طریقوں پر تجربات کر رہے ہیں۔
ملک کے بڑے تعلیمی کیٹرنگ اداروں میں شامل چارٹ ویلز نے دالوں سے بھرپور لازانیا اور 40 فیصد پھلیوں اور دالوں کے آمیزے سے تیار کردہ بیف برگر متعارف کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ لال لوبیا کے ساتھ سبزیوں کی فجیتاز جیسی ڈشز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔
یہی فرق ایک ایسی پالیسی کے درمیان ہے جو صرف سننے میں اچھی لگتی ہے اور ایسی پالیسی کے درمیان ہے جو 12 سالہ بچوں سے بھرے کھانے کے ہال میں بھی حقیقتاً کامیاب ہو سکے۔
سرخ دال ٹماٹر کی چٹنی، سالن یا سوپ میں تقریباً مکمل طور پر گھل جاتی ہے۔ سبز اور پیو دالیں اپنی شکل برقرار رکھتی ہیں اور انہیں راگو یا کاٹیج پائی میں گوشت کے کچھ حصے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پھلیوں کو پیس کر برگر میں شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ چنوں سے ہمس بنایا جا سکتا ہے۔
اس پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے بچوں کو 1970 کی دہائی کے سبزی خور کھانوں میں اچانک دلچسپی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔
بریڈفورڈ کے پرائمری سکولوں میں کیے گئے تجربات میں پھلیوں اور دالوں کی مقدار بڑھانے سے کھانے والے بچوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی بلکہ بعض صورتوں میں اس میں اضافہ ہوا۔ دیگر منصوبوں میں بھی دالوں سے بھرے ساسیج رولز اور پیزا جیسی غذاؤں کے ذریعے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
یہ ایک مثبت علامت ہے، کیونکہ برطانیہ میں دالوں اور پھلیوں کے استعمال کی کوئی مضبوط روایت موجود نہیں جسے مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوڈ فاؤنڈیشن کے تجزیے کے مطابق سیکنڈری سکول کی عمر کے بچے ہفتے میں تقریباً دو تہائی حصے کے برابر پھلیاں استعمال کرتے ہیں، جبکہ اس مقدار کا نصف حصہ بیکڈ بینز پر مشتمل ہوتا ہے۔
تاہم دنیا کے ہر خطے میں یہ مسئلہ یکساں نہیں۔ انڈیا اور جنوبی ایشیا میں دالیں مختلف اقسام کی دالوں میں استعمال ہوتی ہیں، فرانس میں ساسیجز کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں، بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ میں سوپ کا حصہ بنتی ہیں، جبکہ سلاد، کوفتے، سٹیو اور چاول کے پکوان سمیت مختلف کھانوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔
برطانیہ میں کسی طرح دالوں کی ایک نسبتاً محدود شناخت بن گئی ہے، لیکن یہ اس جزوِ غذا کی نہیں بلکہ اسے استعمال کرنے کے انداز کی کمزوری ہے۔
یہ بہتر خوراک اختیار کرنے کے سوال کا ان چند جوابوں میں سے ایک جواب ہے جس کے لیے لازماً زیادہ پیسے خرچ نہیں کرنے پڑتے۔
خشک دالیں اب بھی سپر مارکیٹ میں دستیاب سستے ترین پروٹین ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ ڈبہ بند دالیں بھگونے یا پہلے سے تیاری کرنے کی معمولی سی زحمت بھی ختم کر دیتی ہیں۔
تاہم، ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ فائبر آنتوں میں موجود بیکٹیریا کے ذریعے خمیر ہوتا ہے اور اگر بہت کم مقدار سے اچانک بہت زیادہ فائبر استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو پیٹ پھولنے، گیس اور بے آرامی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین غذائیت تجویز کرتے ہیں کہ فائبر کی مقدار بتدریج بڑھائی جائے، بجائے اس کے کہ ایک ہی رات میں اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔
’خشک دالیں اب بھی سپر مارکیٹ میں دستیاب سستے ترین پروٹین ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ ڈبہ بند دالیں بھگونے یا پہلے سے تیاری کرنے کی معمولی سی زحمت بھی ختم کر دیتی ہیں۔‘
رجسٹرڈ ڈائٹیشن جو ٹریورز کہتی ہیں: ’یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لوگ فوری نتائج چاہتے ہیں، لیکن عام طور پر نظامِ ہاضمہ مستقل مزاجی کو ترجیح دیتا ہے۔ کم فائبر والی خوراک سے ایک ہی رات میں بہت زیادہ فائبر والی خوراک پر منتقل ہونے سے بے آرامی ہو سکتی ہے۔ آہستہ آہستہ آغاز کریں، مناسب مقدار میں پانی پئیں اور اپنے جسم کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھلنے کا وقت دیں۔‘
سکولوں کے کھانے سے متعلق پالیسی کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کرنا آسان ہے۔ دالوں کا لازمی استعمال لازماً روالڈ ڈاہل کی کہانیوں جیسا منظر ذہن میں لاتا ہے، جس میں ایک خاتون سکول ملازمہ بچے کے سامنے کھڑی ہے اور اس وقت تک انتظار کر رہی ہے جب تک پلیٹ میں موجود آخری دال بھی ختم نہ ہو جائے۔
حقیقت اس سے کچھ کم ڈرامائی ہے۔ زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے باقی لوگوں کو بھی دالیں کھانے کے لیے اب تک اتنی زیادہ ترغیب دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
دالوں کی پانچ بہترین تراکیب
ہائی پروٹین رگتونی
ڈاکٹر روپی اوجلا کہتے ہیں: ’اس ترکیب میں اخروٹ، ٹیمپے اور پیوئی دال کا امتزاج آپ کی آنتوں کی صحت کے لیے پروٹین اور فائبر کی ضروریات پوری کرتا ہے، جبکہ ان اجزا کی ساخت اور ذائقہ بہترین ہے۔‘
’ریڈ وائن اور مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ مناسب وقت دینے سے آپ کو ایک مزیدار، غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش کھانا ملتا ہے۔ اگر چاہیں تو پاستا کی مختلف اقسام آزما سکتے ہیں، اور زیادہ پروٹین کے لیے دال یا پھلیوں سے بنے پاستا کا استعمال کریں۔‘
4 افراد کے لیے
اجزا
2 کھانے کے چمچ زیتون کا تیل، اور پیش کرتے وقت مزید
100 گرام پیاز، باریک کٹی ہوئی
لہسن کے 4 جوے، باریک کٹے ہوئے
3 چائے کے چمچ خشک مکس جڑی بوٹیاں
2 کھانے کے چمچ ٹماٹر پیوری
100 ملی لیٹر ریڈ وائن
100 گرام اخروٹ، موٹے ٹکڑوں میں کٹے ہوئے یا موٹا پیسا ہوا
200 گرام ٹیمپے، موٹے ٹکڑوں میں کٹا ہوا یا موٹا پیسا ہوا
200 ملی لیٹر سبزیوں کا سٹاک
200 ملی لیٹر پاساتا
1 کھانے کا چمچ بالسامک سرکہ
200 گرام پکی ہوئی پیوئی دال
100 گرام کاوولو نیرو، ڈنٹھل نکال کر پتے ہلکے سے مسل کر موٹے کاٹ لیں
150 گرام خشک رگتونی پاستا
20 گرام پارمیسان، باریک کدوکش کیا ہوا، پیش کرنے کے لیے
ترکیب
1۔ ایک بڑے ڈھکن والے کیسرول پین میں درمیانی آنچ پر زیتون کا تیل گرم کریں۔ پیاز شامل کرکے کبھی کبھار چلاتے ہوئے تقریباً 10 منٹ پکائیں، یہاں تک کہ پیاز نرم ہو جائے اور سنہری ہونے لگے۔ لہسن اور حسبِ ذائقہ نمک مرچ شامل کرکے مزید ایک منٹ پکائیں۔ پھر مکس جڑی بوٹیاں اور ٹماٹر پیوری شامل کریں۔ پیوری کو 3 سے 4 منٹ پکائیں تاکہ اس کا ذائقہ مزید نمایاں ہو جائے۔
2۔ پین میں ریڈ وائن ڈالیں اور مزید 3 منٹ پکائیں، یہاں تک کہ الکحل کی بو ختم ہو جائے اور آمیزہ گاڑھا اور چپچپا ہو جائے۔ اخروٹ اور ٹیمپے شامل کرکے اچھی طرح مکس کریں تاکہ وہ اس آمیزے میں لپٹ جائیں۔ 2 منٹ پکانے کے بعد سبزیوں کا سٹاک، پاساتا اور بالسامک سرکہ شامل کریں اور دال بھی ڈال دیں۔ آنچ کم سے درمیانی رکھیں، تمام اجزا مکس کریں اور ڈھکن جزوی طور پر ڈھانپ کر 15 منٹ ہلکی آنچ پر پکائیں۔
3۔ پکنے کے آخری 2 منٹ میں کاوولو نیرو شامل کریں۔ اسی دوران نمک ملے ابلتے ہوئے پانی میں پاستا پیکٹ پر دی گئی ہدایات کے مطابق پکائیں۔ پاستا چھان لیں، لیکن اس کا تقریباً ایک کپ پانی محفوظ کرلیں۔ پاستا کو تیار شدہ ساس میں شامل کریں اور ضرورت کے مطابق پاستا کا محفوظ کیا ہوا پانی ڈالیں تاکہ ساس کچھ پتلی ہو جائے۔
4۔ پاستا کو پیالوں میں نکالیں، اوپر زیتون کا تیل ڈالیں اور پارمیسان چھڑک کر پیش کریں۔
پروٹین بڑھانے کا طریقہ
مزید ٹیمپے یا اخروٹ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ٹیمپے کی جگہ کم چکنائی والا بیف قیمہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں 150 گرام قیمہ پیاز، لہسن، ٹماٹر پیوری اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ شامل کریں اور ریڈ وائن ڈالنے سے پہلے 5 منٹ پکائیں۔
کتاب: Healthy High Protein ڈاکٹر روپِی اوجلا، Ebury Press، قیمت £26
دال مکھنی
ڈین ٹومبز، جنہیں ’دی کری گائے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کہتے ہیں:
’دال مکھنی ایسی دال نہیں جسے جلدی میں تیار کیا جا سکے، کیونکہ ان دالوں کو اچھی طرح گلنے کے لیے کافی دیر پکانا پڑتا ہے۔ اسی لیے یہ ترکیب سلو ککر کے لیے بہترین ہے۔
’درحقیقت، میرے خیال میں اسے تیز آنچ پر جلدی پکانے کے بجائے ہلکی آنچ پر 8 سے 10 گھنٹے پکانا زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنا اچھا خیال ہوگا۔ میں عام طور پر پہلے دن دال کو پورا دن بھگو کر رکھتا ہوں، پھر رات بھر اسے سلو ککر میں پکاتا ہوں۔ جب دال پک جائے تو یہ ایک جلد تیار ہونے والی اور آسان ڈش بن جاتی ہے۔‘
’یہ طریقہ کافی آسان ہے، لیکن اس کے باوجود آپ کو ایک بہت اچھی ڈش ملے گی، اگرچہ شاید یہ روایتی دال مکھنی کے مقابلے میں کچھ کم مستند ہو۔‘
4 افراد کے لیے: یا زیادہ، اگر اسے کئی ڈشز پر مشتمل کھانے کے حصے کے طور پر پیش کیا جائے۔
اجزا
300 گرام کالی اُڑد دال(ثابت ماش)، رات بھر ٹھنڈے پانی میں بھگوئی ہوئی
750 ملی لیٹر ابلتا ہوا پانی، ضرورت کے مطابق مزید
5 کھانے کے چمچ ریپ سیڈ آئل
2 پیاز، باریک کٹی ہوئی
2 کھانے کے چمچ لہسن اور ادرک کا پیسٹ
2 ٹماٹر، کٹے ہوئے
2 چائے کے چمچ کشمیری لال مرچ پاؤڈر
1 چائے کا چمچ پسی ہوئی ہلدی
1 کھانے کا چمچ گرم مصالحہ
1 چائے کا چمچ پاپریکا
250 ملی لیٹر سنگل کریم
2 چائے کے چمچ سمندری نمک، یا حسبِ ذائقہ
3 کھانے کے چمچ مکھن، یا حسبِ ذائقہ
4 کھانے کے چمچ کٹا ہوا دھنیا، سجانے کے لیے
گرم مصالحے کے لیے — تقریباً 170 گرام
6 کھانے کے چمچ ثابت دھنیا
6 کھانے کے چمچ زیرہ
5 چائے کے چمچ ثابت کالی مرچ
4 کھانے کے چمچ سونف
3 چائے کے چمچ لونگ
7.5 سینٹی میٹر دار چینی کی اصلی چھڑی
5 خشک تیز پات کے پتے
20 سبز الائچی کے دانے، ہلکے سے کچلے ہوئے
2 بڑے ٹکڑے جاوتری
لہسن اور ادرک کے پیسٹ کے لیے — تقریباً 250 گرام
150 گرام لہسن، موٹا کٹا ہوا
150 گرام تازہ ادرک، چھیلا ہوا اور موٹا کٹا ہوا
ترکیب
1۔ گرم مصالحہ تیار کرنے کا طریقہ:
تمام مصالحوں کو بغیر تیل کے ایک خشک فرائنگ پین میں درمیانی سے تیز آنچ پر بھونیں، یہاں تک کہ وہ ہاتھ لگانے پر گرم محسوس ہوں اور خوشبو آنے لگے۔ بھونتے وقت مصالحوں کو پین میں ہلاتے رہیں اور احتیاط کریں کہ وہ جل نہ جائیں۔
اگر مصالحوں سے دھواں نکلنے لگے تو فوراً چولہے سے اتار لیں۔ گرم مصالحوں کو پلیٹ میں نکال کر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر سپائس گرائنڈر یا سل بٹے میں پیس کر باریک پاؤڈر بنا لیں۔ اسے ہوا بند ڈبے میں ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھیں اور بہترین ذائقے کے لیے دو ماہ کے اندر استعمال کریں۔
2۔ لہسن اور ادرک کا پیسٹ:
لہسن اور ادرک کو فوڈ پروسیسر یا سل بٹے میں ڈالیں اور اتنا پانی شامل کرکے پیسیں کہ ہموار پیسٹ بن جائے۔ کچھ شیف لہسن اور ادرک کو پیسٹ بنانے کے بجائے باریک کاٹتے ہیں، یہ بھی ایک اچھا متبادل ہے۔ پیسٹ کو ہوا بند ڈبے میں رکھ کر فریج میں زیادہ سے زیادہ تین دن تک محفوظ کیا جا سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔
اگر آپ کَری پارٹی کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو یہ کام پہلے ہی مکمل کرلیں۔ فریج میں رکھنے کے دوران پیسٹ کا رنگ کچھ نیلا یا سبز ہو سکتا ہے۔ یہ قدرتی عمل ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیسٹ خراب ہوگیا ہے۔ میں اکثر زیادہ مقدار میں پیسٹ بنا کر اسے آئس کیوب ٹرے میں جما لیتا ہوں۔ جمنے کے بعد ان کیوبز کو فریزر میں ہوا بند پلاسٹک بیگز میں منتقل کیا جا سکتا ہے اور جب بھی کَری کھانے کا دل چاہے، استعمال کیا جا سکتا ہے۔ استعمال سے پہلے انہیں تھوڑا سا پگھلنے دیں۔
3۔ دال مکھنی:
بہترین نتائج کے لیے اُڑد دال کو پہلے دھوئیں اور پھر 8 گھنٹے تک بھگو کر رکھیں۔ دال دھونا ضروری ہے، تاہم اسے بھگوئے بغیر بھی پکایا جا سکتا ہے، البتہ ایسی صورت میں اسے گلنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
دال کو سلو ککر میں ڈالیں، پانی شامل کریں اور ہلکی آنچ پر 8 گھنٹے پکائیں۔ دن میں جب بھی سہولت ہو، ایک فرائنگ پین میں درمیانی سے تیز آنچ پر تیل گرم کریں اور کٹی ہوئی پیاز ڈالیں۔ تقریباً 10 منٹ تک، یا پیاز کے نرم، شفاف اور ہلکے سنہری ہونے تک بھونیں۔ پھر لہسن اور ادرک کا پیسٹ شامل کرکے مزید ایک منٹ بھونیں۔
چولہا بند کریں اور ٹماٹر، لال مرچ پاؤڈر، ہلدی، گرم مصالحہ اور پاپریکا شامل کریں۔ گرم تیل میں ایک منٹ تک اچھی طرح ملائیں، پھر ایک طرف رکھ دیں۔
آٹھ گھنٹے بعد دال چیک کریں کہ وہ اتنی نرم ہوچکی ہے کہ آسانی سے ٹوٹ جائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو مزید پکائیں۔ دال نرم ہوجائے تو اسے آلو میشر سے میش کریں یا سٹک بلینڈر سے بلینڈ کرلیں۔
تیار شدہ پیاز اور مصالحوں کا آمیزہ دال میں شامل کریں۔ دال مکھنی کو اچھی طرح گرم ہونا چاہیے، اس لیے اگر اسے کچھ دیر بعد پیش کرنا ہو تو سلو ککر کے ساؤٹے/سیرنگ موڈ یا چولہے پر برتن میں دوبارہ گرم کر سکتے ہیں۔
پیش کرنے سے عین پہلے زیادہ تر کریم شامل کریں اور حسبِ ذائقہ نمک ڈالیں۔ اوپر مکھن رکھیں، جو گرم دال میں پگھل جائے گا۔ آخر میں عموماً تھوڑی سی کریم اوپر سے ڈال کر کٹے ہوئے دھنیا سے سجا کر پیش کریں۔
کتاب: Curry Guy Slow Cooker — ڈین ٹومبز، Quadrille، قیمت £16.99
ٹماٹر کے ساتھ چنوں اور دال کا گاڑھا سوپ
ڈیلیشسلی ایلا، یعنی ایلا ملز، کہتی ہیں: ’یہ ایک ہی برتن میں تیار ہونے والا سوپ بہت کام آتا ہے۔ پیٹ بھرنے والا، سکون بخش اور دالوں اور چنوں سے حاصل ہونے والے پروٹین سے بھرپور۔ آپ کو بس تمام اجزا ایک ہی برتن میں ڈالنے ہیں اور یہ تقریباً خود ہی پک جاتا ہے۔ یہ ان شاموں کے لیے بہترین ہے جب آپ میں توانائی کم ہو لیکن پھر بھی غذائیت سے بھرپور کچھ کھانا چاہتے ہوں۔ اگر مقدار دگنی کرنی ہو تو اسے فریزر میں بھی بہت اچھی طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے۔‘
2 افراد کے لیے
اجزا
1 زیتون کا تیل
2 گاجریں، باریک کٹی ہوئی
1 پیاز، باریک کٹی ہوئی
اجوائن کے 3 ڈنٹھل، باریک کٹے ہوئے
400 گرام کا 1 ڈبہ چنے، پانی نکالے ہوئے
400 گرام کا 1 ڈبہ چیری ٹماٹر
750 ملی لیٹر گرم سبزیوں کا سٹاک
60 گرام سرخ دال، دھلی ہوئی
2 کھانے کے چمچ تاہینی
آدھی گٹھی فلیٹ لیف پارسلے (تقریباً 15 گرام)، موٹا کٹا ہوا
سمندری نمک اور کالی مرچ
اضافی ورجن زیتون کا تیل، آخر میں ڈالنے کے لیے
فوری کروٹن کے لیے — اختیاری
کھٹی خمیر والی روٹی (Sourdough) کے 2 سلائس
لہسن کا 1 جوا
ترکیب
1۔ ایک بڑے سوس پین میں درمیانی آنچ پر ایک کھانے کا چمچ زیتون کا تیل گرم کریں۔ اس میں گاجریں، پیاز اور اجوائن شامل کریں اور تقریباً 5 منٹ تک پکائیں، یہاں تک کہ سبزیاں نرم ہونے لگیں۔
2۔ چنے، چیری ٹماٹر، سبزیوں کا سٹاک اور دال پین میں شامل کریں۔ حسب ذائقہ مناسب مقدار میں نمک اور کالی مرچ ڈالیں اور اُبال آنے دیں۔
3۔ جب مائع اُبلنے لگے تو آنچ کم کرکے ہلکی آنچ پر پکائیں۔ 20 سے 25 منٹ تک، کبھی کبھار چلاتے ہوئے پکائیں، یہاں تک کہ گاجریں نرم اور دال اچھی طرح پک جائے۔
4۔ اگر کروٹن بنانا ہوں تو روٹی کو ٹوسٹ کریں، پھر لہسن کو روٹی کے دونوں طرف رگڑیں اور اسے ایک لقمے کے سائز کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔
5۔ پین کو چولہے سے اتاریں، پھر تاہینی اور پارسلے شامل کرکے اچھی طرح ملائیں اور حسبِ ذائقہ نمک اور کالی مرچ ڈالیں۔ اگر کروٹن تیار کیے ہیں تو انہیں سوپ میں ملا دیں یا اوپر سے چھڑک دیں۔ سوپ کو پیالوں میں تقسیم کریں اور آخر میں اوپر سے تھوڑا سا ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل ڈال کر پیش کریں۔
کتاب: Quick Wins: Healthy Cooking For Busy Lives — ایلا ملز، Yellow Kite، قیمت £25
میری می لینٹل — دال کی مزیدار ڈش
کک بُک Plant Protein کی مصنفہ گیگی گراسیا کہتی ہیں:
’کہا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ ڈش کسی کے لیے بنائیں تو اسے چکھنے کے بعد وہ آپ سے شادی کرنا چاہے گا!‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’یہ ڈش عام طور پر چکن سے بنائی جاتی ہے، لیکن اس ورژن میں سرخ دال دھوپ میں خشک کیے گئے ٹماٹروں اور روزمیری کے بھرپور ذائقے کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے، جس سے ہر نوالہ بہترین ذائقے سے بھر جاتا ہے۔ صرف 20 منٹ میں آپ ایک مزیدار اور پروٹین سے بھرپور ڈش تیار کرسکتے ہیں، جس کے بارے میں امید ہے کہ یہ آپ کی پسندیدہ ترکیبوں میں شامل ہوجائے گی۔‘
دو سے چار افراد کے لیے:
اجزا
1 چھوٹی یا درمیانے سائز کی گاجر، چھوٹے ٹکڑوں میں کٹی ہوئی
اجوائن کا آدھا ڈنٹھل، چھوٹے ٹکڑوں میں کٹا ہوا
1 چھوٹی پیاز، چھوٹے ٹکڑوں میں کٹی ہوئی
لہسن کے 2 سے 3 جوے، بہت باریک کٹے ہوئے
روزمیری کی 1 ٹہنی
10 سے 12 سن ڈرائیڈ ٹماٹر، کٹے ہوئے، اور پیش کرنے کے لیے مزید
1 کھانے کا چمچ ٹماٹر پیوری
300 گرام چھلی ہوئی سرخ دال، دھلی ہوئی
700 ملی لیٹر سبزیوں کا اسٹاک
200 ملی لیٹر سویا ملک
4 سے 5 کھانے کے چمچ نیوٹریشنل ییسٹ
ایک مٹھی بیبی پالک
پکانے کے لیے زیتون کا تیل
نمک اور تازہ پسی ہوئی کالی مرچ
پیش کرنے کے لیے
پلانٹ بیسڈ کریم یا دہی
ایک مٹھی سے کم تازہ تلسی
پلانٹ بیسڈ پارمیسان طرز کا پنیر
ترکیب
1۔ ایک سوس پین میں درمیانی آنچ پر مناسب مقدار میں زیتون کا تیل گرم کریں۔ گاجر، اجوائن، پیاز، لہسن، روزمیری، سن ڈرائیڈ ٹماٹر اور ٹماٹر پیوری شامل کرکے 5 سے 8 منٹ تک بھونیں، یہاں تک کہ پیاز نرم ہوجائے اور تمام ذائقے اچھی طرح جذب ہوجائیں۔ اگر آمیزہ خشک ہونے لگے تو تھوڑا سا پانی شامل کریں۔
2۔ روزمیری نکال دیں اور دال شامل کرکے 1 سے 2 منٹ تک ہلائیں تاکہ دال ہلکی سی بھن جائے۔ سبزیوں کا سٹاک آہستہ آہستہ شامل کریں اور مسلسل چلاتے رہیں۔ پھر سویا ملک شامل کرکے 10 منٹ ہلکی آنچ پر پکائیں اور دوران پکوان بار بار چلاتے رہیں۔
3۔ جب دال پک جائے تو حسبِ ذائقہ نمک اور کالی مرچ شامل کریں۔ پھر نیوٹریشنل ییسٹ اور پالک ڈال کر اس وقت تک ہلائیں جب تک پالک نرم نہ ہوجائے۔
4۔ پلانٹ بیسڈ کریم یا دہی، مزید سن ڈرائیڈ ٹماٹر، تلسی اور پلانٹ بیسڈ پارمیسان طرز کے پنیر کے ساتھ پیش کریں۔
کتاب: Plant Protein: 80 Healthy And Delicious High-Protein Vegan Recipes — گیگی گراسیا، Greenfinch، قیمت £22
کرسپی کیل کے ساتھ ساس میں تیار گنوکی
شیف سوفی میکفی کہتی ہیں: ’سرد دن میں نرم اور ملائم گنوکی سے بھرے پیالے سے زیادہ سکون بخش چیز شاید ہی کوئی ہو۔ اس ڈش میں پیوئی دال شامل کرنے سے پروٹین کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے۔ میں تیار شدہ پکی ہوئی دال کا پاؤچ استعمال کرتی ہوں کیونکہ مصروف دنوں میں یہ آسان اور سہولت بخش ہوتا ہے۔‘
تین افراد کے لیے:
اجزا
2 مٹھی کیل(سبز پتوں والی سبزی)، موٹے ٹکڑوں میں توڑا ہوا
3 کھانے کے چمچ ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل، اور اوپر سے ڈالنے کے لیے مزید
لہسن کے 5 جوے، کچلے ہوئے
400 گرام کے 2 ڈبے کٹے ہوئے ٹماٹر
تازہ تلسی کے چند پتے، توڑے ہوئے
500 گرام گنوکی
250 گرام پکی ہوئی پیوئی دال
4 بھرے ہوئے کھانے کے چمچ نیوٹریشنل ییسٹ
سمندری نمک اور کالی مرچ
کاجو کے ’پارم‘ کے لیے
120 گرام کاجو
چھ کھانے کے چمچ نیوٹریشنل ییسٹ
آدھا چائے کا چمچ نمک
ایک چائے کا چمچ لہسن پاؤڈر
نوٹ: اگر آپ ویگن ڈش بنانا چاہتے ہیں تو یقینی بنائیں کہ گنوکی میں انڈا شامل نہ ہو۔ زیادہ معیاری برانڈز استعمال کریں جو ڈورم گندم کی سوجی سے بنائے جاتے ہیں، کیونکہ اس میں عام طور پر پروٹین زیادہ ہوتا ہے۔
ترکیب
1۔ اوون کو پنکھے والے موڈ پر 200 ڈگری سینٹی گریڈ یا عام اوون پر 220 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہلے سے گرم کریں۔
2۔ سب سے پہلے کرسپی کیل تیار کریں۔ کیل کو بیکنگ ڈش میں ڈالیں، اس پر تھوڑا سا زیتون کا تیل اور چٹکی بھر نمک ڈالیں۔ اچھی طرح ہاتھ سے ملائیں اور 10 منٹ تک بیک کریں۔
3۔ اسی دوران گنوکی پکانے کے لیے ایک برتن میں پانی اُبالنے رکھیں اور ساس تیار کرنا شروع کریں۔ ایک پین کی تہہ کو ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل سے ڈھانپیں، ہلکی آنچ پر گرم کریں، پھر لہسن شامل کرکے 1 سے 2 منٹ تک ہلکی آنچ پر بھونیں، یہاں تک کہ خوشبو آنے لگے۔ لہسن کو بھورا نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے ساس کا ذائقہ کڑوا ہوجاتا ہے۔
4۔ ٹماٹر، ایک بڑی چٹکی سمندری نمک اور تلسی کے پتے شامل کریں۔ اچھی طرح ہلائیں اور ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ 5 منٹ بعد حسبِ ذائقہ نمک اور مرچ شامل کریں۔
5۔ پیکٹ پر دی گئی ہدایات کے مطابق گنوکی کو مناسب مقدار میں نمک ملے پانی میں پکائیں۔
6۔ کاجو کا ’پارم‘ بنانے کے لیے تمام اجزا کو بلینڈ کریں، یہاں تک کہ خشک اور روٹی کے چورے جیسی ساخت حاصل ہوجائے، جو کدوکش کیے ہوئے پارمیسان سے مشابہ ہو۔
7۔ گنوکی پک جائے تو اسے چھان کر ٹماٹر کی ساس میں شامل کریں، ساتھ ہی پیوئی دال بھی ڈال دیں۔ نیوٹریشنل ییسٹ شامل کرکے اچھی طرح ملائیں۔
8۔ فوراً پیش کریں اور اوپر کرسپی کیل، کاجو کا ’پارم‘ اور تازہ پسی ہوئی کالی مرچ ڈالیں۔
کتاب: Soph’s Plant Kitchen 30 in 30: 30g of protein, 30 minutes or less — سوفی میکفی، Yellow Kite، قیمت £25




