غزہ، 20 ستمبر: جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع کویت اسپیشلٹی اسپتال نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایندھن کی فراہمی بند ہونے کے باعث ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ تمام شعبوں میں کام معطل کر دیا گیا ہے۔
اسپتال نے اپنے بیان میں کہا، "ہم افسوس کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ سہولت کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے آج اتوار سے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ اسپتال کے شعبوں میں کام معطل کر دیا گیا ہے۔” اسپتال نے خبردار کیا کہ بحران جاری رہنے کی صورت میں "روزانہ ہزاروں شہری طبی علاج سے محروم” ہو رہے ہیں۔
یہ پیش رفت غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے اثرات کے دوران سامنے آئی ہے، جہاں سخت محاصرہ اور علاقے کے بنیادی ڈھانچے اور نظامِ صحت پر وسیع حملے جاری ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی جارحیت میں 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 1 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے کا تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
اسرائیل نے خطے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور تمام راہداریوں پر اس کا کنٹرول ہے، جس کے باعث ضروری سامان کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ امریکی ثالثی میں عارضی جنگ بندی نافذ ہے، جس کی شرائط کے تحت اسرائیل کو روزانہ مناسب تعداد میں امدادی ٹرک اور انسانی ضرورت کا سامان علاقے میں جانے دینا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق اس نے انتہائی قلیل مقدار میں امداد کی اجازت دی۔ نتیجتاً پورا علاقہ بنیادی ضروریات کی قلت کا شکار ہے، اور اسپتالوں میں ایندھن کی کمی اسی ناکہ بندی کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے۔

