روم،(ایجنسی): اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی اور ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت جلد ہی اس سلسلے میں کابینہ کے سامنے تجویز پیش کرے گی۔ تاہم یہ اقدامات ابھی قانون نہیں بنے اور غیر ملکی طلبہ کی فی جماعت زیادہ سے زیادہ تعداد بھی طے نہیں کی گئی۔
اتوار کو روم میں اپنی جماعت برادرز آف اٹلی کی نوجوان شاخ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین، جن کے بچوں کو اطالوی اسکول نظام میں انضمام کے حوالے سے "سنگین مشکلات” کا سامنا ہو، انہیں اطالوی زبان کی کلاسوں میں شرکت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا، "جو شخص اٹلی آتا ہے اور یہاں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے، اسے ہماری زبان سیکھنی، ہماری ثقافت سمجھنی اور ہمارے قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔”
مجوزہ پابندی میں برقع اور نقاب شامل ہیں، جبکہ میلونی نے حجاب کا ذکر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں طلبہ کو چہرہ کھلا رکھنا چاہیے اور کسی روایت کی بنیاد پر کسی لڑکی کو چہرہ چھپانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ غیر ملکی طلبہ کی حد کے بارے میں انہوں نے کوئی مخصوص فیصد یا عدد نہیں بتایا۔ ان کے مطابق کسی جماعت میں اگر ایسا ایک ہی بچہ ہو جو اطالوی نہیں سمجھتا تو وہ اساتذہ اور ساتھیوں کی مدد سے سیکھ سکتا ہے، لیکن ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہو یا وہ اکثریت میں ہوں تو یہ انضمام کے بجائے "نظرانداز کرنا” ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق تعلیمی سال ۲۵-۲۰۲۴ء میں اٹلی کے اسکولوں میں غیر اطالوی شہریت کے حامل طلبہ کل تعداد کا ۱۱.۶؍ فیصد تھے، یعنی ہر ۱۰۰؍ میں تقریباً ۱۲۔ ایک اطالوی تحقیقی جائزے کے مطابق ان کی مجموعی تعداد ۱٫۳۹٫۳۲۳ رہی۔ اٹلی میں ۲۰۱۰ء کی وزارتِ تعلیم کی ہدایات کے تحت پہلے ہی ۳۰؍ فیصد کی حد موجود ہے، مگر اس پر عمل درآمد ہر جگہ یکساں نہیں رہا۔
مجوزہ اقدامات کو نافذ ہونے کیلئے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔ حکومتی منظوری کے بعد انہیں ۶۰؍ دن کے اندر پارلیمنٹ سے منظور ہونا ضروری ہوگا، ورنہ وہ قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ ملک میں ۱۹۷۵ء کے قانون کے تحت بلا جواز شناخت مشکل بنانے والے لباس پر پابندی ہے، جبکہ ۲۰۰۸ء کی عدالتی تشریح میں مذہبی یا ثقافتی وجوہات پر چہرہ ڈھانپنے کی گنجائش تسلیم کی گئی تھی، البتہ شناخت کی تصدیق کے وقت چہرہ ظاہر کرنا لازم قرار دیا گیا۔

