السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر
بہار کے جموئی میں دو نابالغوں کے ساتھ ہراسانی کے واقعہ کے بعد خواتین کی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے اپوزیشن نے این ڈی اے کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مڈبھیڑ کے بعد کلیدی ملزم نندن یادو کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس دوران جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش کشواہا نے اسے ’چھٹ پٹ‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو 2005 سے پہلے کے بہار کو یاد کرنا چاہیے، جب لوگ گھروں سے نکلنے سے بھی ڈرتے تھے۔
نئی دہلی:بہار کے جموئی میں 19 ستمبر کی شام کوچنگ سے لوٹ رہے دسویں جماعت کے ایک طالبعلم اور طالبہ کو مبینہ طور پر کچھ نوجوانوں نے راستے میں روک کر ان کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی۔ واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ قومی سطح پر سرخیوں میں آ گیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور تقریباً سات مشتبہ کی پہچان کیے جانے کی بات کہی ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے ایک خاتون افسر کی سربراہی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔
منگل کی دوپہر تک موصولہ جانکاری کے مطابق، معاملے کا کلیدی ملزم نندن یادو پولیس مڈبھیڑ میں زخمی ہو گیا اور اسے علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔
یادو ان ملزموں میں سے ایک ہے، جو اس واقعہ میں شامل تھا اور واقعہ کے مبینہ ویڈیو میں بدتمیزی کرتا ہوا نظر آ رہاہے۔
وہیں، اس واقعہ کے بعد بہار میں خواتین کی سلامتی اور امن و امان کو لے کر سیاسی بیان بازی شروع ہو گئی ہے۔ حکمراں اتحاد کی اتحادی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ریاستی صدر امیش کشواہا نے واقعہ کو ’چھٹ پٹ‘ یا ’الگ تھلگ‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے معاملے کو لے کر حساس ہے۔
انہوں نے لوگوں سے 2005 سے پہلے کے بہار کو یاد کرنے کو کہا، جب ان کے مطابق لوگ گھروں سے نکلنے سے بھی ڈرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں اس طرح کا واقعہ ہونے پر انتظامیہ کارروائی کر رہی ہے اور ملزموں کو جلد حراست میں لیا جائے گا۔
بہار سرکار کے وزیر شرون کمار نے بھی کہا کہ جرم پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے اور اس طرح کے واقعات ’کبھی کبھی‘ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نظر ایسے معاملوں پر ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کے اس بیان کو اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
پولیس کے مطابق، دونوں نابالغ 19 ستمبر کی شام کوچنگ کے بعد جموئی کے مڑوا پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔ واپسی کے دوران کچھ لوگوں نے انہیں راستے میں روک لیا۔ وائرل ویڈیو میں دونوں کو گھیر کر ان سے پوچھ گچھ اور ان کے ساتھ مارپیٹ کے واقعہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں ایک حملہ آور لڑکی کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور اسے نامناسب طریقے سے چھوتے ہوئے نظر آ رہاہے۔ وہیں لڑکی کے دوست کے ساتھ بھی بدسلوکی کی جا رہی ہے اور اسے مارا جا رہا ہے۔
جموئی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وشوجیت دیال کے مطابق، پولیس کو واقعہ کی شکایت فوری طور پر نہیں ملی تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے اس میں نظر آنے والی گاڑی کے نمبر کی مدد سے متاثرین تک رسائی حاصل کی۔ پولیس نے پاکسو ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔
اس معاملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً سات ملزموں کی پہچان کی گئی ہے اور تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جانچ کے لیے ایس ڈی پی او دیپتی مونالی کی سربراہی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔
پولیس نے لوگوں سے ویڈیو دوبارہ شیئر نہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے، کیونکہ اس سے نابالغ متاثرین کی پہچان اجاگر ہو سکتی ہے۔
قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیا
قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن کی صدر وجیا رہاٹکر نے بہار کے ڈی جی پی کو خط لکھ کر ملزمین کی فوری پہچان اور گرفتاری، ایف آئی آر اور مقررہ مدت میں غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیشن نے ویڈیو کی بنیاد پر ملزمین کی پہچان کرنے کو بھی کہا ہے۔
این سی ڈبلیو نے یہ بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو کی وجہ سے متاثرہ نابالغوں کی پہچان اجاگرنہیں ہونی چاہیے۔ کمیشن نے معاملے میں کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
’سڑک پر لڑکی محفوظ کیوں نہیں؟‘
لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے واقعہ کو ’انتہائی پریشان کن‘ بتایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ دو طلبہ کو سڑک پر روکا گیا، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور لڑکی کو مبینہ طور پر چھوا گیا اور کھینچ کر لے جانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ہر شخص کی شناخت کرکے پاکسو کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔
راہل گاندھی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ 19 ستمبر کو پیش آیا تھا تو ملزم اب تک جیل میں کیوں نہیں ہیں اور شام تقریباً سات بجے عوامی سڑک پر ایک لڑکی کی سلامتی کے معاملے پر بہار حکومت کیا جواب دے گی۔
The video from Jamui, Bihar is deeply disturbing.
Two Class 10 students were stopped on a road. Harassed. Humiliated. Molested. A young girl, hands folded, begged to be let go while goons groped her and dragged her away.
Who gave these men the right to behave like this? This is…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 21, 2026
تیجسوی یادو نے لاء اینڈ آرڈر پر سوال اٹھائے
اس سلسلے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے واقعہ کو لے کر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایاہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ’انارکی‘ہے اور طالبات اور خواتین کی سلامتی کے حوالے سے حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے حکمراں اتحاد پر جرائم کے واقعات کو کم کرکے دکھانے کا الزام لگایا اور جموئی کے واقعہ کو ریاست میں امن و امان سے متعلق بڑے سوالوں سے جوڑا۔ ساتھ ہی حکمراں جماعت کی جانب سے دیے گئے بیان کو بھی نچلی سطح کا قرار دیا۔
बिहार को बीजेपी-एनडीए ने शर्मसार किया है। सब शर्मिंदा है। जमुई कांड पर सरकार के लोग निम्नस्तरीय बयान दे रहे है।
जब जमुई कांड हुआ तब सम्राट चौधरी जातीय सम्मेलन कर रहे थे। #Bihar #Crime #Shame pic.twitter.com/qRAUOunvcP
— Tejashwi Yadav (@yadavtejashwi) September 21, 2026
وہیں، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئےملزمین کے خلاف سخت کارروائی اور ریاستی حکومت کی جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
बिहार के जमुई में छात्रा के साथ शर्मनाक बदसलूकी हुई,
उससे पहले दिल्ली में 17 वर्षीय बेटी का गैंगरेप और हत्या…ऐसी वारदातें भाजपा के “नारी शक्ति वंदन” और “बेटी बचाओ” के झूठ व परपंच का चीख़-चीख़ कर पर्दाफ़ाश करती हैं।
हमारी माँग स्पष्ट है – दोषियों को कड़ी से कड़ी सज़ा और…
— Mallikarjun Kharge (@kharge) September 21, 2026
ایم پی پپو یادو نے بھی ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ملزموں کو تحفظ دے رہی ہے۔
#WATCH | Delhi: On a viral video from Jamui (Bihar) showing a teenage couple being harassed and the girl being groped, Independent MP Pappu Yadav says, “…Why do people not fear the law, Constitution, Govt, system and society?…Who are you to ask whether their parents knew… pic.twitter.com/zxVmaJDsa2
— ANI (@ANI) September 22, 2026
حکومت کا ’زیرو ٹالرنس‘ دعویٰ
قابل ذکر ہے کہ جموئی کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سمراٹ چودھری کی حکومت امن و امان کے معاملے میں ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کی بات کرتی رہی ہے۔
معلوم ہو کہ مئی 2026 میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا تھا کہ امن و امان اور ’رول آف لاء‘ حکومت کی ترجیحات میں ہے اور پولیس کو مجرموں کے خلاف بروقت سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جرائم، بدعنوانی اور فرقہ واریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وہیں، جولائی 2026 میں چودھری نے مجرموں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جرم چھوڑ دیں یا جیل جانے کے لیے تیار رہیں۔ اسی دوران ریاستی حکومت نے جرائم سے متعلق معاملوں کے فوری تصفیے کے لیے 100 فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کو جدید ٹکنالوجی، اے آئی اور بہتر وسائل سے مضبوط کیا جا رہا ہے اور خواتین اور نوجوانوں کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ایسے میں جموئی کے واقعہ سے اٹھ رہا سوال یہ ہے کہ حکومت کے ان دعووں کا زمینی اثر پولیس کے ابتدائی ردعمل، عوامی مقامات پر سلامتی اور ملزموں کے خلاف فوری کارروائی میں کس حد تک نظر آتا ہے۔
این سی آر بی کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی ’کرائم ان انڈیا 2023‘ رپورٹ کے مطابق، بہار میں 2023 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 22,952 معاملے درج ہوئے تھے۔ یہ تعداد 2022 میں درج 20,222 معاملوں سے زیادہ تھی۔ 2021 میں ایسے 17,950 معاملے درج ہوئے تھے۔یعنی 2021 سے 2023 کے درمیان بہار میں خواتین کے خلاف درج معاملوں کی تعداد میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، این سی آر بی کے اعداد و شمار صرف درج معاملوں کودکھاتے ہیں، جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق ہراسانی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، جن کی رپورٹ ہی نہیں ہو پاتی۔
قابل ذکر ہے کہ جولائی 2026 میں لوک سبھا میں وزارت داخلہ کی جانب سے دیے گئے ایک جواب میں 2024 کے لیے بہار میں خواتین کے خلاف جرائم کے 27,359 معاملے درج ہونے کا اعداد و شمار دیا گیا۔ یہ 2023 کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد زیادہ ہے۔ اسی جواب کے مطابق، ملک بھر میں 2024 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,41,534 معاملے درج ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 4,48,211 تھی۔
تاہم، مارچ 2026 میں وزارت داخلہ کے ایک دوسرے جواب میں کہا گیا تھا کہ این سی آر بی کی آخری شائع شدہ ’کرائم ان انڈیا‘ رپورٹ 2023 کی ہے۔ اس لیے 2024 کے اعداد و شمار کو فی الحال پارلیامانی جواب میں دستیاب اعداد و شمار کے طور پر پیش کرنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ شائع شدہ ’کرائم ان انڈیا‘ رپورٹ کے طور پر۔
صرف خواتین کے خلاف جرائم نہیں، بچوں کے خلاف جرائم بھی بڑا سوال
این سی آر بی کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں بچوں کے خلاف جرائم کے 1,77,335 معاملے درج ہوئے تھے، جو 2022 کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ تھے۔ ان میں 79,884 معاملے بچوں کے اغوا اور 67,694 معاملے پاکسو ایکٹ کے تحت درج ہوئے۔
جموئی کے واقعہ میں دونوں متاثرین نابالغ ہیں اور پولیس نے پاکسو ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ صرف خواتین کی سلامتی یا امن و امان کا سوال نہیں، بلکہ بچوں کی سلامتی اور عوامی مقامات پر ان کے تحفظ کے سوال سے بھی جڑا ہوا ہے۔
’سال2005 سے پہلے‘ کے بہار کی بحث سے آگے
غور طلب ہے کہ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش کشواہا نے جموئی کے واقعہ کے جواب میں 2005 سے پہلے کے بہار کے امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیا ہے۔ یہ بہار کی سیاست میں طویل عرصے سے استعمال ہونے والا سیاسی حوالہ ہے۔
تاہم، جموئی کے واقعہ کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ 19 ستمبر کی شام پیش آنے والے واقعہ میں ملزموں کی شناخت، گرفتاری، پاکسو کے تحت تفتیش اور متاثرین کی سلامتی کس طرح یقینی بنائی جاتی ہے۔
سرکار کا کہنا ہے کہ پولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد کارروائی کی، تین لوگوں کو گرفتار کیا اور ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اس کارروائی کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ واقعہ کے بعد انتظامیہ کا ابتدائی ردعمل کیسا تھا اور عوامی مقامات پر خواتین اور نابالغوں کی سلامتی کے لیے موجودہ سسٹم کس حد تک مؤثر ہے۔

