لاہور ہائی کورٹ نے منگل کو توہین مذہب کے مقدمے میں جامعہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف دائر اپیل پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جنید حفیظ کی 2020 میں دائر اپیل پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے پراسیکیوشن سے استفسار کیا کہ جن الزامات کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے جنید حفیظ کو سزا سنائی، کیا ان کی تصدیق سے متعلق شواہد موجود ہیں۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے مکمل تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی اور اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔
جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ عدالت نے اپیل میں اٹھائے گئے سوالات پر پراسیکیوشن سے جواب طلب کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ’جنید حفیظ کی سزا کے خلاف اپیل پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ہم نے جو سوالات اٹھائے، عدالت نے پراسیکیوشن سے ان کے جوابات طلب کیے ہیں۔ جس کے لیے انہیں وقت دیا گیا، مگر اگلی پیشی کی تاریخ ابھی نہیں دی گئی، جو ایک دو دن میں فائنل ہو جائے گی۔‘
جنید حفیظ کا معاملہ
جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پیدا ہونے والے جنید حفیظ جامعہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ انگریزی میں بطور وزیٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں اور فل برائٹ سکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر چکے ہیں۔
پولیس نے 2013 میں جنید حفیظ کے خلاف مذہبی دل آزاری والے کلمات اور سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرے کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ان الزامات کے خلاف یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک گروپ نے احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت ملتان سینٹرل جیل میں کی گئی۔ مقدمے کے دوران ان کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو مئی 2014 میں ملتان میں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
دسمبر 2019 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے جنید حفیظ کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 اے، 295 بی اور 295 سی کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت، عمر قید، 10 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اس فیصلے کے خلاف جنید حفیظ کے والد نے وکلا کے ذریعے 2020 میں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت 22 ستمبر 2026 کو دوبارہ ہوئی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی۔

