کابل/اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ پیر کے روز پاک افغان سرحد پر شمال مشرقی افغانستان میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں 28 جنگجو ہلاک ہو گئے، جبکہ افغان حکام کے مطابق ان حملوں میں 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے۔
اس واقعے نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تقریباً تین ماہ کے نسبتاً پُرسکون دورانیے کے بعد کشیدگی میں دوبارہ اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ حملے شمال مغربی پاکستان میں پولیس تنصیب پر ہونے والے ایک حملے کے چند دن بعد کیے گئے، جس میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بتایا کہ صوبہ کنر میں ایک گھر پاکستانی حملوں کی زد میں آیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ پاکستانی فوج نے تاحال ان حملوں سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
یہ حملے اس واقعے کے ایک روز بعد ہوئے جب ضلع ہنگو میں جنگجوؤں سے فائرنگ کے تبادلے میں 6 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار، بشمول فوج کے 2 افسران، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل جمعہ کو کوہاٹ میں بھی ایک مہلک حملہ ہوا تھا جس میں پولیس لائنز کی مسجد کو نشانہ بنایا گیا اور 8 مسلح حملہ آور دفاتر میں داخل ہو گئے، تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
افغان حکومت کا ردعمل
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا اور اسے "جارحیت اور ظلم” قرار دیا۔ ان کے مطابق حملے رات تقریباً تین بجے کُنر کے ضلع نرگل اور پکتیکا کے ضلع برمل میں کیے گئے، جن میں نرگل کے گاؤں پٹھان میں ایک گھر تباہ ہوا جس میں دیہاتی نور احمد اور ان کے خاندان کے دو افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستانی وزارت اطلاعات نے سنیچر کو ہی خبردار کر دیا تھا کہ حملوں کے جواب میں افغان سرزمین پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وزارت نے کوہاٹ حملے کا الزام افغانستان میں موجود جنگجوؤں پر عائد کیا اور طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں اور تربیتی نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
خیال رہے کہ فروری میں افغانستان کے جوابی حملوں کے بعد سے سرحد پار جھڑپوں میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور شبہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔

