ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں مگر دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار

iran pm officer d


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے مختلف متبادلات پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ وہ پورے ایران کو اڑا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا۔ اتوار کے روز پارلیمنٹ کی کارکردگی کے جائزے کے لیے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا: "ہم ایسے کسی بھی مذاکرات کا خیرمقدم کریں گے جو سلامتی اور پائیدار امن کا باعث بنیں۔ اس راستے پر ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے ملک کو درپیش حساس اور خطرناک حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال دشمنوں کے بڑھتے دباؤ اور ایران کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران طاقت یا دھمکی کی پالیسی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔
ٹرمپ کی نئی آخری تنبیہ
ٹرمپ نے تہران کو ایک نئی آخری تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے فیصلے کے مرحلے میں ہیں اور خبردار کیا کہ مستقبل قریب میں "بہت بڑی چیزیں” ہونے والی ہیں۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ایران کا "صفایا” کر سکتے ہیں، اسے اقتصادی طور پر تباہ کر سکتے ہیں، یا اس کے ساتھ سفارتی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "میرا سوال یہ ہے کہ اگر اور کب میں پوری قوم کو تباہ کر دوں؟ انہیں بہتر ہے کہ وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔”
جمعرات کو بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایرانی حکومت کو مکمل طور پر تباہ کر دیں یا ایسا نہ کریں، اور مزید کہا تھا کہ ان کے ساتھ "کچھ بھی ہو سکتا ہے۔”
پس منظر
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جبکہ امریکہ اور اتحادی تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ صدر پزشکیان کے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک آنے کی توقع ہے، جہاں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اپریل میں بھی ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ "ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی” جب تک کہ کوئی انقلابی پیش رفت نہ ہو۔

متعلقہ پوسٹ