ایرانی فوج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے راستے پر چلنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق موسوی نے کہا کہ ایرانی فوج شہید سپریم لیڈر کے راستے پر گامزن رہے گی۔ انہوں نے جنازے میں شرکت پر ایرانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے شہید لیڈر کا راستہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا، اور عوام کی شرکت کو تاریخی قرار دیا۔ ان کے بقول اس شرکت نے قوم اور اسلامی انقلاب کے نظریات کے درمیان اٹوٹ رشتے کا مظاہرہ کیا اور دشمنوں کو واضح پیغام دیا۔
۶ روزہ آخری رسومات میں ۴ کروڑ سے زائد افراد کی شرکت
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی ۶ روزہ رسومات میں ۴ کروڑ ۱۰ لاکھ سے ۴ کروڑ ۳۰ لاکھ کے درمیان افراد نے شرکت کی۔ مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے اسے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار دیا۔ تقریبات تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہوئیں، جبکہ مرکزی تقریب تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ہوئی۔
تقریبات میں ایران کے علاقائی اتحادیوں کے وفود بھی شریک ہوئے، جن میں غزہ سے حماس اور اسلامک جہاد، لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی نمائندے شامل تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہادت کے ۴ ماہ بعد امام علی رضا کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کی بدلے کی دھمکی
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے رہبر انقلاب کی شہادت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا قتل تاریخ کی یادداشت سے کبھی نہیں مٹے گا اور ذمہ دار عناصر، خصوصاً امریکی فوج، کو مناسب سزا دینا ضروری ہے۔ وحیدی کے بقول امریکہ اور تمام دشمن یہ جان لیں کہ اس بزدلانہ اقدام سے مزاحمت کا پرچم سرنگوں نہیں ہو سکتا اور شہداء کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

