برسلز/لندن (انٹرنیشنل نیوز ڈیسک) — یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور اس اہم تجارتی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لائن نے کہا کہ ایران کی کارروائیوں سے عالمی معاشی استحکام کو خطرات لاحق ہیں، اس لیے ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جہاز رانی کی آزادی جلد از جلد بحال کرنے کے لیے کام کریں گے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی اس موقف کی تائید کی اور کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے ایک اہم پبلک گڈ ہے، اسے کسی بھی صورت بند نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی قیادت میں 40 سے زائد ممالک کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں یورپی یونین سمیت فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں سفارتی، معاشی اور سیاسی اقدامات پر غور کیا گیا تاکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکے اور جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت بحال ہو۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوگی، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، اور عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر سمندری قانون کے اصولوں کا احترام کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اپنائیں۔
یورپی یونین نے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں بننے والی کولیشن کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ حکام نے ایران پر زور دیا کہ وہ جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرے اور ٹولز کی صورت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کا راستہ ہے، اس کی بندش سے یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا خطرہ ہے۔
یورپی یونین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس اہم واٹر ویے کی آزادی کو یقینی بنائے۔ مزید تفصیلات جلد متوقع ہیں۔

