ایران امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم

28f9eca7b737fef096540414732ebe7c L


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری ہیں، امید نہیں چھوڑی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود امید ترک نہیں کی، امن کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اعلامیے برائے حقِ ترقی کی 40ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 40 سال قبل منظور کیے گئے اعلامیے نے اس امر کی توثیق کی کہ ترقی عوام کا بنیادی حق ہے، اقوام متحدہ میں اس حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس 23 ستمبر کو منعقد ہوا، جو جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہر فرد کو بہتر مستقبل کی تلاش اور ترقی کا حق حاصل ہے جبکہ ترقی کا مقصد محض دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ سماجی ترقی، انسانی وقار اور عوام کی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر دنیا کو قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا ہے، جس سے حکومتوں کی مالی گنجائش محدود ہورہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی آفات کو بھی ترقی پذیر ممالک کے مسائل میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود امید ترک نہیں کی، امن کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں کررہا ہے۔

صحافی کے سوال پر کہ کیا ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ ملاقات کا امکان ہے، شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ملاقات کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کے حل کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

رائٹرز کے مطابق 22 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے اور مذاکرات جاری ہیں اور انہیں معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے شرائط اور کشیدگی بدستور موجود ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ثالثی کی ہے۔ جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی اور ایرانی صدور نے دستخط کیے تھے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی تھی۔

تاہم بعد کے مہینوں میں جنگ بندی اور مفاہمتی عمل کو مشکلات کا سامنا رہا، اگست میں الجزیرہ نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو امن کے فریم ورک کے طور پر برقرار رکھنے اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے کی کوشش کررہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا آج کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطے کیلئے مختلف ممالک بھی کوششیں کررہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق کی ہے جبکہ عرب ممالک بھی دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطح ملاقات کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔


install suchtv android app on google app store



Source link

متعلقہ پوسٹ