پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی۔فوٹو: ایکس/راہل گاندھی
دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں سرِفہرست ہیں۔
نئی دہلی:لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات (24 ستمبر) کو الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں سرِفہرست ہیں۔
راجدھانی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے کہا،’ہمارے پاس اس بات کو پوری طرح ثابت کرنے کے لیے خاطر خواہ جانکاری ہے۔‘
LIVE: Press Conference | Indira Bhawan, New Delhi https://t.co/fGqRz6JtQM
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 24, 2026
انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو’سرکاری گواہ بن جانا چاہیے۔‘ یہاں گاندھی یہ اشارہ کر رہے تھے کہ چیف الیکشن کمشنر اس بات سے واقف ہیں کہ مودی اور شاہ انہیں اور الیکشن کمیشن کو عوامی جانچ پڑتال سے بچا رہے تھے۔ ایسے میں وہ مبینہ انتخابی ہیر پھیر کے سلسلےمیں ثبوت دے سکتے ہیں۔
گاندھی نے کہا،’ہم ایسی حالت میں پہنچ گئے ہیں، جہاں 1947 کے بعد کبھی نہیں رہے۔ ہمارے انتخابات بنیادی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ہمارا ووٹ چھین لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال بھی اس مبینہ سازش کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا،’یہ انتخابات سے متعلق کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں ہے، یہ ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے۔ ‘
کانگریس ایم پی نے کہا،’ہندوستان میں کوئی ایسا کوئی بھی شخص، جو صحیح ڈھنگ سے سوچتا اور سمجھتا ہے، اس بات پر شک نہیں کرتا کہ ملک کے انتخابی اور ادارہ جاتی نظام کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ‘
گاندھی نے ان لوگوں کی ایک فہرست بھی جاری کی، جنہیں ان کی پارٹی ہندوستان میں’جمہوریت کو تباہ کرنے‘ کا ذمہ دار مانتی ہے۔

راہل گاندھی کی یہ پریس کانفرنس انڈین ایکسپریس کی 23 اور 24 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک بڑی پڑتال کے بعد ہوئی ہے۔ ان خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جاری ایس آئی آرمہم کے تحت ووٹر فہرستوں میں ترمیم کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندر شدید اختلافات تھے۔
رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق فیصلوں پر بار بار اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان میں خاص طور پر مودی حکومت کی جانب سے جنوری 2026 میں شروع کیے گئے سینٹرلائز ڈ نظام ای سی آئی نیٹ پر اعتراضات شامل تھے۔
اخبار کی پڑتال میں سامنے آیا کہ گوا میں 97 ووٹروں نے ریاستی الیکشن کمیشن کے سامنے مسودہ ووٹر فہرست سے اپنا نام ہٹائے جانے کو کامیابی سے چیلنج کیا تھا، لیکن اس کے باوجود سینٹرلائزڈ نظام ای سی آئی نیٹ انہیں فائنل ووٹر لسٹ میں شامل کرنے میں ناکام رہا۔
گاندھی نے کہا،’ووٹ کی چوری سے قانون کی چوری ہوتی ہے اور قانون کی چوری سے اداروں کی چوری ہوتی ہے۔‘
یہاں ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کے نتیجے میں مقننہ ایسے قوانین منظور کرتی ہے جو عوام کے مفاد میں نہیں ہوتے، اور اس کے نتیجے میں ادارہ جاتی نظام بھی ناکام ہونے لگتا ہے۔
سلسلہ وار ‘ووٹ چوری’
راہل گاندھی نے مبینہ انتخابی ہیرپھیر کے واقعات کی ایک سلسلےوار تفصیلات پیش کی۔ اس کی شروعات انہوں نے دسمبر 2023 میں الیکشن کمشنروں کی تقرری اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے والے قانون سے کیا۔
اس کے بعد انہوں نے فروری 2025 میں کانگریس پارٹی کی جانب سے مہاراشٹر میں’ووٹ چوری‘ کے الزامات کا ذکر کیا۔
گاندھی نے آگے کرناٹک کے مہادیوپورہ اور آلند میں ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے ہریانہ میں بھی ووٹر فہرستوں میں ’منظم‘ طریقے سےخامی موجود ہونے کی بات کہی۔
معلوم ہو کہ ملک بھر میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی 2025 کے وسط سے جاری ہے۔ سب سے پہلے الیکشن کمیشن نے بہار میں ایس آئی آرمہم شروع کی تھی، جس کے تحت مسودہ ووٹر فہرست سے 65 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا ئے گئے تھے۔
مغربی بنگال میں حتمی ووٹر فہرست سے تقریباً 90 لاکھ نام حذف کیے گئے۔
اتر پردیش میں سب سے زیادہ نام ہٹائے گئے، جہاں حتمی ووٹر فہرست سے 2.08 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام کاٹ دیے گئے۔
مہاراشٹر میں مسودہ ووٹر فہرست سے تقریباً 2.07 کروڑ نام ہٹائے گئے، جبکہ وہاں حتمی فہرست ابھی شائع نہیں ہوئی ہے۔ دہلی میں بھی مسودہ ووٹر فہرست سے تقریباً 48 لاکھ نام حذف کیے گئے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مبینہ بے ضابطگیوں کی جانکاری ایک سال سے زیادہ عرصے سے تھی، لیکن دونوں الیکشن کمشنروں نے بعد میں اپنے اعتراضات درج کرانا شروع کیے۔
گاندھی نے کہا،’ہم ہندوستان میں جمہوریت کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کو آج نہیں تو کل ’نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘
چیف الیکشن کمشنر، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’یہ دیش دروہی ہیں۔‘
گاندھی نے کہا، ’جو شخص ووٹ پر حملہ کرتا ہے، وہ ملک کا دشمن ہے۔ میں یہ بات ہلکے میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں تین سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں اور اس کے لیے میں نے حقائق کے ساتھ بات کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اس ملک کے جمہوری ڈھانچے پر حملہ کیا ہے۔‘
بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا
دریں اثنا انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں ہوئے انکشافات کے بعد بائیں بازو کی پانچ جماعتوں نے بھی گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے،ایس آئی آر کےعمل کو روکنے اور مبینہ طور پر غلط طریقے سے ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے لوگوں کے ووٹنگ حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Joint Left Statement on #GyaneshKumar, #ECI and #SIR pic.twitter.com/Dw33CT6X9G
— CPI (M) (@cpimspeak) September 24, 2026
ایک مشترکہ بیان میں ان جماعتوں نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

