الیکشن کمیشن میں اختلافات کے انکشاف کے بعد سابق الیکشن کمشنروں نے اٹھائے سوال، عوامی طور پر وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ

Gyanesh Kumar PTI09 23 2026 000225B scaled 1 e1790252091872


دہلی میں انڈین یوتھ کانگریس کے ارکان کے احتجاج کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا پوسٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

الیکشن کمیشن میں الیکشن کمشنروں کے درمیان اختلافات کے انکشاف کو سابق الیکشن کمشنروں – ایس وائی قریشی، اشوک لواسا، او پی راوت اور دیگر نے ’انتہائی سنگین‘ اور ’افسوسناک‘ بتایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تین میں سے دو الیکشن کمشنر فیصلے میں شامل ہی نہیں تھے، تو ایسے فیصلوں کو منظوری کیسے دی جا سکتی تھی؟ انہوں نے ایس آئی آر کے فارم 6 میں تبدیلی کے حوالے سے بھی پوچھا کہ کس اختیار کے تحت قانونی فارم میں تبدیلی کی گئی۔

نئی دہلی: سابق چیف الیکشن کمشنروں (سی ای سی) نے الیکشن کمیشن سے متعلق حالیہ انکشافات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ آگے بڑھنے کا سب سے مناسب طریقہ یہی ہوگا کہ موجودہ الیکشن کمشنر کھل کر عوامی طور پر  وضاحت پیش کریں کہ ان کے درمیان اصل  میں کیا ہوا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی ایک پڑتال، جس میں کمشنروں کے درمیان اختلافات کی بات کہی گئی تھی، کے جواب میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ’الگ الگ  رائے ‘ ہونا عام سی بات  ہے۔

تاہم، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے دی ٹیلی گراف سے کہا،’تینوں الیکشن کمشنر ایک پریس کانفرنس کریں، جس میں باقی دو-سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی-خاموش نہ رہیں اور واضح طور پر بتائیں کہ انہوں نے ایس آئی آر کے بارے میں کیا کہا تھا۔‘

قریشی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے کہا،’اگر ووٹر لسٹوں میں ترمیم کا پورا عمل ہی غیر قانونی رہا ہے تو آپ غیر قانونی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر انتخابات نہیں کرا سکتے… اگر کوئی غلطی ہوئی ہے، اگر یہ گڑبڑی ہوئی ہے تو قانونی طور پر پہلے کی صورتحال میں واپس جانے کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، یعنی دوبارہ شروعات کی جا سکتی ہے اور جون 2025 کی صورتحال میں واپس جایا جا سکتا ہے، جب موجودہ ایس آئی آر شروع نہیں ہوا تھا۔ اگر وہ 2002 میں واپس جا سکتے ہیں، جب پچھلا ایس آئی آر ہوا تھا، تو 2025 میں واپس کیوں نہیں جا سکتے؟‘

ایک اور سابق چیف الیکشن کمشنر، جنہیں مبینہ طور پر نریندر مودی حکومت کے حق میں ہونے کے الزامات کے باعث اپوزیشن کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، نے دی ٹیلی گراف سے کہا،’یہ انتہائی افسوسناک ہے… ایس آئی آر نے جو بدنظمی پیدا کی ہے، اس کے بعد الیکشن کمیشن پر لوگوں کا بھروسہ  جلد بحال نہیں ہو سکتا، چاہے وہ کچھ بھی کریں۔ ووٹر لسٹوں کی نوعیت ایسی ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کوپیچھے نہیں گھمایایا جا سکتا، حتیٰ کہ عدالتیں بھی ایسا نہیں کر سکتیں۔‘

سابق الیکشن کمشنروں نے فارم 6 پر اعتراض کیے

سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت، جنہیں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جنہوں نے ایس آئی آر کے مقاصد کی مخالفت نہیں کی تھی، لیکن اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے تھے، نے اس کی سخت تنقید کی۔

راوت نے ان انکشافات کو ’انتہائی سنگین‘ اور ’افسوسناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ووٹر رجسٹریشن فارم 6 میں کی گئی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں ’مکمل طور پر غلط اور غیر قانونی‘ تھیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی سے کہا،’شاید الیکشن کمیشن میں ایسا بہت کم ہوا ہے۔ میں بھی وہاں رہا ہوں، لیکن میں نے دیکھا کہ فیصلے ہمیشہ اتفاق رائے سے لیے جاتے تھے… ایس آئی آر کے ذریعے ایک طرح کا ’بے لگام خطرہ‘ پیدا ہو گیا ہے، جس نے ہر جگہ ووٹروں کے ذہن ودل میں خوف پیدا کر دیا ہے۔‘

معلوم ہو کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر ایکٹ، 2023 کی دفعہ 18 کے تحت کمیشن کے فیصلے، جہاں تک ممکن ہو، اتفاق رائے سے لیے جانے چاہیے۔ اگر کسی معاملے پر اختلاف ہو تو اکثریت کی رائے پر عمل کیا جاتا ہے۔

وہیں سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا، جنہوں نے 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اس وقت کے بی جے پی صدر امت شاہ کو مبینہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے معاملوں میں دی گئی کلین چٹ کی مخالفت کی تھی اور بعد میں الیکشن کمیشن چھوڑ دیا تھا، نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صورتحال کے بارے میں صاف صاف جانکاری دینی چاہیے۔

لواسا نے ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا،’یہ الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ وہ مکمل جانکاری کے ساتھ وضاحت پیش کرے… کیا ان اعتراضات پر غور کیا گیا، انہیں ریکارڈ پر لیا گیا اور ان پر بحث ہوئی یا نہیں… اگر دو الیکشن کمشنروں کی ایک رائے تھی اور ایک کی دوسری رائے، تو ظاہر ہے کہ مخالف رائے مؤثر نہیں ہو سکتی تھی۔ یہاں تک کہ اگر تینوں متفق تھے تو کیا وہ فارم 6 (نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والا فارم) میں تبدیلی کر سکتے تھے اور ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن افسران) کے قانونی اختیار کوچھین سکتے تھے…؟‘

لواسا نے سوال اٹھایا کہ قانونی فارم میں تبدیلی کس اختیار کے تحت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ انتہائی اہم ہوگا۔

لواسا نے ٹکنالوجی کے ذریعے ووٹر لسٹوں کو مربوط کرنے اور سافٹ ویئر کے ذریعے ان اختیارات میں رکاوٹ ڈالنے کے درمیان بھی فرق بتایا، جو قانون نے الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو دیے ہیں۔

اخبار کے مطابق، انہوں نے گوا کے مبینہ معاملے کی مثال دی، جہاں زمینی سطح پر کام کرنے والے انتخابی افسران نے 97 ووٹروں کو اہل قرار دیا، لیکن سافٹ ویئر نے انہیں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دی۔

لواسا نے کہا کہ اگر کسی ای آر او نے کسی درخواست پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی ووٹر کا نام فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے تو اس افسر کو کسی تیسرے فریق پر انحصار کیے بغیر اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

متنازعہ فیصلے کیسے لیے گئے، اس کا دستاویزی ثبوت دینے کا مطالبہ

رپورٹ کے مطابق، لواسا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اندرونی اختلافات سے انکار کیے جانے کی خبر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کمیشن کو یہ بتانے کے لیے خاطر خواہ دستاویزی ثبوت دستیاب کرانا چاہیے کہ متنازعہ فیصلے کس طرح لیے گئے۔

انہوں نے ایک آر ٹی آئی معاملے کا بھی ذکر کیا، جس میں الیکشن کمیشن نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ایس آئی آر کرانے کے فیصلے سے متعلق اجلاسوں کا ریکارڈ اس کے پاس موجود نہیں ہے۔

لواسا نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن عوامی طور پر بتائے کہ متعلقہ فیصلے کب لیے گئے اور کیا ان فیصلوں میں تینوں الیکشن کمشنروں نے یکساں طور پر حصہ لیا تھا۔ انہوں نے دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی آزادانہ جانچ کرانے  کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں قانونی ضابطہ کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

قریشی نے بھی کہا کہ موجودہ اعتراضات کو محض کمیشن کے اندر اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے اس قانونی نظام کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت اتفاق رائے ممکن نہ ہونے کی صورت میں اکثریت کی رائے   بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تین میں سے دو الیکشن کمشنر فیصلے میں شامل ہی نہیں تھے تو ایسے فیصلوں کو منظوری کیسے دی جا سکتی تھی۔

قریشی نے انڈین ایکسپریس میں لکھے ایک مضمون میں کہا کہ حالیہ انکشافات صرف ایس آئی آر کے طریقہ کار یا اس کی قانونی حیثیت تک محدود سوال نہیں اٹھاتے، بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتے ہیں کہ کیا الیکشن کمیشن کے نام پر لیے گئے فیصلے واقعی کمیشن کے اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل کے تحت لیے گئے تھے۔

قریشی نے لکھا،’جس اختیار سے قانون محروم کرتا ہے، وہ اختیار کسی لیٹر ہیڈ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن تین ارکان پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے۔ یہ اس کے چیئرمین کا دوسرا نام نہیں ہے۔‘

واضح ہوکہ دی انڈین ایکسپریس کی رتیکا چوپڑا کی خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سندھو اور جوشی نے ایس آئی آر سے متعلق کئی اہم معاملوں پر ریکارڈ میں اعتراضات درج کیے تھے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 10 مہینوں میں الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کے تین الیکشن کمشنروں میں سے دو، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے متنازعہ ایس آئی آر کے عمل کے مختلف پہلوؤں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات درج کیے۔

تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں سمیت اس کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے ہیں۔

کمیشن نے ایک پریس نوٹ میں موجودہ اعتراضات کے بارے میں تفصیلی معلومات دیے بغیر کہا تھا کہ ’ای سی آئی کی تمام کارروائیاں کمیشن کے قوانین اور ہدایات کے مطابق رہی ہیں۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ