برازیل اور وسطی افریقا میں پائے جانے والے پراسرار سیاہ ہیرے ممکنہ طور پر زمین کے قدیم دور میں ہونے والے ایک بڑے خلا میں ہونے والے تصادم کے بعد زمین کی گہرائی میں پہنچنے والے کاربن سے بنے تھے، نئی تحقیق میں ان کے وجود سے متعلق اہم سراغ سامنے آئے ہیں۔
یہ سیاہ اور سوراخ دار ہیرے عام قیمتی ہیروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے اندر ایک بڑے بلور کے بجائے بہت سے چھوٹے ہیروں کا مجموعہ موجود ہوتا ہے جب کہ ان میں بے شمار باریک سوراخ بھی پائے جاتے ہیں۔
محققین نے برازیل کے ٹومبادور علاقے سے حاصل کیے گئے ان سیاہ ہیروں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ان میں موجود کاربن کی مختلف اقسام، معدنیات اور اندرونی ساخت کا مطالعہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ ہیرے کیسے وجود میں آئے۔
تحقیق کے دوران ہیرے کی چمک دار بیرونی سطح نے ماہرین کی توجہ حاصل کی۔ پہلے یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ سطح کسی بڑے خلائی جسم کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی شدید گرمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔
تاہم جائزے سے معلوم ہوا کہ ہیرے کے اندر موجود بلوروں میں ایسے آثار نہیں ملے جو براہ راست شدید جھٹکے یا تصادم کی نشاندہی کرتے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چمک دار سطح شاید ہیرے کی تشکیل کے وقت نہیں بلکہ بعد کے کسی مرحلے میں بنی۔

محققین کے مطابق ہیرے کی کچھ سطحوں پر ٹائٹینیم پر مشتمل ایک معدنی تہہ بھی موجود تھی۔ ممکنہ طور پر بعد میں زمین کے اندر موجود سیال مادوں نے اس تہہ اور ہیرے کی سطح کو جزوی طور پر گھلایا، جس سے ہموار اور چمک دار سطح بن گئی۔
تحقیق میں کاربن کی ساخت نے بھی اہم سراغ فراہم کیے۔ زیادہ تر نمونوں میں موجود کاربن قدیم جانداروں سے باقی رہ جانے والے کاربن سے مشابہ تھا۔
محققین کا خیال ہے کہ قدیم زمین پر موجود نامیاتی مادے بڑے خلائی اجسام کے تصادم کے نتیجے میں تیزی سے زمین کی گہرائی میں پہنچے۔ زمین کی سطح سے مادے کے اندرونی حصے میں جانے کے اس عمل کو ارضیاتی اصطلاح میں تہہ نشینی کہا جاتا ہے۔
بہت زیادہ دباؤ اور گہرائی میں یہی کاربن ہیرے میں تبدیل ہوسکتا تھا۔ بعد میں پگھلا ہوا مادہ ان ہیروں کو دوبارہ زمین کی سطح کے قریب لے آیا، جہاں چٹانیں ٹوٹنے اور کٹاؤ کے ذریعے یہ سیاہ ہیرے دریا کی مٹی میں پہنچ گئے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ انہیں ابھی تک کسی مخصوص قدیم خلائی تصادم کا ایسا براہ راست ثبوت نہیں ملا جسے ان ہیروں کی تشکیل سے یقینی طور پر جوڑا جاسکے۔ اس لیے ان کی تشکیل سے متعلق یہ تصور فی الحال ایک سائنسی مفروضہ ہے۔

