ایران کے خلاف نئی امریکی کارروائی کا عندیہ، مشرق وسطیٰ میں مزید 9 ہزار فوجی روانہ

us trump d


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج تقریباً 9 ہزار مزید فوجیوں کو بحری جہازوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ بھیج رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس گروپ میں 7 ہزار سے زائد ملاح اور 2 ہزار میرینز شامل ہیں۔
روانہ کیے جانے والے بیڑے میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ شامل ہے، جو حال ہی میں کروزر یو ایس ایس چوسن کے ساتھ تعینات ہوا تھا۔ اس کے ساتھ یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ بھی بھیجا گیا ہے، جس میں یو ایس ایس جان پی مرثا اور یو ایس ایس اینکریج شامل ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ اکتوبر کے اختتام تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہو سکتے ہیں، اور نئی تعیناتی کے بعد وہاں امریکی ملاحوں اور میرینز کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر جائے گی، جبکہ سیکڑوں طیارے بھی موجود ہوں گے۔
اس وقت خطے میں یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش، یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور یو ایس ایس باکسر ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ تعینات ہیں۔ یو ایس ایس جارج واشنگٹن عموماً بحرالکاہل میں رہتا ہے، مگر اسے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ بھیجا گیا، جس کا عملہ طویل تعیناتی کے دوران مسلسل 260 سے زائد دن سمندر میں رہا۔ امریکی بحریہ نے اپریل میں بھی تین کیریئر اسٹرائیک گروپس تعینات کیے تھے، جو 2003ء کے بعد پہلی بار ہوا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں، جو جمعرات کو شائع ہوا، ٹرمپ نے کہا کہ 3 نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔ مزید تفصیل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حکمت عملی کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتے۔
جنگ بندی کی تجویز مسترد
ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ایران کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ان کے بقول جو چیزیں وہ ایک سال پہلے منظور نہیں کرتے تھے، آج بھی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اہم توانائی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی، لیکن مجموعی تجویز کافی اچھی نہیں تھی۔

متعلقہ پوسٹ