عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے روزگار اور ذرائع معاش کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے اثرات براہ راست متاثرہ علاقوں سے کہیں دور تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ نیپال میں ادارے کے ڈائریکٹر نومان اوزجان نے جائزہ رپورٹ کے اجراء پر کہا کہ آمدورفت، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستوں کو پہنچنے والا نقصان سپلائی چین اور منڈیوں کے ذریعے بحران کو دور دراز علاقوں تک پہنچا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق سیلاب میں 1,450 سے زائد افراد ہلاک اور 5,786 لاپتہ ہیں۔ آئی ایل او کے اندازے کے مطابق متاثرہ علاقے کی 4 کلومیٹر حدود میں 21,400 افراد برسرروزگار تھے، جن کے لیے اپنے کام، منڈیوں اور ضروری خدمات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ سیاحت، زراعت، نقل و حمل اور چھوٹے کاروباری اداروں سے وابستہ کارکن، بشمول سیاحتی گائیڈ، پورٹر، ہوٹل ملازمین اور زرعی مزدور، خاص دباؤ میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیپال میں غیر رسمی روزگار کی شرح بہت زیادہ ہے، یعنی بڑی تعداد میں کارکنوں کی آمدنی محدود ہے اور انہیں سماجی تحفظ حاصل نہیں۔ روزانہ اجرت والے، عارضی کارکن، خود روزگار اور گھریلو سطح کے کاروباری افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ خواتین کو اجرتی روزگار کے نقصان کے ساتھ بلامعاوضہ نگہداشت اور گھریلو ذمہ داریوں کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ آمدنی میں کمی سے بچوں کی مشقت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
جائزے میں نیپال اور چین کے درمیان تجارتی راہداری میں رکاوٹوں کا بھی ذکر ہے۔ چین سے نیپال کی 22 فیصد تجارت راسووا اور تاتوپانی کے راستوں سے ہوتی ہے، جہاں سیلاب نے نقل و حمل کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے تعمیرات، صنعت اور زرعی پروسیسنگ سمیت دیگر شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئی ایل او نے زور دیا کہ بحالی اور تعمیرِ نو کے اقدامات ذرائع معاش کے تحفظ اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ہونے چاہئیں۔

