انگلستان کی پہلی مسجد "بیت الفضل” کی سو سالہ تقریب، ارکانِ پارلیمنٹ، سفراء اور لارڈ میئرز کی شرکت

IMG 20261004 WA1848 2


لندن: جنوبی لندن میں ساوتھ فیلڈز اور ایسٹ پٹنی کے درمیان واقع، انگلستان میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد "بیت الفضل” کے سو سال مکمل ہونے پر ہفتے کے روز ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان، بعض افریقی ممالک کے سفیروں اور مختلف شہروں کے لارڈ میئرز سمیت دو سو سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔

IMG 20261004 WA1844


مسجد کا سنگِ بنیاد 1924 میں جماعت احمدیہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے رکھا تھا۔ تعمیر مکمل ہونے پر 3 اکتوبر 1924 کو سر عبدالقادر نے چھ سو مہمانوں کی موجودگی میں اس کا افتتاح کیا۔ اس وقت تعمیر پر 65 ہزار روپے، یعنی تقریباً 8,500 پاؤنڈ خرچ ہوئے، جس کا بڑا حصہ احمدی خواتین نے ادا کیا۔

IMG 20261004 WA1846
انگلستان کی پہلی مسجد "بیت الفضل" کی سو سالہ تقریب، ارکانِ پارلیمنٹ، سفراء اور لارڈ میئرز کی شرکت 5
IMG 20261004 WA1848


سو سالہ تقریبات 3 اکتوبر کو سارا دن جاری رہیں۔ صبح کا وقت عبادات کے لیے مخصوص تھا، جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اور مسجد میں نوافل ادا کیے۔ دوپہر دو بجے علاقے کے رہائشیوں کے لیے اسٹریٹ پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں دو ہزار مرد اور نو سو خواتین شریک ہوئیں۔ پروگراموں میں کھانا کھلانا، دس ہزار گھنٹے سماجی خدمت کے لیے وقف کرنا اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے عوامی بیداری کی ضرورت اور کوششوں کو اجاگر کرنا شامل تھا۔
تقریب کے آخری مقرر جماعت احمدیہ کے امام مرزا مسرور احمد تھے، جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو سال سے بیت الفضل عبادت، امن اور خدمتِ انسانیت کا مرکز رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کی تاریخ اسلام کے اس اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ سچے ایمان کا تقاضا ہمسایوں سے حسنِ سلوک، وطن سے وفاداری اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کا احترام ہے۔ خطاب کے بعد دعا ہوئی اور پھر حاضرین کو کھانا پیش کیا گیا۔

متعلقہ پوسٹ