سابق نوکرشاہوں نے سی ای سی کو ’چارج شیٹ اور مواخذے کا نوٹس‘ سونپا

Gyanesh Kumar PTI09 26 2026 000235A scaled 1 e1791266307466


ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ملک کے کم از کم 15 جانے مانے  سابق نوکرشاہوں اور کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مواخذے کا خط سونپتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والوں نے حالیہ سات ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں ’ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی‘ماناجا سکتا ہے اور جن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 325(4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نئی دہلی:ملک کے کم از کم 15 جانے مانے سابق نوکرشاہوں اور کارکنوں نے سوموار (5 اکتوبر) کو چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ’مواخذے کا خط‘ سونپا۔ خط میں ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں جون 2025 سے شروع ہونےوالے ایس آئی آر کے عمل کو جس طرح سے انجام دیا جا رہا ہے، اس کو لے کر  ان پر لگائے سنگین الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

خط پر دستخط کرنے والوں میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلئی، انٹلی جنس بیورو کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر یشوردھن آزاد اور مرکزی حکومت کے سابق سکریٹری امیتابھ پانڈے شامل ہیں۔ کارکنوں میں انجلی بھاردواج، امرتا جوہری اور اویشی گھوش کے نام شامل ہیں۔

خط میں ایس آئی آر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے،’جب تک یہ قواعدپورہی ہوگی، بالغ آبادی اور ووٹروں کے درمیان فرق 15 کروڑ یا اس سے زیادہ ہو جائے گا، جو انسانی تاریخ میں ’غائب ووٹروں‘ کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔‘

خط میں مزید کہا گیا ہے،’آپ (گیانیش کمار) عالمگیر حق رائے دہی کے بنیادی اصول کی شدید خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں۔‘

گیانیش کمار کے نام لکھے گئے اس خط کو ’چارج شیٹ اور مواخذے کا نوٹس‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں حالیہ سات واقعات اور معاملوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں دستخط کنندگان کے مطابق ’ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی‘ تصور کیا جا سکتا ہے اور جن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 325(4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل خاطر خواہ  بحث و مباحثہ کے بغیر انجام دیا گیا اور قواعد کے مطابق اس کارروائی کا ریکارڈ بھی درج نہیں کیا گیا۔

حال ہی میں انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹ  کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں نے اعتراض کیا تھا کہ ’کمیشن کے نام پر لیے گئے ایسے فیصلے، جنہیں کمیشن کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا، بنیادی  طور پر آئینی اختیار کا غلط استعمال ہے۔‘

ان خبروں کے انکشافات کے بعد گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ تیز ہوا ہے اور دہلی، ممبئی سمیت کئی جگہوں پر احتجاج بھی ہوئے ہیں۔ انہی مطالبات کو لے کر 10 اکتوبر سے ملک گیر سطح پر ایک بڑے احتجاج کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

’چارج شیٹ‘ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گیانیش کمار نے نئے ووٹروں کے رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں تبدیلی کی، حالانکہ یہ تبدیلی ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ تھی۔

خط کے مطابق، بعد میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پرانے فارم 6 کو بحال کیا جانا اس بات کا ’پختہ ثبوت‘ ہے کہ کی گئی تبدیلی غیر مجاز تھی۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ووٹروں کو بھی غیر قانونی طور پر فارم 6 بھرنے کا مشورہ دیا جا رہا تھا جو پہلے ہی ووٹ ڈال چکے تھے، صرف اس وجہ سے کہ وہ الیکشن کمیشن کی ایس آئی آر کے ذریعے ان کے سامنے پیدا کی گئی رکاوٹوں کو عبور نہیں کر سکے تھے۔

خط میں ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹکنالوجی کے استعمال پر بھی تنقید کی گئی ہے۔26 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ وہ اپنے ای سی آئی نیٹ پورٹل کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گا۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک اور ’اعتراف‘ کے مترادف ہے کہ اس نے ایسی ٹکنالوجی کا استعمال کیا جس کے ذریعے ’کروڑوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے ہٹا دیے گئے‘ اور اس عمل نے ان قانونی حدود کو ’نظرانداز‘ کیا جن کے اندر کمیشن کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔

خط میں کہا گیا ہے،’اب آپ ایسے کھیل میں ریفری نہیں رہ سکتے جس میں بڑے پیمانے پر یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ آپ کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

خط میں مزید کہا گیا ہے،اس لیےا ہم، بھارت کے لوگ، آپ کو یہ مواخذے کا نوٹس دیتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ اوپر بیان کیے گئے اقدامات آئین کے آرٹیکل 324(5) کے تناظر میں ثابت شدہ بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں، اور ہم چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے آپ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

دستخط کنندگان میں شامل سیاسی کارکن اور انتخابی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،’آج سابق نوکرشاہوں، کارکنوں اور شہریوں کے ایک معزز وفد نے عوام کی جانب سے مواخذے کا نوٹس سونپا۔ پیغام واضح تھا؛ آئینی اختیار کے ساتھ آئینی جوابدہی بھی آتی ہے۔‘

مکمل بیان پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ