اسلام آباد – 8 فروری 2026 — فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کی جانب سے ایگزیکٹو کی نگرانی انتہائی کمزور ہے اور ایگزیکٹو کا غلبہ مسلسل برقرار ہے۔
آج جاری ایک تفصیلی بیان میں فافن نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں — جو قانون سازی اور انتظامیہ کی نگرانی کا بنیادی ذریعہ ہونی چاہئیں — عملاً غیر موثر ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں طریقہ کار اور نظام کی خامیوں کا ذکر کیا گیا۔
فافن کے اہم مشاہدات اور مطالبات یہ ہیں:
افسران کی عدم تعاون — بہت سے سینئر بیوروکریٹس اور سرکاری افسران کو قائمہ کمیٹیوں کی طرف سے طلب کیا جاتا ہے مگر وہ پیش نہیں ہوتے یا جونیئر افسران بھیج دیتے ہیں۔
سزا کا فقدان — کمیٹیوں کے پاس غیر حاضر افسران کے خلاف کوئی قانونی سزا یا جرمانے کا اختیار موجود نہیں۔
سزائیں مقرر کرنے کا مطالبہ — فافن نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے والے افسران کے لیے مخصوص سزائیں (جرمانے، محکمہ جاتی کارروائی یا دیگر اقدامات) قانون سازی کے ذریعے متعارف کرائی جائیں۔
قانون سازی کی ضرورت — پارلیمانی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے فوری قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا، بشمول دونوں ایوانوں کے رولز آف پروسیجر میں ترامیم اور نئے قوانین جو کمیٹیوں کو زیادہ اختیار دیں۔
وسیع تناظر — کمزور نگرانی کی وجہ سے پالیسیوں پر عمل درآمد کمزور، احتساب کا فقدان، عوامی وسائل کا غلط استعمال اور جمہوری توازن میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
فافن نے زور دیا کہ ایک فعال اور طاقتور پارلیمانی کمیٹی نظام شفافیت، احتساب اور جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ تنظیم نے سیاسی جماعتوں، حکومت اور اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے آئینی کردار کو بحال کرنے کے لیے مشترکہ طور پر اصلاحات کو ترجیح دیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اداروں پر عوامی اعتماد کم ہے اور ایگزیکٹو کے اختیارات کے بے جا استعمال، آرڈیننس سازی اور پارلیمانی عمل کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔

