اسلام آباد – 8 فروری 2026 — حکومت پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بین الاقوامی فورم غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ، انسانی ہمدردی کی امداد، تعمیر نو کی منصوبہ بندی اور طویل مدتی امن کے لیے کام کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی اعلیٰ سطح پر ہوگی۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف یا نائب وزیراعظم / وزیر خارجہ اسحاق ڈار میں سے ایک ملک کی نمائندگی کریں گے۔
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری 2026 کو امریکی صدر کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی اہم فریقین کے سربراہان یا نمائندے شرکت کریں گے۔
پاکستان کا یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ اسلام آباد امریکہ کی فلسطین پالیسی اور اسرائیل کی مکمل حمایت پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔ سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس فورم کو ایک اہم موقع سمجھتا ہے تاکہ:
1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرایا جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف (مشرقی یروشلم) ہو
غزہ تک فوری اور مسلسل انسانی ہمدردی کی رسائی کی ضرورت پر زور دیا جائے
پائیدار اور ناقابل تنسیخ جنگ بندی کا مطالبہ کیا جائے
جنگی جرائم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا احتساب یقینی بنایا جائے
حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر بین الاقوامی اہم مذاکرات سے الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتا، چاہے میزبانی کسی ایسے ملک کی ہی کیوں نہ ہو جس کی پالیسیاں پاکستان سے مختلف ہوں۔
غزہ بورڈ آف پیس رواں سال کے اوائل میں جنگ کے بعد استحکام اور تعمیر نو کے لیے ایک ممکنہ کوآرڈینیشن میکانزم کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم اس کا حتمی دائرہ کار، رکنیت اور قانونی حیثیت ابھی تک شرکا کے درمیان زیر بحث ہے۔

