وزیراعظم شہباز شریف کی اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس سے ملاقات

IMG 20261007 WA3445


اسلام آباد،
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم نے ان کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیکرٹری جنرل کے اصولی عزم کو سراہا اور اپنے دورِ منصب کے دوران عالمی امن و سلامتی کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام کو اہم چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ کا مؤثر کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کے UN80 اقدام کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں، جبکہ تنازعات کی روک تھام، ان کے پرامن حل اور قیامِ امن کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور ان کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، نیز غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حمایت دہرائی۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو ترقی اور موسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ رسائی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، جن میں امن مشنز میں اس کا اہم کردار اور سلامتی کونسل میں تعمیری شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

متعلقہ پوسٹ