
(ویب ڈیسک )انڈونیشیا کے جنگلات اور زمینوں میں لگنے والی آگ کے باعث اٹھنے والے دھوئیں نے ملائیشیا کے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد فضائی آلودگی غیر صحت بخش سطح پر پہنچنے کے باعث جمعے کے روز کئی ریاستوں اور وفاقی و انتظامی دارالحکومتوں میں اسکول بند کردیئے گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی وزیر تعلیم فاضلینہ صدیق نے جمعرات کی شب فیس بک پر جاری بیان میں بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں جوہر، ملاکا، نگری سمبیلان اور جزیرہ نما ملائیشیا کی ریاست سیلانگور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دارالحکومت کوالالمپور اور انتظامی مرکز پوتراجایا میں بھی اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کے مطابق ریاست پہانگ کے ضلع رومپن میں بھی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
ملائیشیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعے کی صبح ملک کے 37 علاقوں میں فضائی آلودگی کا انڈیکس غیر صحت بخش سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل
ملائیشیا کے ایئر پولیوٹنٹ انڈیکس کے مطابق 101 سے 200 تک کی سطح کو غیر صحت بخش، 201 سے 300 تک کو انتہائی غیر صحت بخش، جبکہ 300 سے زیادہ کو خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔
وزیر تعلیم نے ریاستی اور ضلعی تعلیمی حکام کو ہدایت کی کہ وہ دھند اور فضائی آلودگی کی صورت حال کی مسلسل نگرانی کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کریں۔
رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے مختلف صوبوں میں جنگلات اور زمینوں پر لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان آگ سے اٹھنے والا دھواں ملائیشیا اور سنگاپور سمیت پڑوسی ممالک تک پہنچ رہا ہے، جس سے فضائی معیار متاثر ہو رہا ہے۔
خطے میں اس نوعیت کی دھند نہ صرف معمولات زندگی بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جمعرات کو بتایا کہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے دھند کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انور ابراہیم کے مطابق ملائیشیا نے اس سلسلے میں انڈونیشیا کو تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن ممالک کے وزرا کا اجلاس بلانے کے لیے کوششیں کی جائیں، تاکہ فضائی آلودگی کے اس علاقائی مسئلے سے نمٹنے اور انڈونیشیا کی کوششوں میں معاونت کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
فضائی آلودگی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ملائیشیا کے حکام متاثرہ علاقوں میں حالات کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دھند پر قابو پانے کے لیے علاقائی تعاون کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

