واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اقدام عدالت کی ایک سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔ اس سے واشنگٹن اور یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائے گا، اس کے وسائل منقطع کرے گا اور اس کی کام کرنے کی صلاحیت مفلوج کر دے گا۔ اس بار عدالت کو خدمات دینے والی کمپنیاں بھی زد میں آ سکتی ہیں۔ محکمہ خزانہ نے چھ ماہ کی رعایتی مدت دی ہے، جبکہ ٹیلی مواصلات، سافٹ ویئر، پنشن اور زیر حراست افراد سے متعلق لین دین مستثنیٰ ہیں۔ روبیو کے مطابق امریکی مطالبات پورے نہ ہوئے تو پابندیوں میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔
عدالت نے اسے قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے ۱۲۵ رکن ممالک سے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ نائب پراسیکیوٹر نازہت شمیم خان نے کہا کہ تمام تحقیقات اور مقدمات میں کام جاری رہے گا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ چھ ماہ بات چیت کا موقع ہیں اور یونین کے پاس عدالت کا کام جاری رکھنے کے متبادل اقدامات موجود ہیں۔ بلجیم کے وزیر خارجہ نے یورپی ممالک سے ایسا قانونی ضابطہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جو پابندیوں کے اثرات روکے۔
واشنگٹن نے نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام کے وارنٹ اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تحقیقات پر عدالت پر تنقید کی ہے۔ عدالت اب تک ۷۰ سے زائد افراد کے وارنٹ جاری کر چکی ہے، جن میں پوتن اور عمر البشیر بھی شامل ہیں۔

