چند دنوں پہلے‘ MENAP کے حوالے سے ایک مستند رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ جس میں ہمارے ملک کو ان ممالک کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے جو پورے کرہ ارض میں غریب ترین ہیں۔ اس گروپ میں‘ شمالی افریقہ‘ افغانستان ‘ پاکستان اور مشرقی وسطی کے جنگ زدہ ممالک ہیں۔ کسی ابتر گروہ میں آنے کا ہمارا پہلی بار معاملہ وقوع پذیر نہیں ہوا۔ حقیقت میں ملک ایسے گرداب میں قصداً بھیجا جا چکا ہے جہاں ملکی معیشت و سلامتی مشکلات کا شکار ہے۔ میناپ کی رپورٹ نے غریب کی تعریف بھی بیان کی ہے ۔ کوئی شخص جو تین ڈالر سے کم روزانہ کماتا ہے ، حد درجہ مفلسی کا شکار ہے۔
تین امریکی ڈالر کو روپے میں تبدیل کریں تو چھ سو روپے سے بھی کم ہیں۔ یعنی اوسط سطح پر جن کی آمدنی ‘ چھ سو روپے روزانہ سے کم ہے ‘ وہ اس کیٹیگری میں آ جاتا ہے۔ بات یہاں رکتی نہیں۔ بلکہ افسوس کا دریچہ یہاں سے کھلتا ہے۔ وہ ممالک‘ جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں، پاکستان میں‘ اس سطح کی غربت 48فیصد ہے۔ یعنی قحط زدہ ممالک کو بھی ہم پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ دنیا اب اس امر کی قائل ہو چکی ہے کہ ہمارا ملک ایک ناکام معیشت بن چکا ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی سکہ بند رپورٹوںکے مطابق‘ ہم اب ایک ناکام معیشت ہیں۔ یہ منفی ڈھلوان ‘ گذشتہ چار برس میں ذلت آمیز تیزی سے طے کی جا رہی ہے۔ ترتیب سے دیکھیئے تو اس رپورٹ میں ہمارے ملک کو افغانستان سے بھی غریب دکھایا گیا ہے۔
میناپ دراصل وہ ممالک ہیں ‘ جن میں تباہ حالی ہے ۔ باقی تمام ملکوں میں 57فیصد غریب ہیں اور ہمارے چاروں صوبوں پر مشتمل ملک میں 48فیصد انتہائی غربت میں ہیں۔ ہمارے ملک میں حالیہ چار سالوں میں غربت6.4 فیصد بڑھی ہے۔ ورلڈ بینک نے یہ بات‘ ویسے ہی نہیں لکھ دی ۔ بلکہ اس کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ ظالمانہ مہنگائی‘ روپے کی قدر میں کمی‘ 2022ء کے سیلاب‘ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چالیس فیصد تک اضافہ اور دہشت گردی شامل ہیں۔ ہمارے ملک کو ساؤتھ ایسٹ ایشیاء کے ممالک سے نکال کر‘ میناپ میں شامل کرنا‘ ایک ایسی بے عزتی ہے۔ جس کا ادراک ہر صورت میں ہونا چاہیے۔
ہردم بتایا جاتا ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مگر یہ سب کچھ ماضی میں تھا۔ اگر حکومتی پالیسیوں کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ ایک زراعت دشمن ریاست ہے۔ کسی بھی کسان سے پوچھ لیجیے، ہر معاملہ معلوم پڑ جائے گا۔ زرعی ملک ہونے کے بیانئے کو بھی ‘ اس رپورٹ میں عیاں کیا گیا ہے۔ ہم شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اب ہمارا غذائی عدم تحفظ ‘ یمن‘ غزہ‘ جبوتی کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔ اس سے زیادہ المناک حقیقت اور کیا ہوگی۔ ہم کسی صورت میں بھی‘ اپنے ملک کی آبادی کے لیے‘ وافر گندم پیدا نہیں کرتے۔ اکثر اوقات‘ گندم‘ غیر ممالک سے قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے مجبوری میں منگوانی پڑتی ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ہم شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں، پر تسلیم نہیں کرتے۔ موجودہ وزیراعظم تو کسی سنجیدہ سے سنجیدہ معاملہ پر بھی میڈیا کے سامنے نہیں جاتے، بلکہ کتراتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا ہے۔
ملک اس بدحالی تک کیسے پہنچا، اس کی ذمے داری کا تعین کبھی نہیں ہو گا۔ مگر زبان زد عام ہے کہ مسلسل برسراقتدار آنے والی حکومتیں کوئی ایک گھمبیر مسئلہ بھی حل نہیں کر پائی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ‘ غذائی قلت میں اضافہ کا امکان موجود ہے۔ یہ رپورٹ کسی ملک دشمن نے ترتیب نہیں دی۔ بلکہ دنیا کے سب سے معتبر ادارے نے شائع کی ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ ایک اور بلا بھی ہمیں گرفت میں لینے والی ہے۔ بیرونی ممالک سے جو پاکستانی ‘ زرمبادلہ بھجواتے تھے، رپورٹ کے مطابق‘ اس میں بھی شدید کمی متوقع ہے۔ ہمارے مزدور اور فنی ماہرین سب سے زیادہ مشرق وسطی کے امیر ممالک میں رزق حلال کما رہے ہیں، ہر ماہ‘ اپنے اہل خانہ کے لیے پیسے بھجواتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو یہ ملک مزدوروں کی کمائی پر ہی چل رہا ہے۔ ہماری ناکام خارجہ پالیسیوں نے ہمارے محنت کشوں کے لیے‘ بیرون ممالک میں بھی مسائل پیدا کر ڈالے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حالیہ جنگ میں ہمارے لوگوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
ہم ایک ایسے ملک کے ساتھ ہیں، جس نے سابق سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کرایا۔ لاکھوں لوگوں کو برباد کیا۔ ادھر ہمارے ملک میںآزاد سوچ کی بیخ کنی کرنے والی حکومتوں کی سپورٹ کی۔ یو اے ای میں لاکھوں پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ ملک میں ڈالر بھیج رہے ہیں۔ اب اس ملک کے ساتھ بھی تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ سادہ سا ہے، ہماری لیبر کو وہاں سے نکالنے کا عمل شروع ہو چکاہے۔ ان کی جگہ ہندوستان ‘ بنگلہ دیش سے لوگ منگوائے جا رہے ہیں۔ ملک میں اس امر سے جو بے روزگاری کا طوفان اٹھے گا، اس کے آثار بالکل سامنے موجود ہیں۔ مگر کسی کو کچھ بھی پرواہ نہیں۔
اس رپورٹ کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیے۔ سیاسی ‘ اقتصادی نظام پر غور فرمائیے۔ ورلڈبینک کے علاوہ‘ بین الاقوامی سطح کے‘ ان جیسے کئی ادارے ایسے ہیں‘ جو ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی مسلسل بجا رہے ہیں۔ اقتصادی گراوٹ ‘ کرپشن‘ سیاسی عدم استحکام کی طرف اشارے کر رہے ہیں۔ دنیا اس بات پر پریشان ہے کہ خدانخواستہ اگر ہمارے ملک کو کچھ ہوتا ہے تو ہمارے ایٹمی اثاثے غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں۔ آنے والے حالات کی سنگینی کے متعلق بات کرنا ‘ غداری نہیں‘ بلکہ عین حب الوطنی ہے۔ آج سے دس بارہ سال پہلے کوئی کہہ سکتا تھا کہ ملک کی کشتی ہر لحاظ سے اتنی ڈانواں ڈول ہو جائے گی۔ مگر آج مصیبت عفریت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہ افغان مجاہدین و طالبان‘ جن کو بنایا ہی ہم نے تھا ہمارے ہی خلاف جنگ میں مصروف ہو جائیں گے۔ جناب! یہ سب معاملات‘ بگاڑ کی صورت حال کی طرف بار بار اشارہ کر رہے ہیں۔ حکمران طبقہ ہے کہ وہ نیرو کی طرح‘ چین کی بانسری بجا رہا ہے۔
ہمیں غور کرنا ہو گا۔ حل نکالنے ہوں گے۔ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس جو قیادت ہے ، وہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔سرکاری جہازوں اورہیلی کاپٹرز کا غیرسرکاری استمعال پہلے بھی ہوتا تھا اور آج بھی جاری ہے ۔ کوئی اصلاح پر تیار نہیں ہے ۔ بیرونی دوروں پر جانے والے ہمارے سرکاری وفود مہنگے ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں، درجنوں افراد ‘ سرکار کے خرچے پر وہاں‘ قیام فرماتے ہیں۔ ذرا اپنے ہمسایہ ملک کی اقتصادی صورت حال کو سامنے رکھیے۔
ان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.8 فیصد ہے۔ ہندوستان نے پوری دنیا میں اپنے عوام کو غربت سے نکالنے کاحیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ تقریباً تیس کروڑ شہریوں کو خطِ غربت سے اوپر لایا گیا ہے۔ دیہی غربت کو اٹھارہ فیصد سے کم کر کے صرف تین فیصد کر دیا گیا ہے۔ چار ڈالر روزانہ کمانے والے افراد دس برس پہلے 57.7فیصد تھے۔ آج ان کی شرح 2.8 فیصد ہے۔ شہری غربت دس فیصد سے کم ہو کر صرف اور صرف ایک فیصد ہو چکی ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھیں۔ ہمسایہ ملک ہر میدان میں ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی ‘ صرف اور صرف اپنے ملکی مفاد میں ہے۔ امریکا‘ روس‘ چین‘ اسرائیل‘ ترکی اور سعودی عرب ‘ تمام کے تمام سے ان کی کھربوں ڈالر کی تجارت ہے۔ فارن کرنسی ذخائر‘ 734بلین ڈالر ہیں۔ اور ہم اکیس بلین ڈالر پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ اور یہ بھی ہم نے مختلف ممالک سے قرض کی صورت میں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ایک ہی وقت میں آزاد ہونے والے ممالک میں آج کتنا فرق آ گیا ہے۔ اس کا جواب تلاش کرنا سب سے آسان ہے۔ آپ خود بڑے آرام سے طے کر سکتے ہیں کہ ہماری زبوں حالی کی کیا وجہ ہے اور ہندوستان کیونکر ترقی کر رہا ہے۔
غربت ‘ جہالت‘ مذہبی انتہا پسندی و تشدد پسندی‘ دہشت گردی‘ بیرونی جنگوں میں بلا ضرورت شرکت‘ وہ بلائیں ہیں، جنھیں ہم نے بڑی محنت سے گود لیا ہے۔ خدارا ماضی سے سبق سیکھیے۔ اپنے ملک کی قدر کیجیے۔ اگر خدانخواستہ ‘ اس کو کوئی مسئلہ ہوا تو اشرافیہ کے ٹھاٹ بھاٹ بھی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ابھی تو میناپ کے مطابق ہم یمن ‘ شام اور جبوٹی کی فہرست میں آئے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو‘ کہ تنزلی کے اس سفر میں ہم‘ ان پسماندہ ترین ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیں اور دنیا کے مفلس ترین ملک بن جائیں۔ میناپ میں شامل ہونا باعث شرم ہے۔ مگر اس پر ہمارے ’’میرٹ‘‘ پر آئی ہوئی ملکی قیادت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اگلا زینہ کیا ہوگا۔ سوچتے ہوئے بھی خوف آتا ہے؟

