سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف فوجی کارروائی میں اسرائیل کی شمولیت کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ کے مطابق، اسرائیل نے امریکی ثالثی سے ریاض کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم سعودی ولی عہد نے اسرائیلی فوجی مدد لینے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق، شہزادہ محمد بن سلمان کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون سے سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ مشترکہ فوجی کارروائی دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط کر سکتی ہے، لیکن سعودی حکام نے اس پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔
حوثی حملے اور ہوائی اڈوں کی بندش
حوثیوں کے حملوں میں شدت کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ سنیچر کو ہوائی اڈے پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اتوار کو ہونے والے دوسرے حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوائی اڈے کی بندش 17 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے پانچ ہوائی اڈوں پر 10 حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
حوثی حملوں کے بعد متعدد عرب فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں۔ بحرین کی گلف ایئر نے 12 سے 17 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں منسوخ کیں، جبکہ قطر ایئرویز نے ریاض اور دمام کے لیے پروازیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی اتحاد ایئرویز نے ابوظبی سے ریاض تک 19 اکتوبر تک تمام پروازیں منسوخ کیں، جبکہ دمام اور جدہ کے لیے بھی کچھ پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ مصر ایئر نے بھی قاہرہ اور اسکندریہ سے ریاض کی پروازیں اس وقت تک معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک ہوائی اڈے کا آپریشن بحال نہ ہو جائے۔

