دسمبر 2024 میں مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کے مطالبہ پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور انتخابات سے متعلق ویڈیو ریکارڈ تک عوام کی رسائی محدود کرنے کے لیے قواعد میں تبدیلی کی تھی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ انتظامی بوجھ زیادہ ہے،وہیں ایک افسر نے کہا تھا کہ فوٹیج کی مانگ بڑھ رہی تھی۔ اب ایسی درخواستوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار مانگنے پر کمیشن نے کہا ہے کہ یہ ریکارڈ اس کے پاس نہیں ہے۔
نئی دہلی: اگست 2025 میں کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کرناٹک کے مہادیوپورہ اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزام کے حوالے سے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو مشین سے پڑھی جا سکنے والی ووٹر لسٹ دستیاب کرانی چاہیے، اور پولنگ بوتھ کا سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے ایک ریلی میں سوال اٹھایا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو شواہد مٹائے جا رہے ہیں۔
اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پریشان امیدوار 45 دنوں کے اندر اپنےانتخاب کو چیلنج دینے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ میں الیکشن پٹیشن فائل کر سکتا ہے۔ اگر یہ عرضی فائل کی جاتی ہے تو سی سی ٹی وی فوٹیج رکھ لی جاتی ہے؛ نہیں تو اس کا کا کوئی مقصد نہیں ہے-جب تک کہ آپ کا ارادہ کسی ووٹر کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے کا نہ ہو۔
اس کے فوراً بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بھی پرائیویسی کا حوالہ دیتے ہوئےپوچھا تھا،’کیا الیکشن کمیشن کو کسی بھی ووٹر کی، خواہ وہ اس کی ماں ہو، بہو ہو بیٹی ہو، کے سی سی ٹی وی ویڈیو شیئر کرنے چاہیے؟‘
تاہم، الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ بوتھوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور انتخابی عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ کو عام لوگوں کی رسائی سے باہر کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔پرائیویسی کا ذکر کرنا ایسا پردہ تھا، جس کی آڑ میں کمیشن انتخابی عمل کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالوں کے بعد چھپا رہا۔
اس سے تقریباً آٹھ ماہ پہلے دسمبر 2024 میں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے دو اہم دلائل پیش کیے تھے۔
پہلا، ایسی ریکارڈنگ حاصل کرنے کی درخواستیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔
دوسرا، انہیں دستیاب کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامی وسائل اور ملازمین کی ضرورت پڑتی تھی۔
تاہم، اب ایک آر ٹی آئی کے جواب میں اسی الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ اس کے پاس اس کے اعداد و شمار نہیں ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی کتنی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
چودہ ستمبر 2026 کو دیے گئے جواب میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ بوتھوں اور ووٹوں کی گنتی کے مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرنے والی درخواستوں کی تعداد اس کے پاس ’کسی مادی شکل (فزیکل صورت میں) میں دستیاب نہیں‘ ہے۔

یہ جواب اس لیے اہم ہے کہ ٹھیک دو سال پہلے سی سی ٹی وی اور انتخابات سے متعلق ویڈیو ریکارڈ تک عوام کی رسائی محدود کرنے کے لیے قواعد میں تبدیلی کا جواز خود کمیشن نے ایسی درخواستوں کی مبینہ بڑھتی ہوئی تعداد اور ان سے پیدا ہونے والے انتظامی بوجھ کو قرار دیا تھا۔
یعنی اب سوال صرف یہ نہیں ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر فوٹیج نانگنے والوں کی تعداد اور ان درخواستوں کا پیمانہ قواعد میں تبدیلی کے فیصلے کوصحیح ٹھہرانے کے لیے اہم تھا، تو اس ’بڑے پیمانے‘ کا اندازہ آخرکس ریکارڈ، اعداد و شمار یا مطالعے کی بنیاد پر لگایا گیا تھا؟
قواعد میں تبدیلی سے پہلے کمیشن نے کیا کہا تھا؟
’الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد‘ 20 دسمبر 2024 کو مرکزی حکومت نے انتخابی قواعد میں ترمیم کی تھی۔ اس ترمیم کے تحت کنڈکٹ آف الیکشنز رولز، 1961 کے قاعدہ 93(2)(اے) میں صرف پانچ لفظ شامل کیے گئے’ایز اسپیسیفائیڈ ان دیز رولز‘۔ آسان لفظوں میں کہیں تو اس ترمیم کے بعد انتخاب سے متعلق دستاویزوں کو عام لوگوں کے لیے دیکھنے کی سہولت صرف انہی دستاویزوں تک محدود کر دی گئی، جن کا ان قواعد میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے فوراً بعد کی گئی تھی۔ 10 دسمبر 2024 کو عدالت نے وکیل محمود پراچہ کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو ہریانہ اسمبلی انتخابات 2024 سے متعلق دستاویز، ویڈیواور سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب کرانے کی ہدایت دی تھی۔
اس حکم کے ایک ہفتے بعد یعنی 17 دسمبر 2024 کو وزارت قانون و انصاف کے محکمہ قانون سازی کو بھیجے گئے ایک خط میں میں الیکشن کمیشن نے کنڈکٹ آف الیکشنز رولز، 1961 کے قاعدہ 93(2) (اے) میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔ کمیشن نے ترمیم کی وجہ الکٹرانک ریکارڈ دستیاب کرانے میں لگنے والے وسائل اور انتظامی بوجھ کو قرار دیا تھا۔
کمیشن نے لکھا، نان اسٹیچوٹری ڈاکیومنٹس اور الکٹرانک ریکارڈ دستیاب کرانے کے لیے بڑی تعداد میں ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابات کے بعدیہ عملی نہیں ہے، کیونکہ اس وقت انتظامی وسائل کافی کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ،کسی انتخابی حلقے میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر کا دفتر ختم ہو جاتا ہے۔ انتخابات کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر نان اسٹیچوٹری کاغذات دستیاب کرانے کی اضافی ذمہ داری سونپنے سے زمینی سطح پر انتظامی کام کاج پر بہت زیادہ بوجھ پڑے گا اور اس میں خلل آئے گا۔ اس لیے، نان اسٹیچوٹری کاغذات دستیاب کرانا وسائل کی زیادہ کھپت کرنے والا اور پیچیدہ کام ہےاور اس سے کوئی قانونی مقصد بھی پورا نہیں ہوگا۔ ‘
کمیشن نے مجوزہ ترمیم کو جلد از جلد نوٹیفائی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مزید لکھا،’اس لیے، عوامی مفاد کے تحفظ اور معائنہ، شفافیت یا اسٹیچوٹری اور نان اسٹیچوٹری کاغذات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کیے بغیر، یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ مذکورہ قاعدے 93(2)(اے)میں ’کاغذات‘ لفظ سے پہلے لفظ ’قانونی‘ شامل کر دیا جائے۔ قاعدہ 93(2) میں ترمیم منسلک ضمیمے میں دی گئی تجویز کے مطابق کی جا سکتی ہے۔‘

بیس دسمبر کو وزارت قانون کی جانب سے کمیشن کی تجویز پر پہلا ردعمل سامنے آیا اور اسی دن قواعد میں تبدیلی بھی کر دی گئی۔ یعنی یہ پورا عمل ایک ہی دن میں مکمل ہو گیا۔
وزارت قانون کی 20 دسمبر کے ایک دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ وزارت نے کمیشن کے افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور قواعد میں تبدیلی کا مسودہ تیار کیا۔ تاہم، لفظ ’قانونی‘ کے مفہوم میں ابہام کی وجہ سے اسے بدل کر ’ایز اسپیسیفائیڈ ان دیز رولز‘ کر دیا گیا۔ 20 تاریخ کو ہی کمیشن نے مسودے کا جائزہ لے کر اسے منظوری دی اور جلد نوٹیفائی کرنے کو کہا۔

اسی تاریخ کو مسودے کا ہندی ترجمہ کرایا گیا اورسرکاری زبان کے شعبے سے اس کی تصدیق کروائی گئی۔ اسی تاریخ کو وزارت قانون نے حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا اور اسے گزٹ میں اشاعت کے لیے سرکاری پریس کو بھیج دیا۔ اس طرح قواعد تبدیل ہو گئے۔

اب ذرا ایک بار پھر کمیشن کی اس تجویز کی طرف لوٹتے ہیں، جس کی بنیاد پر قواعد بدلے گئے تھے۔ کمیشن کے دلائل کی بنیاد میں دو باتیں تھیں –
ایک ، ایسے ریکارڈ طلب کیے جا رہے تھے۔
دو، ان کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ اس سے انتظامی وسائل پر بڑا بوجھ پڑ رہا تھا۔
قواعد میں تبدیلی کے بعد 22 دسمبر کو انڈین ایکسپریس نےالیکشن کمیشن کے ایک افسر کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ کمیشن سے ویڈیو فوٹیج طلب کر رہے تھے۔
اب یہی وہ نکات ہیں جن پر ستمبر 2026 کا آر ٹی آئی جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔
’بڑھتی ہوئی مانگ‘ کے اعداد و شمار کہاں ہیں؟
آر ٹی آئی کارکن کنہیا کمار کی جانب سے دائر درخواست میں گزشتہ پانچ برسوں کے لیے سات طرح کی معلومات طلب کی گئی تھیں۔
ان میں سب سے بنیادی سوال تھا- ہر سال کتنی درخواستیں موصول ہوئیں؟ اس کے بعد پوچھا گیا تھا کہ ان میں سے کتنی درخواستیں امیدواروں یا سیاسی جماعتوں کی جانب سے آئیں، کتنی میڈیا سے، کتنی عام لوگوں یا آر ٹی آئی درخواست گزاروں سے اور کتنی عدالتوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موصول ہوئیں۔
تیسرا سوال یہ تھا کہ کتنے معاملوں میں فوٹیج دی گئی اور کتنے معاملوں میں منع کیا گیا۔
لیکن سی پی آئی او (سینٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر) نے نکات 1، 4 اور 6 کے لیے کہا کہ طلب کی گئی معلومات آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 2(ایف)کے مفہوم میں کمیشن کے پاس ’کسی بھی مادی (فزیکل) صورت میں دستیاب نہیں‘ ہیں۔
نکات 2 اور 3 کے جواب میں اسے کلیریفیکیشن/اوپینین/ سجیشن کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔
جبکہ درخواست گزار نے کمیشن سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دینا چاہیے یا نہیں۔ اس نے کمیشن کی رائے نہیں مانگی تھی۔ اس نے صرف یہ پوچھا تھا کہ کتنی درخواستیں موصول ہوئیں، کتنی منظور کی گئیں اور کتنی مسترد ہوئیں۔
الیکشن کمیشن کے پرانے دستاویز بھی اس کے جواب کے خلاف
سال 2009 میں انتخابات کرانے سے متعلق ہدایات کا دستاویز جاری کیا گیا تھا، جس کا نام کمپینڈیم آف انسٹرکشنز آن کنڈکٹ آف الیکشنز تھا۔ اس کی جلد اول کے پیج 26-27 پر ’انسپیکشن اینڈ سپلائی آف کاپیز(پرنٹس)ویڈیو ٹیپس ‘ کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ ویڈیو کیسٹ کا معائنہ کرنے اور ان کی مصدقہ کاپیاں دستیاب کرانے کاعمل کیا ہے۔
اس میں صاف لکھا ہے،’انتخابات لڑنے والے امیدواروں، سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور دیگر خواہش مند لوگوں سے ویڈیو ریکارڈنگ کا معائنہ کرنے اور ان کی کاپیاں (پرنٹس) دستیاب کرانے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔‘

یعنی کمیشن کی اپنی پرانی ہدایات میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور دیگر کی جانب سے ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے یا ان کی کاپیاں طلب کرنے کی درخواستیں آتی تھیں۔ اس کے بعد کمیشن نے ایسی درخواستوں سے نمٹنے کے لیے ایک یکساں طریقہ کار مقرر کیا تھا۔
ان ہدایات میں صرف درخواستوں کا ذکر ہی نہیں تھا،ان میں ویڈیو ریکارڈ کا تحفظ، ان کی فہرست تیار کرنے، ان کا معائنہ کرنے اور مصدقہ کاپیاں دستیاب کرانے کا طریقہ کار بھی طے کیا گیا تھا۔
یعنی ویڈیو ریکارڈنگ تک رسائی کی مانگ کوئی نئی یا اچانک پیدا ہونے والی صورتحال نہیں تھی۔ کمیشن برسوں پہلے ہی ایسی درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے ایک نظام وضع کر چکا تھا۔
یہ بات 2026 کے اس جواب کو اور اہم بنا تی ہے، جس میں کمیشن کہہ رہا ہے کہ پانچ برسوں میں ایسی درخواستوں کی تعداد کا کوئی ریکارڈ کسی مادی شکل میں دستیاب نہیں ہے۔
یہاں ایک اور بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کمیشن نے قواعد میں تبدیلی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے ریکارڈ دستیاب کرانے کے لیے بڑی تعداد میں ملازمین کی ضرورت پڑےگی اور علاقائی انتظامیہ کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کمیشن کے پاس گزشتہ پانچ برسوں میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد کے اعداد و شمار ہی نہیں ہیں، تو ملک بھر میں نافذ ہونے والے پالیسی سے متعلق اس فیصلے کی بنیاد کیا تھی،وزارت قانون نے کمیشن کی تجویز کا جائزہ کس بنیاد پر لیا؟
اس رپورٹ کے سلسلے میں الیکشن کمیشن اور مرکزی وزارت قانون و انصاف سے 9 اکتوبر 2026 کو ای میل کے ذریعے سوال بھیج کر ان کا مؤقف طلب کیا گیا تھا۔ رپورٹ شائع ہونے تک دونوں میں سے کسی کا جواب نہیں ملا تھا۔ ان کا جواب ملنے پر اسے رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔
اسی دوران سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی مدت بھی گھٹا دی گئی
دسمبر 2024 میں رول 93 میں ترمیم کے بعد، مئی 2025 میں الیکشن کمیشن نے انتخابات سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو گرافی اور تصویروں کو محفوظ رکھنے کی مدت میں بھی بڑی تبدیلی کی۔
تیس مئی 2025 کو جاری ہدایات کے تحت، انتخابات سے متعلق ویڈیو اور تصویریں عام طور پر نتائج کے اعلان کے بعد 45 دن تک محفوظ رکھی جائیں گی۔ اس کے بعد ان ریکارڈ کو ضائع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے، انتخابات کے الگ الگ مرحلوں سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے تین ماہ سے ایک سال تک کی الگ الگ مدتیں مقرر تھیں۔
کمیشن نے اس تبدیلی کے جواز میں حالیہ دنوں میں انتخابی ریکارڈ کے غلط استعمال کا حوالہ دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ انتخابات میں امیدوار نہیں رہے لوگ ان ریکارڈ کے منتخب حصوں کو سیاق و سباق سے الگ کرکے استعمال کر رہے تھے، جس سے گمراہ کن معلومات اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا پھیل رہا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس تبدیلی سے چند ماہ پہلے، یعنی جنوری 2025 میں، سپریم کورٹ نے ایک زیر التوا معاملے کی سماعت کے دوران پولنگ بوتھوں کے ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔
یعنی ایک طرف کمیشن نے انتخابی ریکارڈ تک عوام کی رسائی محدود کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی مدت گھٹانے کے فیصلے کیے، وہیں دوسری طرف وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسے ریکارڈ طلب کرنے کی کتنی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی شفافیت سے متعلق ان فیصلوں کے پیچھے درخواستوں کی حقیقی تعداد اور ان کے اثرات کا کوئی منظم جائزہ موجود بھی تھا یا نہیں۔
چنڈی گڑھ میئر کا انتخاب
قابل ذکر ہے کہ جنوری 2024 میں چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے دوران ایک افسر سی سی ٹی وی کیمروں میں ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ اس کے بعد فروری میں سپریم کورٹ نے انتخابی نتیجہ رد کر دیا اور عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار کلدیپ کمار کو قانونی طور پر منتخب میئر قرار دیا۔

