جون 2024 کے بعد سے بی جے پی کے اندر مودی کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ سنگھ کے اندر اب مودی کے بعد کے دور کی صف بندی کھل کر شروع ہو چکی ہے۔ دراصل، اقتدار کے پچیس سال تو پورے ہو گئے، مگر چھبیسویں سال کے آغاز پر ہندوستان کی سڑکوں پر گونجتی ’جین زی‘ کی آواز یہ نوحہ سنا رہی ہے کہ ہاتھی کے پاؤں تلے زمین اب ہمیشہ کے لیےکھسک چکی ہے۔
اکتوبر 7 ، 2001 کی دوپہر جب نریندر دامودرداس مودی نے پہلی بار گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا تھا، تو دہلی کے سیاسی ایوانوں میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شخص آنے والی ایک چوتھائی صدی تک ہندوستانی سیاست کی بساط کو اس طرح الٹ کر رکھ دے گا کہ ریاست، آئین اور سیاست کے تمام تر راستے اس کے محتاج ہو جائیں گے۔
لیکن اقتدار کی یہ پچیس سالہ سلور جوبلی اور چھبیسویں سال میں قدم رکھنے کا یہ مرحلہ کسی فاتحانہ تمکنت یا سیاسی جشن کا سامان بننے کے بجائے، نریندر مودی کی سیاسی زندگی کے سب سے تلخ اور بے رحم بھنور میں تبدیل ہو چکا ہے۔
وہ حکمران جو اپنے ہر بحران کو ہندوتوا اور جارح قوم پرستی کی بھٹی میں جھونک کر کندن بنا لینے کا دعویٰ کرتا تھا، آج تاریخ کے ایسے موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے جہاں اس کے روایتی ہتھکنڈے کند ہو چکے ہیں اور پہلی بار اقتدار کے اس سنگلاخ قلعہ کو اندر اور باہر سے ایسے طوفان کا سامنا ہے جس کی جھنجھلاہٹ اب خود ان کے چہرے سے عیاں ہے۔
اقتدار کی چوتھائی صدی مکمل ہونے کے اس تاریخی لمحے پر جب میں یادداشت کے اوراق پلٹتا ہوں، تو ذہن کے پردے پر وہ زمانہ گھوم جاتا ہے جب نریندر مودی کا نام دلی کے اقتدار کی راہداریوں میں کوئی گونج نہیں رکھتا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی ہیڈکوارٹر11 اشوکا روڈ کے پچھواڑے ایک چھوٹے سے کمرے کے کوارٹر میں مقیم ایک عام تنظیمی جنرل سکریٹری تھے۔
اس کمرے کا نقشہ آج بھی میری آنکھوں میں جوں کا توں محفوظ ہے۔ ایک کونے میں لوہے کا چھوٹا سا چولہا جہاں وہ خود اپنے لیے چائے ابالتے تھے، دوسرے کونے میں ایک ادنیٰ سا پلنگ اور سامنے کی دیوار کے ساتھ کتابوں کی بھری الماری تھی۔
پارٹی نے کچھ عرصے کے لیے انہیں جموں و کشمیر کا انچارج جنرل سکریٹری بھی مقرر کیا تھا۔ چونکہ میں اُس وقت نئی دہلی میں ’کشمیر ٹائمز‘ کے بیورو میں کام کر رہا تھا، اس لیے مودی جی کی سیاسی نقل و حرکت میری پیشہ ورانہ بیٹ کا حصہ بن گئی تھی۔ مگر سچ پوچھیں تو ان سے مکالمہ کرنا یا ان کا اعتماد جیتنا کبھی آسان نہیں رہا۔
صحافت کی دنیا میں جب رپورٹر ایک ہی بیٹ کور کرتے ہیں، تو خود بخود ایک غیر رسمی گروہ تشکیل پا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے اسکول میں بچے ہوم ورک اور نوٹ بکس بانٹنے کے لیے ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔
نئی دہلی کی سیاسی بیٹ پر بھی آپ کو ایسے رفقاء درکار ہوتے ہیں تاکہ جب آپ کسی خصوصی یا اسٹوری کے تعاقب میں ہوں، تو پارٹی ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔
بی جے پی کو کور کرنے والے ہمارے صحافتی گروپ میں ’دی ہندو‘ کی نینا ویاس، ’انڈین ایکسپریس‘ کی پورنیما جوشی، اور صبا نقوی جو شاید اُن دنوں ’انڈیا ٹوڈے‘ میں تھیں، شامل تھیں۔
یہ وہ بے باک صحافی تھیں، خصوصاً نینا ویاس، جن کے تیکھے اور بے لاگ سوالات سےبی جے پی کے منجھے ہوئے ترجمانوں کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا تھا۔
جس دن نریندر مودی بریفنگ کے لیے ڈائس پر بیٹھتے، وہ پریس کانفرنس عموماً تند و تیز بحث و تکرار اور تلخی پر ختم ہوتی اور مودی جی سخت سوالات کی تاب نہ لا کر غصے کے عالم میں واک آؤٹ کر جایا کرتے تھے۔
اُن ہی دنوں میں فری لانسر کے طور پر جرمن ریڈیو ’ڈوئچے ویلے‘ (ڈی ڈبلیو) کے لیے بھی رپورٹنگ کرتا تھا۔ ریڈیو رپورٹ کے تقاضوں کے تحت مجھے انٹرویو کی ساؤنڈ بائٹس درکار ہوتی تھیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر جب میں بائٹ لینے کے لیے پارٹی آفس کے پچھواڑے مودی جی کے کمرے کی کنڈی کھٹکھٹاتا، تو ان کے پلنگ کے آس پاس کرسیوں پر اکثر دیگر ہمعصر صحافیوں، جیسے کمار راجیش، پی آر رمیش اور کے جی سریش وغیرہ کی منڈلی جمی ہوتی تھی۔ کمرے میں قہقہے گونج رہے ہوتے، لطیفوں کا تبادلہ چل رہا ہوتا تھا۔
لیکن جوں ہی میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا اور مودی سے بائٹ کی درخواست کرتا، لمحوں میں کمرے کی فضا منجمد ہو جاتی تھی۔ ایک ناگوار، سہم جانے والی خاموشی پورے ماحول کو لپیٹ میں لے لیتی تھی۔ جب تک میں اپنا ریکارڈنگ آلہ سیٹ کرتا اور وہ دو چار رسمی جملے بولتا تھا، مودی سمیت وہاں بیٹھے تمام صحافی ایسی بے چینی سے پہلو بدل رہے ہوتے جیسے جلد از جلد وہاں سے فرار ہونا چاہتے ہوں۔
میں آج تک یہ معمہ حل نہیں کر پایا کہ وہ سرد مہری میری کشمیری مسلم شناخت کی وجہ سے تھی، یا وہ مجھے نینا ویاس کے تنقیدی گروہ کا کارندہ گردانتے تھے۔
’کشمیر ٹائمز‘ کا بیورو رفیع مارگ پر واقع ’انڈین نیوز پیپر سوسائٹی‘ (آئی این ایس) بلڈنگ میں تھا۔ یہ دو کثیر منزلہ عمارتیں پارلیامنٹ ہاؤس، پریس کلب آف انڈیا، آل انڈیا ریڈیو اور پی ٹی آئی سے محض چند قدم کے فاصلے پر واقع ہیں اور دارالحکومت سے باہر شائع ہونے والے تمام بڑے سو کے قریب اخبارات کے دفاتر اسی بلڈنگ میں ہیں، جن میں ’دی ٹیلی گراف‘، ’دی ہندو‘، ’دکن ہیرالڈ‘ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
ستمبر 2001 کے آخری ہفتے کی ایک دوپہر تھی، میں فیلڈ اسائنمنٹ نمٹا کر واپس عمارت میں داخل ہوا۔ اتفاق سے لفٹ خراب تھی، چنانچہ میں نے سیڑھیوں کا رخ کیا۔ ابھی دو چار قدم چڑھا ہی تھا کہ دیکھا نریندر مودی سیڑھیاں اتر کر نیچے آ رہے ہیں۔ میں نے محض رسمی شائستگی کے تحت سلام کیا۔ مجھے قطعی توقع نہ تھی کہ وہ میری طرف نظر بھی اٹھائیں گے، مگر حیرت انگیز طور پر وہ رک گئے، میرا ہاتھ تھاما اور میرے کام کاج کی بابت پوچھنے لگے۔
اُس وقت گجرات میں بی جے پی کا سفینہ غرقاب ہونے کے دہانے پر تھا۔ وزیر اعلیٰ کیشوبھائی پٹیل کے خلاف اندرونی بغاوت کا لاوا پک چکا تھا، جبکہ شنکر سنگھ واگھیلا پارٹی توڑ کر پہلے ہی راہیں جدا کر چکے تھے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت باہم دست و گریبان دھڑوں کے درمیان کسی متفقہ چہرے کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ مودی جی نے بھی اس اکھاڑے میں اپنا نام اچھال رکھا تھا، لیکن پارٹی حلقوں میں وہ سب سے بے وزن اور کمزور ترین امیدوار مانے جا رہے تھے۔
میرا گجرات کی صوبائی سیاست سے کوئی براہِ راست واسطہ نہیں تھا، مگر ایک صحافی کے فطری تجسس کے تحت میں نے پوچھ ہی لیا؛’نریندر بھائی! گجرات کا کیا ماحوال ہے اور یہ لڑائی کہاں جا کر رکے گی؟‘وہ قدم بہ قدم سیڑھیاں اترتے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ چلتا ہوا عمارت سے باہر نکل آیا۔ ہم دونوں رفیع مارگ کے کنارے سنجے کی چائے کے کھوکھے پر آ کر رک گئے۔
سنجے کا یہ کھوکھہ دہلی کے سیاسی صحافیوں کے لیے کسی ادارے سے کم نہ تھا۔ جب اٹل بہاری واجپئی قائد حزبِ اختلاف تھے اور پریس کلب کے بالمقابل رہائش پذیر تھے، تو شام کے وقت وہ اکثر اپنے دو چھوٹے کتوں کے ساتھ ٹہلتے ہوئے اسی کھوکھے پر آ رکتے اور وہاں کھڑے صحافیوں کے ساتھ مٹی کے کلہڑ میں چائے پیتے ہوئے بے ساختہ گفتگو کیا کرتے تھے۔
سنجے کے اسی چائے کے اسٹال پر کھڑے ہو کر مودی نے مجھے گجرات کی ذات پات کی پیچیدہ سیاست کا فلسفہ سمجھانا شروع کیا۔ وہ کمال حسرت سے کہہ رہے تھے کہ ریاست کو ذات پات کے گھن نے چاٹ لیا ہے اور بی جے پی دہائیوں کی تگ و دو کے بعد بھی کانگریس کے روایتی ’کھام‘ فارمولے، یعنی کشتریہ، ہریجن (دلت)، آدی واسی اور مسلم اتحادکی دیوار میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔
بی جے پی کا سوشل انجینئرنگ کا تجربہ جس میں پاٹیدا یعنی پٹیل اور منجھلی ذاتیں جنہیں او بی سی کہا جاتا ہے کا اتحاد اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔
طویل تجزیے کے بعد وہ اچانک اصل مدعے پر آئے۔ انہوں نے رازداری سے سے کہا کہ وہ جینتا گھوشال، جو اُن دنوں ’آنند بازار پتریکا‘ (اے بی پی) کے بیورو چیف اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے سے ملنے آئے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اپنے دوست گھوشال سے کہوں کہ وہ لال کرشن اڈوانی جی کے گوش گزار کریں کہ گجرات کی باگ ڈور کےلیے مودی بہترین انتخاب ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ گھوشال صاحب سے میری اتنی گہری شناسائی نہ تھی۔ ان دنوں بس علیک سلیک ہی تھی۔ کیونکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ گھوشال دہلی کے اُن گنے چنے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جن کے لیے اس وقت کے ہندوستان کے طاقتور ترین شخص اڈوانی کے گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے۔
اس لیے کسی وقت خبروں کی تصدیق یا تردید کےلیے ان سے مدد لینی پڑتی تھی۔
اگلے روز جب میں گھوشال صاحب کے دفتر گیا، تو دیکھا کہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی سینئر صحافی موہا چٹرجی بھی وہیں براجمان تھیں۔ وہ گھوشال پر اصرار کر رہی تھیں کہ وہ اڈوانی کے پاس مودی کی وکالت کریں، کیونکہ وہ دہلی کے صحافیوں سے واقف ہے۔ اس لے اگر وہ گجرات کا وزیر اعلیٰ بنتا ہے، تو اگر وہاں جانا ہوا تو ٹھہرنے وغیرہ کو جگہ تو ملے گی۔
گھوشال ہنس کر کہنے لگے؛
’بھلا اڈوانی جی گجرات کے معاملے میں، جہاں کی گاندھی نگر سیٹ سے وہ خود لوک سبھا پہنچتے ہیں، مجھ جیسے ایک بنگالی صحافی کے کہنے پر پارٹی کے اتنے بڑے فیصلے پر مہر کیوں لگائیں گے؟‘
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ خود وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مودی سے سخت بیزار تھے۔ ستمبر2000 میں جب واجپئی سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے، تو مودی نے وہاں پہنچ کر گجراتی تارکینِ وطن کے بڑے بڑے شو اور اجتماعات ترتیب دیے تھے۔ بالکل اسی طرز کے پرشکوہ جلسے جن کے انعقاد کے وہ آجکل عادی ہو چکے ہیں۔
واجپئی تقریب میں تو شریک ہوئے مگر ان کے ماتھے کی تیوری نہ اتری۔ وہ کسی باہری ملک میں اس طرح کا شو کرنے کے خلاف تھے۔ دہلی واپسی پر مودی پارٹی دفتر میں واجپئی کے سامنے آنے سے کتراتے تھے۔
ایک دن واجپئی کی نگاہ ان پر پڑ ہی گئی تو انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے مگر زہریلے طنز میں پوچھا؛ ’ارے نریندر کب سے ہندوستان میں ہو؟ آج کل صرف امریکہ ہی میں ہوتے ہو‘!
مرکزی قیادت کی اس بیزاری، واجپئی کے سرد رویے اور گجرات میں کسی غالب ذات کی پشت پناہی نہ ہونے کے باوجود قسمت نے مودی کی یاوری کی۔ درحقیقت کسی بڑی ذات کا تعلق نہ ہونا ہی ان کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔
پاٹیداروں اور کشتریوں کی انا کی جنگ میں ایک ایسا غیر معروف شخص جو دونوں میں سے کسی دھڑے کا نہیں تھا، دونوں کے لیے قابلِقبول مصالحتی مہرہ بن گیا۔ کیشوبھائی پٹیل نے بھی غالباً یہ سوچ کر خاموشی سادھ لی کہ یہ محض چند ماہ کا ’اسٹاپ گیپ ارینجمنٹ‘ ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں گے۔
مگر مودی کے ارادے کہیں زیادہ خونخوار اور دور رس تھے۔ انہوں نے وشو ہندو پریشد کے شعلہ بیان پروین توگڑیا سے اتحاد قائم کیا تھا اور سیاست کو ذات پات کے کھکھیڑ سے نکال کر جارح ہندوتوا کے دہکتے ہوئے میدان میں لا کھڑا کیا۔
پاٹیداروں اور پسماندہ ذاتوں کو مسلم دشمنی کے ایک مشترکہ دھاگے میں پرو کر ایک نیا انتخابی حلقہ تراش لیا گیا جس نے گجرات پر اگلے بارہ سال تک ان کے بلا شرکت غیرے راج کی ضمانت فراہم کر دی۔ پھر فروری 2002 کے ریاست گیر مسلم کش فسادات نے مودی کو ایک ایسی پولرائزنگ علامت بنا دیا جسے ہندو توا کا سپہ سالار مان لیا گیا، اور ستمبر2002 میں احمد آباد کے اکشر دھام مندر پر حملے نے انتخابی بساط پر ان کے حق میں آخری کیل ٹھونک دی۔
گجرات میں جب انہوں نے اقتدار میں براجمان رہنے کا فارمولہ تیار کرلیا تو پروین توگڑیا اور اس کے دست راست گوردھن زڑافیا کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر ا ن کو باہر کردیا۔
دہلی کے تخت پر2014 میں براجمان ہونے کے بعد مودی نے پچھلی دہائی میں ہر بحران کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی شاطرانہ مشق جاری رکھی۔ 2016 میں نوٹ بندی کے معاشی خود کش حملے نے کروڑوں گھرانوں کے چولہے بجھا دیے، مگر مودی نے اسے کمال ہوشیاری سے بدعنوانی کے خلاف اور قومی سلامتی کی قربانی کا نام دے کر عوام کے گلے اتار دیا۔2019 کے انتخابات سے عین قبل جب بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے باعث ان کا گراف تیزی سے گر رہا تھا، تو پلوامہ کے المیے اور بالاکوٹ پر بمباری نے ایسا طوفان کھڑا کیا کہ سارا ملک جنگی جنون کے نشے میں مبتلا ہو گیا۔
اگرچہ بعد میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے اس پورے سانحے کے اندوہناک پہلوؤں اور حکومتی غفلتوں سے پردہ اٹھا کر مودی کے اخلاقی بت کو پاش پاش کر دیا، مگر تب تک وہ الیکشن جیت چکے تھے۔
لیکن جون 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے چوتھائی صدی میں پہلی بار مودی کے اس طلسماتی بت پر کاری ضرب لگائی۔ وارانسی کی اپنی نشست پر جہاں2019 میں انہوں نے 4لاکھ 79ہزار ووٹوں کے فرق سے الیکشن جیتا تھا، 2024 میں صرف 1لاکھ 52ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت گئے۔
ابتدائی کئی راؤنڈ میں وہ کانگریس کے ایسے امیدوار، جس کی مہم چلانے بھی کوئی لیڈر نہیں آیا تھا، سے پیچھے چل رہے تھے۔ بی جے پی تن تنہا62 نشستوں سے محروم ہو کر سادہ اکثریت سے محروم ہو گئی۔
زمینی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بی جے پی دوسو سیٹوں کا ہندسہ پار نہیں کرپاتی، اگر درجن بھر سیٹوں پر الیکشن کمیشن کی مدد شامل نہ ہوتی۔ 2024 میں وہ سرحد پار پاکستان کا خوف نہیں بیچ سکے، لہٰذا انہوں نے تاریخ کی غلیظ ترین انتخابی مہم چلاتے ہوئے ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا، ماؤں بہنوں کے ’منگل سوتر‘ چھیننے کا خوف دلایا اور اقلیتوں کو ’گھس بیٹھئے‘ قرار دیا۔
مگر اس بار اندرونی نفرت کا یہ زہر اس طرح کام نہ کر سکا جس طرح 2019 کے جنگی ماحول نے کیا تھا۔
انتخابی دھچکے اور اکثریت سے محرومی کے بعد جب مودی نے دیکھا کہ جمہوری میدان میں زمین تنگ ہو رہی ہے، تو مبینہ طور پر انتخابی فہرستوں میں شاطرانہ رد و بدل اور ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر)اور فارم 6 کے ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت مخالف ووٹروں کا صفایا کرنے کی سازشیں شروع کی گئیں، جسے آج پورا ملک ’ووٹ چوری‘ کے نام سے جانتا ہے۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ جہاں پولنگ بوتھ پر شکست نوشت دیوار نظر آئی، وہاں الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹر لسٹوں کا ہی صفایا کر دیا گیا۔ یہی ووٹ چوری اور ادارہ جاتی ڈکیتی وہ چنگاری بنی جس نے آج دہلی کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
سڑکوں پر شروع ہونے والا ’جنتر منترکا احتجاج کوئی روایتی سیاسی واویلا نہیں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر شروع ہونے والی اس مہم کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اب براہ راست نریندر مودی، امت شاہ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے گریبان تک پہنچا دیا ہے۔
دہلی کا محاصرہ توڑنے کے لیے جب حکومت نے پچاس سے زائد میٹرو اسٹیشن کو تالے لگائے، دہلی آنے والی ٹرینیں منسوخ کیں اور ہزاروں کی تعداد میں پیرا ملٹری فورسز کے دستے تعینات کیے، تو دنیا نے دیکھا کہ وہ حکومت جو خود کو 56انچ کے سینے کی علامت کہتی تھی، اپنے ہی دارالحکومت میں قیدی بن چکی ہے۔
سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو نے ایک بار کہا تھا کہ ہندوستانی ریاست ایک بے حس اور طاقتور ہاتھی کی مانند ہے؛ یہ کسی بھی احتجاج یا عوامی چیخ و پکار پر اپنا سارا بھاری بھرکم جسم ڈال کر اتنی دیر تک بیٹھ سکتی ہے جب تک کہ وہ احتجاج خود اپنے بوجھ تلے دم نہ توڑ دے۔
کسان تحریک میں بھی ریاست نے اسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تھا، مگر کسانوں کے معاشی گھیراؤ نے بالآخر ہاتھی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن آج جنتر منتر کے سامنے جو قوت صف آرا ہے، ریاست کی پرانی مشینری اس کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہی ہے۔
اس تحریک کی باگ ڈور روایتی اور بوڑھی سیاست کے ہاتھ میں نہیں ہے؛ یہ ’جنریشن زی‘(جین زی) کی سرکشی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جوامتحانی پرچوں کے اسیکنڈلوں، ڈگریوں کے باوجود روزگار کے فقدان اور تباہ حال سرکاری اسکولوں سے تنگ آ کر میدان میں اتری ہے۔
اس نسل کو ای ڈی اور سی بی آئی کی پرانی فائلوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔ وہ سوشل میڈیا کے جس اسلوب میں مودی کی تقاریر کا مذاق اڑا رہے ہیں، بی جے پی کا پورا آئی ٹی سیل اور اس کا رائٹ ونگ ایکو سسٹم اس بے باکی کے سامنے گنگ ہو چکا ہے۔
معروف صحافی شیکھر گپتا کے الفاظ میں، مودی کا پچیس سالہ اقتدار جن تین ستونوں پر ایستادہ تھاجارح ہندو راشٹر کا بیانیہ، بغیر کسی لیکیج کے براہِ راست فلاحی اسکیموں کی ترسیل، اور چمکتی ہوئی سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کا مادی انفراسٹرکچر۔ تینوں بنیادیں ایک ساتھ ڈول رہی ہیں۔
سابق فنانس سکریٹری سبھاش چندر گرگ نے جی ڈی پی کے سرکاری اعداد و شمار کے جھوٹ کو بے نقاب کر کے جو بحث چھیڑی ہے، اس نے نام نہاد معاشی استحکام کا بھرم کھول دیا ہے۔ مہنگائی کی بلند ترین شرح، ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار روپیہ، اسٹاک مارکیٹ میں مڈل کلاس کے کھربوں روپوں کا صفایا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں(ایف پی آئی) کا ہندستان سے انخلا ثابت کر رہا ہے کہ مودی کا معاشی غبارہ پھٹ چکا ہے۔
عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے تئیں عوامی بداعتمادی نے اس بحران کو ایک گہرے آئینی المیے میں بدل دیا ہے۔
مگر سب سے زیادہ سنگین دراڑیں خود بی جے پی کے اپنے خیمے اور ناگپور کے دربار میں پڑ چکی ہیں۔ تاریخ کا اصول ہے کہ آمرانہ قیادت کی گرفت اسی وقت تک مضبوط رہتی ہے جب تک وہ فتوحات کی ضمانت دیتی رہے۔
جون 2024 کے بعد سے بی جے پی کے اندر مودی کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اتحاد نے گنگا کے میدانوں میں بی جے پی کو جو پٹخنی دی ہے، اس نے پارٹی کی ریاستی اکائیوں کو بغاوت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اب دہلی دربار کے طفیلی نہیں رہے۔ انہوں نے رام مندر کے ’چندہ چوری‘ اسیکنڈل کے داغوں سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے ہندو توا کے کٹر حامیوں اور ناگپور کے سنگھ ہیڈکوارٹر میں اپنی الگ دھاک بٹھا لی ہے۔
ناگپور میں موہن بھاگوت کھلے عام یوگی کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، جبکہ دہلی کی مرکزی قیادت یوگی کے پر کترنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
حکمران اتحاد کی چھوٹی حلیف پارٹیاں جو کل تک مودی کی دہلیز پر سر بسجود رہتی تھیں، آج کھلے عام تضحیک پر اتر آئی ہیں۔ چراغ پاسوان بہار کے اندر بی جے پی حکومت کے نظم و نسق کا تمسخر اڑا رہے ہیں، تو اوم پرکاش راج بھر وزیر اعظم کے ساتھ اپنی اندرونی بات چیت کو میڈیا میں لا کر مرکزی قیادت کو تماشائے اہلِ کرم بنا رہے ہیں۔
کابینہ میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا، وزرا کی اسامیاں خالی ہونے کے باوجود کابینہ میں رد و بدل کی ہمت نہ ہونا، اور پارلیمنٹ کو غیر معینہ مدت تک ملتوی رکھنے کے بعد بھی باضابطہ ختم نہ کر پانا مودی کے اندر کی تاریخی جھجھک اور خوف کا بین ثبوت ہے۔
اس پورے ڈرامے میں سب سے گہرا تذبذب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خیمے میں ہے۔ سنگھ بنیادی طور پر شخصیت پرستی اور ’فرد واحد‘ کی لیڈرشپ کے ہمیشہ خلاف رہا ہے۔ مودی نے گزشتہ دس سالوں میں سنگھ کو اس دلیل کے تحت خاموش رکھا کہ وہ سنگھ کے صد سالہ خواب ، دفعہ 370 کی منسوخی، رام مندر کی تعمیر اور ہندوتوا کے نفاذکو برق رفتاری سے پورا کر رہے ہیں۔
سنگھ نے اپنے تنظیمی اصولوں کا گلا گھونٹ کر مودی کے استبداد کو اس لیے برداشت کیا کہ ان کا نظریاتی ایجنڈا بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر آج جب مودی عوام کی نگاہوں میں گر رہے ہیں، ووٹ چوری کے الزامات الیکشن کمیشن کے ساتھ سنگھ کی ساکھ کو بھی داغدار کر رہے ہیں، اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار معیشت ڈگمگا رہی ہے، تو ناگپور میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے؛ کیا سنگھ ایک غیر مقبول اور ڈھلتے ہوئے سورج کا بوجھ ہمیشہ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھے گا؟
سنگھ کے اندر اب مودی کے بعد کے دور کی صف بندی کھل کر شروع ہو چکی ہے۔ امت شاہ نے اگرچہ دہلی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے ہیں، مگر تنظیمی کیڈر اور عوام میں ان کی ناپسندیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
مہاراشٹر کے دیویندر فڑنویس ہوں یا یوپی کے یوگی آدتیہ ناتھ، متبادل قیادت کے تیور اب مودی کے لیے کسی خفیہ خطرے کے بجائے ایک کھلا چیلنج بن چکے ہیں۔
جب میں رفیع مارگ پر آئی این ایس بلڈنگ کی اُن خاموش سیڑھیوں کو یاد کرتا ہوں جہاں ایک بے چین، کمزور اور سیاسی سہارے کے متلاشی نریندر مودی نے اڈوانی کی سفارش مانگی تھی، تو اقتدار کی بے ثباتی کا فلسفہ دل پر نقش ہو جاتا ہے۔
جس شخص نے گجرات کے خونی فسادات، اقلیت دشمنی اور ذات پات کے شاطرانہ کھیل کے ملبے پر اپنی تاج پوشی کا محل کھڑا کیا تھا، آج 25 سال بعد تاریخ کے ترازو نے اسی جگہ لا کھڑا کیا ہے۔
سنجے کے کھوکھے پر چائے پیتے ہوئے جس شخص نے اقتدار کی شطرنج بچھائی تھی، آج لوک کلیان مارگ کے شیش محل میں قید وہی مودی اپنی زندگی کی بدترین تنہائی اور بے بسی سے دوچار ہے۔
اقتدار کے پچیس سال تو پورے ہو گئے، مگر چھبیسویں سال کے آغاز پر ہندوستان کی سڑکوں پر مچلتی ’جنریشن زی‘ کی گونج یہ نوحہ سنا رہی ہے کہ ہاتھی کے پاؤں تلے زمین اب ہمیشہ کے لیےکھسک چکی ہے۔

