دبئی: ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور پروازوں کی معطلی نے عمرہ زائرین کے سفر کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ٹریول ایجنٹوں کے مطابق عمرہ کی بکنگ اور پوچھ گچھ میں کمی آئی ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں ہزاروں مسافروں کے سفر متاثر ہوئے ہیں۔
سعودی شہری ہوا بازی اتھاریٹی کے مطابق ریاض ہوائی اڈے کی بندش 17 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے آنے اور جانے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ہندوستانی فضائی کمپنیوں کے علاوہ یورپ، خلیجی خطے اور ایشیا کی متعدد ایئرلائنز نے بھی سعودی عرب کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں ٹریول ایجنٹوں نے بتایا کہ اکتوبر سے جنوری تک عموماً عمرہ سفر کا مصروف زمانہ ہوتا ہے، لیکن موجودہ بحران کے بعد زائرین نئی بکنگ سے پہلے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق مسافروں کو خدشہ ہے کہ سفر کے دوران پرواز منسوخ ہو سکتی ہے یا واپسی کے لیے متبادل انتظام کرنا پڑ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کی شہری ہوا بازی اتھاریٹی کے مطابق 13 اکتوبر تک ڈھاکہ سے چلنے والی 82 براہِ راست اور رابطہ پروازیں متاثر ہوئیں، جس سے 13,071 مسافروں کے سفر میں خلل پڑا۔ بعد میں متاثرہ پروازوں کی تعداد بڑھ کر 86 ہو گئی اور 13,490 مسافر متاثر ہوئے۔ متاثرہ مسافروں میں سعودی عرب جانے والے تارکینِ وطن اور عمرہ زائرین شامل ہیں۔
ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور جدہ کے لیے تمام پروازیں 17 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں، جبکہ انڈیگو اور اکاسا ایئر نے متاثرہ سعودی راستوں پر خدمات معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئر فرانس۔ کے ایل ایم، اتحاد ایئرویز اور لفتھانزا گروپ نے بھی مختلف مدت کے لیے ریاض اور دیگر سعودی شہروں کی پروازیں منسوخ یا محدود کر دی ہیں۔
بنگلہ دیش میں کچھ عمرہ زائرین کو متبادل پروازوں کے لیے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑا۔ ایک ایجنسی کے مطابق 40 زائرین کو سلام ایئر کی پروازوں پر منتقل کرنا پڑا، جس سے ٹکٹ کی قیمت 30 ہزار ٹاکا سے بڑھ کر 60 ہزار ٹاکا ہو گئی۔
سعودی عرب کے تمام ہوائی اڈوں کی صورت حال یکساں نہیں ہے۔ ٹریول ایجنٹوں کے مطابق جدہ میں پروازوں کا آپریشن بڑی حد تک جاری ہے، جبکہ دمام اور مدینہ بعض مسافروں کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم متبادل ہوائی اڈے تک زمینی سفر سے وقت اور اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورت حال کی تصدیق کرنی ہوگی، کیونکہ ہوائی اڈوں کی بندش اور ایئرلائنز کی معطلی کی مدت میں تبدیلی جاری ہے۔

