ڈھاکا: بنگلہ دیش میں مارچ سے جاری خسرہ کی وبا کے دوران تقریباً 900 مشتبہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ متاثرین میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، معمول کی ویکسینیشن میں تعطل اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں کمی نے وبا کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کورونا وبا اور سیاسی عدم استحکام کے باعث بچوں کی ویکسینیشن متاثر ہوئی، جس سے متعدد بچے مکمل تحفظ سے محروم رہ گئے۔ رپورٹ میں ویکسینیشن کوریج تقریباً 87 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ خسرہ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تقریباً 95 فیصد کوریج کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
حکومت نے چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کے لیے ہنگامی خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم شروع کی۔ اپریل کے آغاز میں ترجیحی علاقوں سے شروع ہونے والی مہم بعد میں ملک بھر تک پھیلا دی گئی۔ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور عالمی ویکسین اتحاد گاوی نے حکومتی اقدامات میں معاونت کی۔
وبا سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں میں آئسولیشن کی سہولتیں بڑھائی گئیں، ضلعی ریپڈ رسپانس ٹیمیں فعال کی گئیں اور متاثرہ بچوں کو وٹامن اے فراہم کیا گیا۔ خاندانوں کو بچوں کی ویکسینیشن کے لیے آمادہ کرنے کی غرض سے آگاہی سرگرمیاں بھی شروع کی گئیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ معمول کی ویکسینیشن میں خلا برقرار رہنے اور والدین میں ہچکچاہٹ کے باعث انفیکشن کی نئی لہر کا خطرہ موجود ہے۔

