’دعا کرنا خیریت سے آ جاؤں‘: ریاض ایئرپورٹ پر جان سے گئے پاکستانی کی کہانی

399224 782750840


سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر گذشتہ ہفتے حوثیوں کے حملے میں جان سے گئے پاکستانی شہری رضوان اللہ نے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ’دعا کرنا خیریت سے واپس آ جاؤں‘، لیکن وہ اس روز کام سے زندہ واپس نہ آ سکے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ رضوان اللہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کا سامان لے جانے والے پورٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔

ان کے بڑے بھائی طاہر خان کے مطابق حملے کے وقت وہ ڈیوٹی پر تھے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے بعد وہاں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر تنازعے کے دوران ہو رہے ہیں جس سے خطے میں فضائی آمدورفت، توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

اس صورت حال نے بیرون ملک کام کرنے والے محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

رضوان اللہ کے تین کم عمر بچے ہیں اور وہ تقریباً 13 ماہ قبل روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے۔

ان کی موت کے چھ دن بعد میت آبائی علاقے باجوڑ پہنچائی گئی، جہاں اہل خانہ نے ان کی تدفین کی۔

گذشتہ ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں مجموعی طور پر 18 افراد جان سے گئے، جن میں رضوان اللہ بھی شامل تھے۔ حملے کے بعد ہوائی اڈے کو بند کرکے پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں، جبکہ متاثرین میں بعض عمرہ زائرین بھی شامل تھے۔

’پہلے بتایا گیا کہ بھائی ٹریفک حادثے میں زخمی ہوئے‘

رضوان اللہ کے بڑے بھائی طاہر خان خود سعودی عرب کے شہر جدہ کے ہوائی اڈے پر پورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

طاہر خان نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ جدہ ایئرپورٹ پر موجود تھے کہ انہیں ایک رشتہ دار کا فون آیا، جس میں بتایا گیا کہ رضوان اللہ سڑک کے ایک ٹریفک حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

تاہم طاہر خان کے مطابق انہیں شبہ ہوا کہ معاملہ ٹریفک حادثے کا نہیں بلکہ ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کا ہے۔

انہوں نے بتایا ’مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ٹریفک حادثہ نہیں ہوا بلکہ ایئرپورٹ پر حملے میں کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔

’میں فوری طور پر جدہ سے ریاض روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میرا بھائی حملے میں جان سے جا چکا ہے۔‘

طاہر خان کے مطابق رضوان اللہ کی میت ہسپتال میں تھی، جہاں سے ضروری دستاویزات اور دیگر کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں چھ دن لگے، جس کے بعد وہ اپنے بھائی کی میت لے کر باجوڑ پہنچے اور آبائی علاقے میں تدفین کی۔

’ڈیوٹی پر جانے سے پہلے دوستوں سے دعا کے لیے کہا تھا‘

طاہر خان نے بتایا کہ رضوان اللہ ریاض ایئرپورٹ پر مسافروں کا سامان منتقل کرنے کا کام کرتے تھے اور حملے کے روز بھی معمول کے مطابق ڈیوٹی پر گئے تھے۔

ان کے مطابق رضوان اللہ نے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اپنے دوستوں سے خیریت سے واپسی کی دعا کرنے کو کہا تھا۔

طاہر خان نے بتایا ’وہ ریاض ایئرپورٹ پر بطور پورٹر کام کرتے تھے۔ اسی دن ڈیوٹی پر جانے سے پہلے دوستوں سے کہا تھا کہ دعا کرنا خیریت سے واپس آ جاؤں لیکن دوران ڈیوٹی حملہ ہو گیا اور اسی میں جان سے گئے۔‘

’اپنی مرضی سے روزگار کے لیے سعودی عرب گئے تھے‘

رضوان اللہ پانچ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے بڑے بھائی طاہر خان کے مطابق خاندان نے ان پر روزگار یا گھر کے اخراجات کا کوئی خاص بوجھ نہیں ڈالا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے بہتر روزگار کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔

طاہر خان نے بتایا ’وہ ہم سے چھوٹے تھے، اس لیے ہم نے ان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا تھا۔

’وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب گئے تھے اور جب دل چاہتا تھا تو گھر بھی آ جاتے تھے۔‘

ان کے مطابق رضوان اللہ کچھ عرصہ قبل بیماری کے باعث سعودی عرب سے اپنے آبائی علاقے واپس آئے تھے، جہاں تقریباً آٹھ ماہ گزارنے کے بعد دوبارہ روزگار کے لیے سعودی عرب چلے گئے۔

واپسی کے بعد انہوں نے ریاض ایئرپورٹ پر بطور پورٹر کام شروع کیا، جہاں وہ حملے کی زد میں آ گئے۔

طاہر خان نے بتایا کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر پورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں اور اسی روزگار سے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔

’بہت بڑا صدمہ ہے، لیکن اللہ کی مرضی‘

رضوان اللہ کی موت کے بعد ان کے تین کم عمر بچے والد کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں۔

طاہر خان نے بھائی کی موت پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے، لیکن یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انسان اس میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘

سعودی عرب کئی دہائیوں سے پاکستانیوں کے لیے روزگار کی ایک اہم منزل رہا ہے اور وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے ساتھ ان کے خاندانوں کی کفالت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایسے میں سعودی عرب میں بڑھتا ہوا عدم استحکام ان خاندانوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے جن کا گزر بسر وہاں کام کرنے والے اپنے پیاروں کی آمدن پر منحصر ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ