کرناٹک ایس آئی آر میں ’موت‘ کو وجہ بتاتے ہوئے37 لوگوں نے ووٹر لسٹ سے اپنا نام ہٹانے کی عرضی دی: رپورٹ

Karnataka SIR


کرناٹک کے بنگلورو میں ایس آئی آر کے خلاف 30 مئی 2026 کو  مظاہرہ کرتے ہوئے لوگ۔ تصویر: پی ٹی آئی/شیلیندر بھوجک

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں ایس آئی آرکے دوران کم از کم 37 لوگوں نے اپنے ہی نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے درخواست دی ہے، اور اس کی وجہ موت بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 334  لوگوں کے جوڑوں نے ایک دوسرے کو مردہ بتایا ہے۔ یعنی، ’ایک شخص نے دوسرے کا نام  ہٹانے کے لیے فارم 7 بھرا اور اس کی وجہ موت بتائی۔ اس کے بعد جس شخص کو مردہ بتایاگیا تھا، اس نے بھی اسی طرح کا فارم بھر کر پہلے شخص کو مردہ بتایا۔‘

نئی دہلی:کرناٹک میں ایس آئی آرکے دوران کم از کم 37 لوگوں نے اپنے ہی نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے درخواست دی ہے۔ ان لوگوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کی موت ہو چکی ہے۔

دی ہندوکے تجزیے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ  334 لوگوں کے جوڑے نے ایک دوسرے کو مردہ بتایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ’ایک شخص نے دوسرے کا نام ہٹانے کے لیے فارم 7 بھرا اور اس کی وجہ موت بتائی۔ اس کے بعد جس شخص کو مردہ بتایاگیا تھا، اس نے بھی اسی طرح کا فارم بھر کر پہلے شخص کو مردہ بتایا۔‘

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے تجزیے، جسے مینڈیٹ اینالیٹکس اینڈ کنسلٹنگ (ایم اے سی انسائٹس)نے پروسیس کیا ہے، کے مطابق ، ان تمام معاملوں میں ہر جوڑے کے دونوں لوگوں کے نام ایک ہی پولنگ بوتھ کی ووٹر لسٹ میں درج تھے۔

یہ  حیران کن معاملے ایسے وقت  میں سامنے آئے ہیں، جب ملک بھر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آر کو واپس لینے کے مطالبے پر احتجاج ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم تین ایسے فارم ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع ہونے کے بعد بھرے گئے، جن میں لوگوں نے خود کو ’مردہ‘بتاتے ہوئے اپنا نام ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کے نام شروع میں ووٹر لسٹ کے مسودے میں شامل تھے۔

دی ہندوکی رپورٹ سافٹ ویئر میں خرابی کے امکان کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق،’بیاتارائن پورہ میں 25سالہ سدھا کے این کا نام فارم 7بھرنے والے شخص اور جس شخص کا نام ہٹانے کی مانگ کی گئی، دونوں کے طور پر درج تھا۔ نام ہٹانے کی وجہ ’موت‘بتائی گئی تھی۔ تاہم، بوتھ لیول افسر (بی ایل او)نے دی ہندوکو بتایا کہ فارم میں شری کانت نام  کےایک ووٹر کا نام ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی اور یہ فارم ان کی اہلیہ سدھا نے بھرا تھا۔ لیکن ووٹر لسٹ میں شری کانت کا نام سدھا کے این درج تھا۔‘بی ایل او اس تضاد کی وجہ نہیں بتا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہ سافٹ ویئر میں پیدا ہونے والی خرابی تھی یا یہ تضاد پہلے کی ووٹر لسٹوں میں بھی موجود تھا۔

اس سے پہلے، یہ خبر سامنے آئی تھی کہ کرناٹک میں ایسے 28,832فارم 7  ہیں، جن کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے افسران نے عام نہیں کی ہیں۔

کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر نے بتایا تھا کہ ریاست میں 16 جون سے 28 اگست کے درمیان مجموعی طور پر 1,10,654 فارم 7 بھرے گئے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے پورٹل پر ریاست میں ایسی صرف 81,822 درخواستیں درج تھیں۔

دی وائرنے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا  ہےکہ کرناٹک میں ایس آئی آر کا عمل کئی بے ضابطگیوں سے گھرا رہا ہے۔ ان بے ضابطگیوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب لوگوں نے اپنی شکایتیں سامنے رکھیں۔

شکایت کرنے والوں میں ایسے ووٹر بھی شامل ہیں، جنہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کے نام ہٹانے کے لیے فارم 7 کے تحت درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ، ایک ضلع مجسٹریٹ نے الزام لگایا تھا کہ ان پر تقریباً 3,000 ووٹروں کے نام ہٹانے کا دباؤ تھا۔

یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ فارم 7 کے تحت دی گئی زیادہ تر درخواستوں میں مسلم ووٹروں کے نام ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ