برطانوی اداکار رسل برینڈ پر زیادتی کا الزام، خاتون نے عدالت میں بیان دے دیا

russell brand1766574598 0



برطانوی اداکار اور کامیڈین رسل برینڈ کے خلاف جاری مقدمے کی سماعت کے دوران ایک خاتون کا پولیس کو دیا گیا بیان لندن کی عدالت میں جیوری کے سامنے چلایا گیا۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ 2004 میں لندن کے ایک بار میں پارٹی کے دوران رسل برانڈ نے انہیں زبردستی قریبی بیت الخلا میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس وقت ایم ٹی وی میں کام کرتی تھیں اور ٹیلی ویژن پر رسل برینڈ کو دیکھنے کے بعد ان سے ملنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق پارٹی میں گفتگو کے دوران رسل برینڈ نے ان کا بازو پکڑا اور انہیں قریبی ٹوائلٹ کی طرف لے گئے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ وہاں ملزم نے ان کے سر اور بالوں کو زبردستی پکڑے رکھا، جبکہ وہ خوف اور صدمے کی کیفیت میں کچھ نہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات شروع ہونے کے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا۔

عدالت میں رسل برینڈ کے وکیل نے خاتون کے بیان پر سوالات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر بار میں ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو وہاں موجود دوسرے افراد بھی اسے دیکھ سکتے تھے۔ خاتون نے جواب میں بتایا کہ انہوں نے 2023 میں رسل برینڈ کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم اور اخباری رپورٹ سامنے آنے کے بعد پہلی مرتبہ اس واقعے کو ریپ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے وہ لوگوں کے فیصلوں اور شرمندگی کے خوف کے باعث بات کرنے سے گریز کرتی رہی تھیں۔

رسل برینڈ کے خلاف 1999 سے 2009 کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات کے سلسلے میں مجموعی طور پر چھ خواتین سے متعلق الزامات زیرِ بحث ہیں۔ ان میں ریپ کے تین، جنسی زیادتی کے تین اور غیر اخلاقی حملے کا ایک الزام شامل بتایا گیا ہے۔ برینڈ ان تمام الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

گرفتاری کے بعد پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں رسل برینڈ نے کہا تھا کہ انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ اس کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممکن ہے شکایت کنندگان نے گزرے ہوئے واقعات کو بعد میں مختلف انداز سے یاد کیا ہو۔ مقدمے میں خاتون کے الزامات، دفاع کے مؤقف اور دیگر شواہد کا جائزہ عدالتی کارروائی کے دوران لیا جائے گا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ